Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

برقعہ اور نقاب پہننے پر پابندی،اٹلی کی پارلیمنٹ میں بل پیش، خلاف ورزی پر لاکھوں روپے جرمانہ

روم(ویب ڈیسک)اٹلی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں عوامی مقامات پر برقعہ اور نقاب جیسے چہرے کو ڈھانپنے والے لباس پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔ بل پاس ہونے کی صورت میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 300 سے 3,000 یورو(10 لاکھ پاکستانی روپے کے قریب) تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی کی حکمران جماعت برادرز آف اٹلی نے بدھ کو پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کر دیا۔ اس میں عوامی مقامات پر برقعہ اور نقاب پہننے پر پابندی کی تجویز ہے۔ وزیر اعظم جارجیو میلونی کی پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ قانون “مذہبی جنونیت” کو روکنے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق کسی بھی عوامی مقام جن میں اسکول، یونیورسٹی، دفاتر، دکانوں اور سرکاری عمارتیں شامل ہیں میں چہرہ ڈھانپنے والا لباس پہننا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ اس میں برقعہ اور نقاب دونوں شامل ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 300 سے 3,000 یورو (10 لاکھ پاکستانی روپے کے قریب) تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔میلونی حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام مذہبی آزادی کے خلاف نہیں ہے، بلکہ “مذہبی طور پر منافرت” اور سماجی انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہے۔ واضح رہے کہ فرانس پہلا یورپی ملک تھا جس نے 2011 میں عوامی سطح پر برقعہ پر مکمل پابندی عائد کی۔ اس کے بعد بیلجیئم، آسٹریا، ترکی، تیونس، سری لنکا اور سوئٹزرلینڈ سمیت 20 سے زائد ممالک نے برقعہ یا چہرے کو ڈھانپنے والے دیگر ملبوسات پر پابندی کی کسی نہ کسی شکل پر عمل درآمد کیا۔اٹلی کی حکمران مخلوط حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اس بل کے پاس ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ تاہم حکومت نے ابھی تک اس پر بحث کی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:شیر افضل مروت کی علی امین کو عہدے سے ہٹانے کی پیشگوئی کی پرانی ویڈیو سامنے آگئی

یہ بھی پڑھیں