ایران کی پاسدارانِ انقلاب Islamic Revolutionary Guard Corps (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک اور بحری جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر امریکی فوج سے رابطے میں تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز نے Strait of Hormuz میں عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی اور متعدد وارننگز کے باوجود اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تاہم ایران نے جہاز اور اس کے عملے سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس اہم گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔ حکام نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو “سرخ لکیر” سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے United States سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پہلے آبنائے ہرمز میں مبینہ ناکہ بندی یا پابندیاں ختم کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں بحری راستوں پر دباؤ اور رکاوٹیں خطے میں کشیدگی بڑھا رہی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
مزیدپڑھیں:لاہور قلندرز ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کی دوڑ سے باہر
ایرانی حکام کے مطابق سفارتی عمل اسی وقت آگے بڑھ سکتا ہے جب فریقین عملی اقدامات کریں، جن میں بحری راستوں کی آزادی اور کشیدگی میں کمی شامل ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔
