Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سورج کے 2 طاقتور دھماکے، زمین پر جیومقناطیسی طوفان کا خدشہ

سورج میں حالیہ دنوں کے دوران غیر معمولی سرگرمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں صرف 7 گھنٹوں کے اندر دو طاقتور X2.5 درجے کے شمسی شعلے خارج ہوئے، جنہیں گزشتہ 78 دنوں کی سب سے شدید خلائی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دونوں دھماکے سورج کے ایک فعال اور غیر مستحکم سن اسپاٹ ریجن AR 4419 سے خارج ہوئے، جو اس وقت سورج کے مغربی کنارے پر موجود ہے۔

پہلا شمسی شعلہ 23 اپریل کی رات 9:07 بجے اپنے عروج پر پہنچا، جبکہ دوسرا 24 اپریل کی صبح 4:14 بجے ریکارڈ کیا گیا۔ ان واقعات کے بارے میں خلائی ماہر Ryan French کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ مہینوں میں دیکھے گئے سب سے طاقتور شمسی دھماکے ہیں۔

مزیدپڑھیں:مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور مہنگے پٹرول سے یورپی عوام کا رجحان الیکٹرک گاڑیوں کی طرف بڑھ گیا

ان دھماکوں سے خارج ہونے والی انتہائی توانائی اور شعاعوں نے زمین کے روشن حصوں میں ریڈیو کمیونیکیشن میں خلل پیدا کیا، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں عارضی ریڈیو بلیک آؤٹس رپورٹ ہوئے۔ ابتدائی اثرات بحرالکاہل اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں دیکھے گئے، جبکہ بعد میں مشرقی ایشیا بھی متاثر ہوا۔

ان شمسی شعلوں سے پہلے درمیانے درجے کے M-class دھماکوں کی ایک لہر بھی ریکارڈ کی گئی، اور اس دوران ایک نایاب “سمپیتھٹک فلیئر” بھی دیکھا گیا، جس میں سورج کے مختلف حصوں میں بیک وقت سرگرمی سامنے آئی۔


ماہرین کے مطابق اس وقت ان واقعات کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ جاری ہے، اور اگر یہ توانائی کے اخراج زمین کی مقناطیسی فیلڈ سے تعامل کرے تو اس سے جیومقناطیسی طوفان پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں شمالی اور جنوبی قطبوں کے قریب آسمان پر خوبصورت قطبی روشنیاں (Auroras) بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

شمسی شعلے دراصل سورج پر ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکے ہوتے ہیں، جن میں ایکس ریز اور الٹرا وائلٹ شعاعیں خارج ہوتی ہیں۔ یہ شعاعیں روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے زمین کے اوپری فضائی حصے، یعنی آئنوسفیئر کو متاثر کرتی ہیں، جس سے ریڈیو کمیونیکیشن اور سیٹلائٹ سسٹمز میں وقتی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بار اثرات محدود رہے ہیں، لیکن سورج کی بڑھتی ہوئی سرگرمی مستقبل میں مزید خلائی موسم (space weather) کے واقعات کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں