اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد فوڈ اتھارٹی (آئی ایف اے) نے وفاقی دارالحکومت کے بڑے مارٹس میں کیش لیس (Cashless) ادائیگی کا نظام رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ جو مارٹس خلاف ورزیوں پر بند کیے جائیں گے، انہیں اس وقت تک دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک وہاں کیش لیس ادائیگی کی سہولت فراہم نہ کی جائے۔
یہ فیصلہ ڈائریکٹر آئی ایف اے عرفان میمن کی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اور اے ڈی سی ایسٹ نے شرکت کی۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والے مارٹس کی ڈی سیلنگ صرف کیش لیس نظام کی فراہمی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
اجلاس کے دوران گزشتہ ماہ کی کارکردگی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز ڈاکٹر طاہرہ صدیق نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس دوران 1,025 ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 81 ریسٹورنٹس کو ناقص کھانے کی فراہمی پر 13 لاکھ روپے سے زائد جرمانے کیے گئے، جبکہ 83 مقامات پر مضر صحت خوراک تیار کرنے والے یونٹس کو سیل کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق عوامی شکایات پر بھی فوری کارروائی کی گئی اور 30 شکایات پر ایکشن لیا گیا۔ اس عرصے میں 359 نئے ریسٹورنٹس اور دکانوں کو لائسنس بھی جاری کیے گئے۔ حکام نے کہا کہ آئندہ مہینوں میں لائسنسنگ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ تمام ادارے فوڈ سیفٹی کے قوانین پر عمل درآمد کر سکیں۔
معائنوں کے دوران بڑی مقدار میں مضر صحت اشیائے خوردونوش تلف کی گئیں۔ حکام کے مطابق 992 کلوگرام غیر محفوظ گوشت، 262 لیٹر مشروبات، 120 لیٹر ایکسپائر شدہ مائع اشیاء اور 1,814 لیٹر مضر صحت ڈیری مصنوعات کو تلف کیا گیا تاکہ ناقص اشیاء صارفین تک نہ پہنچ سکیں۔
ڈائریکٹر عرفان میمن نے اجلاس میں ہدایت کی کہ ناقص خوراک کے حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو شہریوں کی شکایات پر تیز رفتار عمل درآمد اور لائسنسنگ کے عمل میں مزید تیزی لانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اتھارٹی اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی اور کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:پاکستان افغانستان اعتماد سازی ہی خطے میں امن کی کنجی ہے،منصوراحمد خان
