ڈاکار (نیوز ڈیسک) مغربی افریقی ملک بینن میں فوجی اہلکاروں نے آئین معطل کرتے ہوئے اقتدار پر قابض ہونے کا اعلان کر دیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق درجنوں فوجی اہلکار بینن کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے اور انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر پڑھے گئے بیان مین فوجی اہلکاروں نے کہا کہ فوج سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا عزم کرتی ہے کہ وہ بینن کے عوام کو ایک حقیقی نئے دور کی امید دے گی، ایسا دور جہاں بھائی چارہ، انصاف اور محنت کو فروغ حاصل ہو۔
فوج نے مزید کہا کہ ملکی آئین معطل کر دیا گیا ہے جبکہ تمام ادارے تحلیل کر دیے گئے ہیں، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں اگلے حکم تک معطل رہیں گی۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب بینن میں اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں جو موجودہ صدر پیٹریس تالون کی مدت کا اختتام ہوگا جو 2016 سے برسرِ اقتدار ہیں۔
بینن کی حکمران جماعت نے وزیر خزانہ روموالڈ واداگنی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ انہیں حکومت کی معاشی پالیسیوں کے اہم معمار کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور انتخاب جیتنے کی صورت میں ان سے اصلاحات کے موجودہ ایجنڈے کو جاری رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
موجود صدر تالون کا دو مدتیں مکمل کرنے کے بعد عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ مغربی اور وسطی افریقہ کے خطے میں غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے جہاں جمہوری اصولوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے ایسی مثالیں کم دیکھنے میں آتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی کے اہم رہنما عمران خان کی سیاسی پالیسی کیخلاف میدان میں آگئے

