اسلام ( او صاف نیوز )جمیل فاروقی کی بیوی کے بیان کے بعدعدالت نے اسے والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔عدالتی دستاویز کے مطابق خاتون کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ شادی کے بعد وہ تقریباً دو ماہ تک شوہر کے گھر میں مقیم رہی، تاہم اسے اپنے والدین سے ملنے کی اجازت نہیں دی اور اس کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک کیا جاتا رہا۔بیان میں خاتون نے واضح کیا کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے “بالغ اور خود مختار” قرار دیا اور اس کی مرضی کے مطابق فیصلہ سنایا۔
عدالت نے حکم دیا کہ چونکہ خاتون اپنی آزاد مرضی سے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے، اس لیے اسے مکمل آزادی دی جاتی ہے اور اسے والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیس کو نمٹا دیا گیا۔یہ فیصلہ اسلام آباد ویسٹ سیشن عدالت کی جانب سے سنایا گیا، جہاں جج نے تمام شواہد اور بیان کا جائزہ لینے کے بعد حکم جاری کیا۔
عدالتی دستاویز کے مطابق کیس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خاتون کو شادی کے بعد مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر گھر میں قید رکھا گیا اور اس پر جسمانی و ذہنی تشدد کیا جاتا رہا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ خاتون کو بازیاب کرا کے پیش کیا جائے کیونکہ اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ جب اہل خانہ نے ملاقات کی کوشش کی تو انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد معاملہ عدالت میں لے جایا گیا۔ عدالت نے کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت دی۔
اسلام آباد ویسٹ سیشن عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ پولیس تھانے کو نوٹس جاری کیا جائے اور بیلف کے ذریعے خاتون کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے لیڈی پولیس کی معاونت بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔عدالت نے واضح کیا کہ خاتون کی فوری بازیابی اور پیشی ضروری ہے تاکہ اس کے بیان کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ اس حکم کے بعد متعلقہ اداروں نے کارروائی کا آغاز کر دیا۔
