نیویارک(نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس، حزب اللہ ایران اور حوثیوں کو قتل کی کھلی دھمکیاں دیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں حماس، حزب اللہ اور حوثیوں پر حملے اور اپنے مخالفین کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان نام نہاد رہنماؤں کو اسرائیل میں دہشت گردی کی سزا دی۔
نیتن یاہو نے دھمکی دی کہ حماس سے کہتا ہوں ہتھیار ڈال دو، تمام یرغمالی رہا کرو گے تو زندہ رہو گے ورنہ مار دیئے جاؤ گے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے السنوار کو مارا، ہمیں غزہ میں اپنا مشن مکمل کرنا چاہیے کیوں کہ حماس کی باقیات اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام تیار کیا تھا ہم نے کے ملٹری کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔
نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے ایران کے جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے میں اسرائیل کی مدد کی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ ایران میں یورینیئم کے ذخائر کو ختم ہونا چاہیے۔ ہم ایران کو جوہری توانائی کسی طور دوبارہ حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ نصر اللہ نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹس داغے تھے جس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں اس لیے انھیں نشانہ بنایا۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ہم نے عراق میں ملیشیاؤں کے ہتھیار تباہ کیے اور شام میں آمر حکمران اسد کے ہتھیار تباہ کر دیے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے حوثیوں کی زیادہ تر جنگی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا۔
مزیدپڑھیں:حج پر نہ جاسکنے والے رجسٹرڈ عازمین کیلئے اچھی خبر
