Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

اسرائیل کے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے سے ایک اور تباہی کا خدشہ ہے، اقوام متحدہ

امریکہ(نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ اسرائیل کے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے سے ’ایک اور تباہی‘ کا خدشہ ہے جس کے دور رس نتائج ہوں گے، جبکہ محصور علاقے میں قحط کے خطرے کے پیش نظر تل ابیب پر ملک کے اندر اور بیرونِ ملک تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نجی اخبار میں شائع خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر قبضے کے اعلان کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک غیر معمولی ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، غزہ پر قبضےکا منصوبہ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ نے منظور کیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل میروسلاو ینچا نے کہا کہ ’اگر یہ منصوبے نافذ کیے گئے تو غالب امکان ہے کہ یہ غزہ میں ایک اور تباہی کو جنم دیں گے، جو پورے خطے میں اثر انداز ہوگی اور مزید جبری نقل مکانی، ہلاکتوں اور تباہی کا باعث بنے گی‘۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے اوچا کے مطابق اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے غذائی قلت کے باعث 98 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 37 کی اموات جولائی سے اب تک ہوئیں، اوچا کے کوآرڈینیشن ڈائریکٹر رامیش راجاسنگھم نے کہا ’یہ اب کوئی آنے والا غذائی بحران نہیں، بلکہ کھلا قحط ہے‘۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے کہا کہ ’دو ملین سے زائد متاثرین ناقابلِ برداشت اذیت سہہ رہے ہی، انہوں نے اسرائیلی منصوبے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے غیر ملکی صحافیوں کو غزہ جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی جارحیت میں اب تک کم از کم 61 ہزار 430 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، غزہ کے شہری دفاع کے ادارے کے مطابق اتوار کو اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 27 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 11 وہ لوگ شامل ہیں جو امدادی تقسیم کے مراکز کے قریب انتظار کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں۔سابق پاکستانی وزیراعظم کا بیٹا ڈاکوؤں کے نشانے پر، بارسلونا میں قیمتی گھڑی چھن گئی

یہ بھی پڑھیں