Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ ایک بار پھر عالمی خطرے کا مرکز، حفاظتی ڈھانچے کو نقصان پر تابکاری پھیلنے کا خدشہ

دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کو چار دہائیاں گزرنے کے باوجود یوکرین میں واقع Chernobyl Nuclear Power Plant ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ روس-یوکرین جنگ کے دوران حالیہ ڈرون حملوں نے اس حساس مقام کے حفاظتی نظام کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد تابکاری کے دوبارہ پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

حکام اور ماہرین کے مطابق فروری 2025 میں ایک روسی ڈرون حملے میں “نیو سیف کنفائنمنٹ” نامی دیوہیکل حفاظتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کی چھت میں تقریباً 15 مربع میٹر کا سوراخ پڑ گیا۔ یہ جدید ڈھانچہ 1986 کے چرنوبل حادثے میں تباہ ہونے والے ری ایکٹر نمبر 4 کے اوپر بنایا گیا تھا تاکہ تابکاری کو محفوظ طریقے سے محدود رکھا جا سکے۔

یہ حفاظتی ڈھانچہ اربوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا مقصد پرانے “سارکوفیگس” کو ڈھانپ کر تابکاری کے اخراج کو روکنا تھا۔ تاہم حالیہ نقصان کے بعد اس کے اندر نمی کنٹرول سسٹم بھی متاثر ہوا ہے، جو اسٹیل ڈھانچے کو زنگ اور مزید کمزوری سے بچانے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

پلانٹ انتظامیہ کے مطابق اگر یہ ڈھانچہ مزید کمزور ہوتا ہے تو اس کے اندر موجود 180 ٹن سے زائد تابکار مواد دوبارہ فضا میں خارج ہو سکتا ہے، جو ایک بڑے عالمی ماحولیاتی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:سورج کے 2 طاقتور دھماکے، زمین پر جیومقناطیسی طوفان کا خدشہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ڈھانچے کی مکمل مرمت آئندہ چند برسوں میں ناگزیر ہے، تاہم اس پر تقریباً 50 کروڑ یورو لاگت آئے گی، جو جنگ زدہ یوکرین کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔ مرمت کا کام بھی انتہائی خطرناک ہے کیونکہ علاقے میں تابکاری کی سطح اب بھی بلند ہے، جہاں ایک مزدور محدود وقت کے لیے ہی کام کر سکتا ہے۔

جنگ کے دوران اس مقام پر پہلے بھی خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔ 2022 میں روسی افواج نے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا، اور بعد میں ان کے انخلاء کے باوجود میزائل اور ڈرون سرگرمیوں نے اس خطے کو غیر محفوظ بنا رکھا ہے۔ اس دوران بجلی کے گرڈ پر حملوں کے باعث متعدد بار پلانٹ کو ہنگامی ڈیزل جنریٹرز پر منتقل کرنا پڑا۔

چرنوبل حادثے کی 40ویں برسی کے موقع پر ماہرین نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس حساس مقام کو فوری تحفظ نہ دیا گیا تو دنیا ایک بار پھر 1986 جیسے خطرناک تابکاری بحران کا سامنا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں