نئی دہلی(اوصاف نیوز) کرناٹک قانون ساز کونسل میں اپوزیشن کے چیف وہپ اور بی جے پی لیڈر این روی کمار کیخلاف مسلم ڈپٹی کمشنر فوزیہ ترنم کو ‘پاکستانی ہونے کے الزام ’پر مقدمہ درج کرلیا، مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ این روی کمار نے مسلمانوں کیخلاف نفرت کو ہوادینے سمیت مختلف الزامات عائد کئے جس سے مسلمانوں کو دلی تکلیف ہوئی اور موصوفہ ڈپٹی کمشنر کی زندگی خطرےمیں پڑگئی ۔
دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق ، 24 مئی کو بی جے پی کے احتجاج کے دوران روی کمار نے آئی اے ایس افسر ترنم پر کانگریس پارٹی کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ‘ وہ پاکستان سے آئی ہوئی لگتی ہیں۔وہ پاکستانی ہیں تو ہندوستان چھوڑدیں
روی کمار نے ڈپٹی کمشنر ترنم سے پوچھا کہ کیا وہ پاکستان سے آئی ہیں۔ان کے بیان کے بعد دتاتریہ اکلاکھی نامی شخص کی شکایت پر روی کمار کے خلاف مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے اور پولیس افسران کو غلام کہتے ہوئے توہین آمیز زبان استعمال کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ان پر درج فہرست ذات کے لوگوں اور ضلع انچارج وزیر پریانک کھڑگے کو دھمکی دینے اور ان کی توہین کرنے کا بھی الزام ہے۔
سوموار (26 مئی) کو مسلم خواتین لیڈروں نے کلبرگی کے پولیس کمشنر شرنپا ایس ڈی کو ایک میمورنڈم پیش کیا اور پولیس سے بی جے پی لیڈر کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
مسلم خواتین رہنماؤں کے وفد نے کہا، ‘یہ نفرت اور تعصب کا معاملہ ہے۔ یہ ان کے وقار اور حب الوطنی پر براہ راست حملہ ہے۔’
کراچی سے تعلق رکھنے والے سابق کرکٹر اور کوچ کے پاؤں میں زخم، ٹانگیں کاٹ دی گئیں
