Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

امریکہ کا دباؤ ، مودی مجبورمعیشت شدید گراوٹ کا شکار

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے بعد بھارت نے بالآخر روس سے خام تیل کی درآمد میں واضح کمی کر دی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے روس سے تیل کی خریداری میں 50 فیصد کمی کر دی ہے، جس کی تصدیق وائٹ ہاؤس حکام نے بھی کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارےرائٹرزسے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی سطح پر ہونے والے مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے، جن کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریوں نے روسی تیل کی درآمدات میں واضح کمی کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، بھارت روسی تیل پر اپنے انحصار کو بتدریج ختم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ دسمبر 2025 سے روس سے مزید خریداری میں کمی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ مستقبل میں بھارت روس سے تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کر دے۔ تاہم امریکی حکام نے اس حوالے سے کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکا، یوکرین جنگ کے بعد سے روس پر پابندیاں سخت کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں اور تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ بھارت، جو روسی تیل کا بڑا خریدار رہا ہے، اب اس دباؤ کے نتیجے میں اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا دکھائی دے رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا یہ فیصلہ خطے کی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے اور روس کی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں : فتنہ الہندوستان کے بارے میں فصیل کریم کنڈی کا واضح موقف

یہ بھی پڑھیں