Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’جہنم کے گڑھے‘ والے بیان پر بھارت کا سخت ردِعمل

بھارت(india) نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) کی جانب سے منسوب ایک متنازع بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے، جس میں مبینہ طور پر بھارت کو “جہنم کا گڑھا” کہا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان دراصل امریکی ریڈیو میزبان مائیکل سیویج سے منسوب تھا، جسے ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بغیر کسی تبصرے کے شیئر کیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بحث کا باعث بن گیا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب الفاظ حقائق پر مبنی نہیں اور یہ بھارت اور امریکا کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاسی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر قائم ہیں، جنہیں اس طرح کے بیانات متاثر نہیں کر سکتے۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے بھارتی عوام کے لیے توہین آمیز قرار دیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے پر امریکا سے باضابطہ احتجاج کرنا چاہیے تاکہ سفارتی سطح پر واضح مؤقف سامنے آ سکے۔

مزیدپڑھیں:سری لنکا کی وزارتِ خزانہ پر سائبر حملہ، ہیکرز 25 لاکھ ڈالرز لے اُڑے

دوسری جانب امریکی سفارت خانے کی جانب سے وضاحت دی گئی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھارت کو ایک اہم اور مضبوط شراکت دار قرار دے چکے ہیں اور بھارتی قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات خوشگوار رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا میں اس وقت تقریباً 5.5 ملین بھارتی نژاد افراد مقیم ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات میں وقتاً فوقتاً اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک اس وقت باہمی تجارت کو بڑھانے کے لیے ایک نئے تجارتی معاہدے پر بھی کام کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات بعض اوقات سفارتی سطح پر کشیدگی پیدا کرتے ہیں، تاہم امریکا اور بھارت کے تعلقات کی مجموعی سمت اب بھی اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب ہی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں