نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں جلد ہی شہری اپنے اسمارٹ فون سے کیو آر (QR) کوڈ اسکین کر کے نقد رقم نکال سکیں گے۔ یہ سہولت بالخصوص چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں بینکنگ خدمات کی رسائی بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
گزشتہ چند برسوں میں یو پی آئی (یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس) نے ملک بھر میں ادائیگی کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب یہی نظام شہریوں کو کیش نکالنے کا آسان طریقہ بھی فراہم کر سکتا ہے، جس سے مالیاتی شمولیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
چھوٹے شہروں اور دیہاتوں تک سہولت کی توسیع
فی الحال کیش نکالنے کی سہولت صرف یو پی آئی فعال اے ٹی ایمز اور چند منتخب دکانداروں تک محدود ہے، جہاں شہری شہروں میں 1,000 روپے اور دیہات میں 2,000 روپے تک رقم نکال سکتے ہیں۔ منصوبہ ہے کہ اس سہولت کو پورے ملک میں موجود 20 لاکھ سے زائد بزنس کرسپانڈنٹس (BCs) تک پھیلایا جائے۔ یہ BCs وہ بینکنگ نمائندے ہیں جو ان علاقوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں جہاں بینک شاخیں موجود نہیں۔
آر بی آئی سے منظوری طلب
اکنامکس ٹائمز کے مطابق، نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے اس سہولت کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) سے منظوری مانگی ہے۔ اگر اس منصوبے کو منظوری ملتی ہے تو گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے وہ شہری جنہیں اے ٹی ایم کارڈ یا بائیومیٹرک اسکیننگ میں مشکلات پیش آتی ہیں، وہ صرف اپنے یو پی آئی ایپ سے کیو آر اسکین کر کے آسانی سے رقم نکال سکیں گے، جس سے اے ٹی ایم پر انحصار کم ہو جائے گا۔
موجودہ نظام اور مسائل
اس وقت BCs مائیکرو اے ٹی ایمز کے ذریعے یا تو اے ٹی ایم کارڈ یا آدھار بائیومیٹرک کے ذریعے رقم فراہم کرتے ہیں، لیکن بائیومیٹرک اسکیننگ اکثر فنگر پرنٹس واضح نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہے۔ کیو آر اسکین اس کا آسان متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
فراڈ سے بچاؤ کی ضرورت
BC مراکز سے ایک وقت میں 10,000 روپے تک نکالے جا سکتے ہیں اور دوبارہ نکالنے کے لیے 30 منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔ یو پی آئی کے لیے بھی اسی نوعیت کی حد مقرر کی جا سکتی ہے۔ تاہم، حکام کے مطابق اس سہولت کے ساتھ سائبر فراڈ کے خدشات بھی موجود ہیں کیونکہ بعض اوقات مجرم چوری شدہ رقم BC نیٹ ورک کے ذریعے نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس سہولت کو سخت سیکیورٹی اور شناختی نظام کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بینکنگ نظام کو مضبوط کرے گی، لوگوں کو فوری نقدی کی سہولت فراہم کرے گی اور ملک کے کیش لیس معیشتی نظام کو مزید فروغ دے گی۔
مزیدپڑھیں:قائمہ کمیٹی ! گلگت بلتستان کے وزیر کا جنگلات کی کٹائی میں ملوث ہونے کا انکشاف

