دوحہ(انٹرنیشنل ڈیسک)قطر نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنی سیکورٹی شراکت داری کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔
قطرکے دفترِ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ واشنگٹن کے ساتھ قطر کے سیکیورٹی اور دفاعی تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور ان کی مضبوطی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی ویب سائٹ “axios” کی آج کی خبر قطر اور امریکہ کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ایک “مایوس کن کوشش” ہے۔
اس سے قبل مذکورہ ویب سائٹ نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد، جو دوحہ میں حماس کے ایک مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے، قطر کے سیاسی حلقوں میں “خیانت کا شدید احساس” پایا جاتا ہے۔
دو ذرائع کے مطابق قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن نے وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کو بتایا کہ ان کی حکومت اس اقدام کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنی سیکیورٹی شراکت داری پر نظرثانی کرے گی، جسے انہوں نے “خیانت” قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر قطر اپنے تحفظ کے لیے متبادل شراکت دار تلاش کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے مزید کہا کہ ایران اور اسرائیل، دونوں کے حملوں کا سامنا کرنے کے بعد قطر آئندہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ اپنی سیکیورٹی شراکت داری کا “گہرا جائزہ” لے گا۔
اس صورت حال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے کہا کہ قطر پر دوبارہ حملہ نہ کیا جائے۔ تاہم نیتن یاہو نے نہ تو معذرت کی اور نہ با ضابطہ طور پر کوئی نرمی دکھائی، بلکہ دو الگ فون کالوں میں ٹرمپ کی برہمی کے باوجود اشارہ دیا کہ وہ دوبارہ حملہ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے منگل کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد کہا تھا کہ وہ اس فیصلے سے “خوش نہیں” ہیں اور ان کے نزدیک نیتن یاہو کا فیصلہ “جلد بازی اور غیر دانش مندانہ” تھا۔
قطر نے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو کو عالمی عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ قطر کا کہنا ہے کہ ان کے اس فیصلے نے نہ صرف جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بنایا بلکہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے عمل کو بھی سبوتاژ کیا۔
مزید برآں دوحہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ اتوار اور پیر کو ایک عرب-اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا تاکہ اسرائیلی حملے پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے یہ اچانک فضائی کارروائی منگل کے روز کی تھی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس حملے کا ایک ہدف حماس کے بیرونِ ملک رہنما اور مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ تھے۔
تل ابیب کی جانب سے ایک بار پھر یہ موقف دہرایا گیا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں نشانہ بنائے گا، خواہ بین الاقوامی سطح پر کتنی ہی مذمت کیوں نہ ہو رہی ہو۔
مزیدپڑھیں:جمہوریت دباؤ میں!سینیٹر علی ظفر نے حکومت کو دو ٹوک پیغام دیدیا