Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

فیلڈ مارشل کا دورہ امریکہ : بھارت میں صف ماتم

ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت سے خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ علاقائی امن کو کثیر الجہتی خطرات لاحق ہیں۔ ایران کا پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان تیزی سے پھیلتی کشیدگی کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ گزشتہ ماہ بھارت کے جنگی جنون کو پاکستان نے نہایت دلیری اور حکمت سے شکست دی۔ یہ پہلو توجہ طلب

خاموش سفارتکاری کا جادو

یقین کیجیے اس ملک کا اصل مسئلہ نہ مہنگائی ہے نہ لوڈشیڈنگ نہ بیروزگاری اور نہ ہی خارجہ پالیسی کی پیچیدگیاں۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ہمارے صاحبِ اختیار فیصلہ کرنے سے گھبراتے ہیں اور جب کوئی صاحبِ ایمان، صاحبِ بصیرت اور صاحبِ جگر سامنے آتا ہے تو پورا نظام جیسے اس سے خائف ہو جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم

فریبی نظام آخری سانسیں اور نئی امیدیں

ہم ایک ناقابلِ واپسی عالمگیر تبدیلی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ آج کے بڑھتے ہوئے تصادم، ٹوٹتی ہوئی معیشت اور بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف بے ہنگم نہیں بلکہ ایک زوال پذیر آمرانہ نظام کی آخری لڑائی اور دھونس و دھمکیاں یہ پرانا نظام، جو فیات کرنسی، ڈیجیٹل فریب، قیاسی بنیاد پر اور چند طاقتوروں کے ناانصاف اور جابرانہ کنٹرول پر

قومی اسمبلی میں روایت اور جدت کا امتزاج

پارلیمانی عمارت کی خاموش عظمت میں کچھ خیالات محض ایوان میں ہونے والی بحث سے نہیں، بلکہ ان درمیانی خلاؤں میں جنم لیتے ہیں—جہاں آوازیں بغیر مائیکروفون کے گونجتی ہیں اور خیالات رسمی حدود کے بغیر بہتے ہیں۔ قومی اسمبلی پاکستان میں ایک ایسا ہی بامعنی اور دل آویز قدم اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر قیادت اٹھایا

دھواں،دھمکی اوردھماکہ

(گزشتہ سے پیوستہ) پاسدارانِ انقلاب کادعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے میزائل اڈے ہیں جوسنگلاخ پہاڑوں کے اندرسرنگوں کی صورت میں تعمیرکئے گئے ہیں،اوروہاں خصوصی انجینئرنگ اورڈرلنگ کے ذریعے ہتھیارذخیرہ کیے گئے ہیں۔ان خفیہ اڈوں کی تفصیلات اگرچہ منظرِ عام پرنہیں آئیں،تاہم ان کی موجودگی ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایک کلیدی کرداراداکرتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ

جنگ میں کون کہاں کھڑا ہے؟

ایران کی جس ایٹمی صلاحیت کو آڑ بنا کر اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے میں پہل کی، اس کی بنیاد ایران نے امریکہ کے تعاون سے 1957ء میں رکھی تھی۔ اس وقت ڈیوڈ آئیزن ہاور امریکہ کے صدر تھے۔ وہ ریاست ہائے امریکہ کے 34ویں صدر تھے جنہوں نے ایران کے اس اٹامک انرجی پروگرام کا نام ’’ایٹم فار

کالم پروفائل