آشووا (ویب ڈیسک) کینیڈا کے شہر آشووا میں ایک افسوسناک واقعے میں مسجد کے بانی رکن ابراہیم بالا کو 16 اکتوبر کو مسجد کے قریب اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ حسبِ معمول مسجد آئے تھے
ابراہیم بالا کے قتل میں مبینہ طور پر ان کا اپنا بیٹا ملوث نکلا۔ پولیس نے 80 سالہ مقتول کے 42 سالہ بیٹے صہیب بالا کو گرفتار کر لیا ہے،
جس سے اس وقت تفتیش جاری ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، صہیب بالا پر اپنے والد ابراہیم بالا کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ابراہیم بالا کو 16 اکتوبر کو مسجد کے قریب اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ حسبِ معمول مسجد آئے تھے۔

واقعے کے فوراً بعد مسلم کمیونٹی نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات کے حوالے سے تفتیش جاری ہے اور اس بارے میں فی الحال کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
تاہم ابتدائی شواہد کی روشنی میں ابراہیم بالا کے بیٹے کو گرفتار کیا گیا ہے، اور اس کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔مقتول ابراہیم بالا آشووا مسجد کے بانی اراکین میں شامل تھے اور کمیونٹی میں ایک معزز شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔
ان کی ناگہانی موت نے مقامی مسلم برادری کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جو اس واقعے کو ایک ناقابلِ یقین المیہ قرار دے رہے ہیں۔پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق مزید معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کرے تاکہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کو ممکن بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ وائٹ ہائوس میں کیا نیا بنانا چاہتے ہیں؟


