Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مکہ مکرمہ کے میوزیم میں ہندوستان کا نادر ’8 رخی‘ قرآن مجید مرکزِ نگاہ

سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں قائم میوزیم آف قرآن کریم میں تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) کا ایک انتہائی نایاب اور منفرد قرآنِ مجید نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے، جس نے زائرین اور محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔(Quran Manuscript)

ماہرین کے مطابق یہ تاریخی نسخہ برصغیر پاک و ہند میں تیار کیا گیا تھا، جہاں اس دور میں خطاطی اور جلد سازی کے فن اپنے عروج پر تھے۔ اس مصحف کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی غیر معمولی آٹھ رخی شکل ہے، جو روایتی چوکور یا مستطیل نسخوں سے بالکل مختلف ہے۔

اس منفرد ڈیزائن میں نہ صرف جمالیاتی حسن کو نمایاں کیا گیا ہے بلکہ عملی پہلو کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے، کیونکہ اسے سفر کے دوران آسانی سے ساتھ رکھنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ قدیم زمانے میں اس چھوٹے حجم کے مصاحف کو “حمائل” کہا جاتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نسخے میں باریک خط “خطِ غبار” کا استعمال کیا گیا ہے، جو انتہائی مہارت اور باریکی سے تحریر کیا جاتا تھا۔ ایسے آٹھ رخی مصاحف مغل دور کے اواخر میں خاص طور پر مقبول تھے اور انہیں نفاست اور فنِ خطاطی کی اعلیٰ مثال سمجھا جاتا تھا۔

مزیدپڑھیں:بھاری ٹریفک جرمانوں سے پریشان موٹرسائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے بڑا ریلیف

یہ قیمتی مخطوطہ شاہ فیصل سینٹر برائے ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے نوادراتی ذخیرے کا حصہ ہے، جو دنیا بھر سے اسلامی مخطوطات کو محفوظ بنانے اور تحقیق کے جدید معیار پر پیش کرنے کے لیے معروف ہے۔

یہ نمائش حراء ثقافتی مرکز کے وسیع مشن کا حصہ بھی ہے، جہاں زائرین کو اسلامی تاریخ، قرآن مجید کی کتابت اور خطاطی کے ارتقاء سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے روشناس کرایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مکہ مکرمہ میں اس نادر نسخے کی موجودگی برصغیر اور حرمین شریفین کے درمیان تاریخی، روحانی اور ثقافتی تعلق کی ایک خوبصورت علامت بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں