واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی محکمۂ انصاف نے نیویارک سٹی میں تعینات آٹھ امیگریشن ججوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ اس فیصلے کی تصدیق امیگریشن ججز کی نمائندہ تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن آف امیگریشن ججز (NAIJ) نے کی ہے۔
برطرف کیے گئے تمام جج مین ہٹن کے 26 فیڈرل پلازا میں فرائض انجام دے رہے تھے، جہاں غیر قانونی تارکینِ وطن کے اسٹیٹس اور امیگریشن کیسز کی سماعت ہوتی ہے۔ یہ عمارت طویل عرصے سے سابق ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے، جہاں روزانہ ماسک پہنے وفاقی اہلکار عدالت سے نکلنے والے تارکین وطن کو حراست میں لیتے تھے۔ مہاجر خاندانوں کی جدائی جیسے دلخراش مناظر بھی وقتاً فوقتاً عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنتے رہے۔
امریکی میڈیا اور NAIJ کے مطابق برطرف کیے گئے ججوں کو اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق رواں برس کے دوران ملک بھر میں تقریباً 600 میں سے 90 امیگریشن ججز کو فارغ کیا جا چکا ہے۔
مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان برطرفیوں کا مقصد ایسے ججوں کی تعیناتی ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔
یہ اقدام اُس واقعے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جب مین ہٹن میں ایک ممکنہ امیگریشن چھاپے کو روکنے کی کوشش میں درجنوں افراد نے احتجاج کیا، جس کے دوران متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
مزیدپڑھیں:مساجد کے آئمہ کرام کیلئے خوشخبری، وزیراعلیٰ پنجاب نے بڑا حکم دیدیا
