Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

دشمن کو ایسا سبق سکھائیں گے جو وہ کبھی نہیں بھولے گا:تہران کی دھمکی

تہران(نیوز ڈیسک)ایران اور دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے 13 ویں دن تہران نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ضبط کی تمام حدیں ختم ہو چکی ہیں اور دشمن کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر پائے گا۔

ایرانی مجلس شوریٰ ’پارلیمنٹ‘ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ایرانی جزائر پر کسی بھی قسم کی جارحیت کے نتیجے میں تحمل کا ہر راستہ بند ہو جائے گا۔ ان کا اشارہ متحدہ عرب امارات کے جزائر ابو موسیٰ، طنب الکبریٰ اور طنب الصغریٰ کی جانب تھا جنہیں ایران اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔

انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنے اکاؤنٹ سے جاری بیان میں مزید کہا کہ اگر کسی بھی جزیرے پر فضائی غارت گری یا کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو ان کا ملک تمام پابندیوں کو بالائے طاق رکھ دے گا۔ اس کے ساتھ ہی قالیباف نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کی۔

مذاکرات کی شرائط اور سفارتی محاذ
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایرانی فوج دشمن کو ناقابل فراموش سبق سکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اطالوی اخبار ‘کوریری ڈیلا سیرا’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دشمن اپنی مرضی سے جنگ شروع کر کے جب چاہے جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

بقائی نے مزید کہا کہ ایران نے پڑوسی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ جنگ کے دوران امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے ہمارے سپریم لیڈر اور اہم ترین قائدین کو قتل کیا ہے، تو کیا آپ ایک قدیم تہذیب اور خود مختار ریاست سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس وحشیانہ جارحیت پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے گی؟۔


انہوں نے یورپی ممالک پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں امریکہ و اسرائیل کو خوش کرنے کی پالیسی ترک کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک میں اتنی جرات ہونی چاہیے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم انہیں ثالث کے طور پر دیکھنا چاہیں گے۔

ایران شکست کے قریب ہے
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران شکست کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں انتہائی مستحکم پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی پہلو اپنی فضائی اور بحری دونوں افواج سے محروم ہو چکا ہے اور تہران کے پاس اب کوئی اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم باقی نہیں بچا۔

ٹرمپ نے گذشتہ روز اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران کے اندر اب نشانہ بنانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ تاہم انہوں نے فی الحال جنگ روکنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایرانی خطرے کا مکمل اور یقینی خاتمہ ضروری ہے۔
مزیدپڑھیں:’کس نے ہٹایا اور کس کے کہنے پر ہٹایا سب جانتا ہوں‘

یہ بھی پڑھیں