Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کروز شپ پر ہنٹا وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ، مختلف ممالک نے نگرانی بڑھا دی

برطانیہ(نیوز ڈیسک)دنیا بھر کے ممالک نے ہنٹا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نگرانی اور رابطہ ٹریسنگ کا عمل تیز کر دیا ہے۔ بحراوقیانوس میں سفر کرنے والے کروز شپ ”ایم وی ہونڈیئس“ پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جہاں اب تک آٹھ افراد میں وائرس سے متاثر ہونے یا اس کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایم وی ہونڈیئس نامی کروز شپ پر اب تک تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پانچ افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

ہنٹا وائرس عموماً چوہوں اور دوسرے چھوٹے جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ متاثرہ افراد میں پائی جانے والی وائرس کی قسم ”اینڈین اسٹرین“ کہلاتی ہے، جس میں محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقلی کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

جہاز نے 24 اپریل کو جنوبی بحر اوقیانوس میں واقع سینٹ ہیلینا جزیرے پر قیام کیا تھا، جہاں اترنے والے تمام مسافروں سے رابطہ کیا جا چکا ہے۔ شپ آپریٹر کے مطابق ان افراد کا تعلق کم از کم 12 ممالک سے تھا، جن میں برطانیہ اور امریکا کے شہری بھی شامل ہیں۔ اس وبا کا پہلا تصدیق شدہ کیس مئی کے آغاز میں سامنے آیا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے خطرہ کم ہے۔ ادارے کی وبائی امراض کی ڈائریکٹر ماریا وان کیرخوف نے کہا کہ یہ صورتِ حال کورونا وائرس جیسی نہیں ہے اور دونوں وائرس ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو چھ سال پہلے کی عالمی وبا سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

کروز شپ اس وقت کینری آئی لینڈز کی جانب روانہ ہے، جہاں ہفتے یا اتوار تک پہنچنے کی توقع ہے۔ جہاز پر موجود درجنوں مسافروں میں اس وقت کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ عالمی ادارۂ صحت ان مسافروں کے اترنے اور اپنے اپنے ممالک واپسی کے عمل کے لیے رہنما اصول تیار کر رہا ہے۔

امریکی ادارہ برائے امراض کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے کہا ہے کہ وہ صورتِ حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس وقت امریکی عوام کے لیے خطرہ انتہائی کم ہے۔ امریکی ریاست جارجیا میں دو ایسے افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جو جہاز سے اترنے کے بعد واپس گھر پہنچ چکے ہیں، تاہم ان میں کوئی علامات موجود نہیں۔

اس صورتِ حال پر بریفنگ لینے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فی الحال یہ صورتِ حال کافی حد تک قابو میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماہرین اس وائرس اور اس کے پھیلاؤ کے طریقہ کار کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک مکمل اور مفصل رپورٹ کل جاری کی جائے گی جس میں مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں۔جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے غزہ میں فضائی حملے، 9 فلسطینی شہید

یہ بھی پڑھیں