بھارت کی سیاست میں ایک بڑی ہلچل سامنے آئی ہے جہاں عام آدمی پارٹی(Aam Aadmi Party) کو شدید دھچکا لگا ہے۔ پارٹی کے 7 ارکانِ راجیہ سبھا نے استعفیٰ دے کر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی، جس کے بعد سیاسی منظرنامے میں ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔
عام آدمی پارٹی نے اس پیش رفت پر فوری ردعمل دیتے ہوئے منحرف ارکان کے خلاف نااہلی کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی رہنما سنجے سنگھ کا کہنا ہے کہ راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک مِتل سمیت دیگر ارکان کی دوسری جماعت میں شمولیت آئین کے تحت اپنی پارٹی چھوڑنے کے مترادف ہے، لہٰذا انہیں نااہل قرار دینے کے لیے درخواست دی جائے گی۔
دوسری جانب راگھو چڈھا نے اپنی پریس کانفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ ایوان بالا میں پارٹی کے دو تہائی سے زائد ارکان ان کے ساتھ ہیں اور ایک گروپ کی صورت میں بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق تمام قانونی تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں اور اس حوالے سے دستاویزات چیئرمین راجیہ سبھا کو جمع کرا دی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہربھجن سنگھ اور سواتی مالیوال بھی پارٹی چھوڑنے والوں میں شامل ہیں۔
اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے راگھو چڈھا کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنے بنیادی نظریات اور اصولوں سے ہٹ چکی ہے، اور طویل وابستگی کے باوجود اب وہ خود کو اس جماعت میں غیر موزوں محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح سندیپ پاٹھک نے بھی کہا کہ ایک دہائی تک پارٹی کے ساتھ رہنے کے بعد موجودہ حالات میں علیحدگی ناگزیر ہو گئی تھی۔
Today, exercising the provisions of the Constitution of India, more than two-thirds of the AAP MPs in the Rajya Sabha have merged with the BJP.
Seven MPs have signed the document, which was submitted to the Hon’ble Chairman of the Rajya Sabha.
I, along with two other MPs,…
— Raghav Chadha (@raghav_chadha) April 24, 2026
مزیدپڑھیں:پیٹرول مہنگا، کرایوں میں اضافہ، مسافروں پر نیا بوجھ
یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں پارٹی کے اندر تنظیمی تبدیلیاں کی گئی تھیں، جن کے تحت راگھو چڈھا کو اہم عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس اقدام کو بھی موجودہ اختلافات کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پارٹی قیادت نے ان اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی وفاداری سے انحراف اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا ہے۔ پارٹی سربراہ اروند کیجریوال نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی دباؤ کے ذریعے منتخب نمائندوں کو توڑ رہی ہے۔
دوسری جانب منحرف رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی تھی اور پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف عام آدمی پارٹی کے لیے بڑا چیلنج ہے بلکہ آنے والے دنوں میں بھارتی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
