
حقیقی فتح
اس سے قبل کئی مرتبہ راقم اپنی تحریروں میں اس بات کو اجاگر کر چکا ہے کہ میں اور آپ جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں وہ ایک جاگیردارانہ اور تنگ نظر قبائلی سوچ اور ذہنیت رکھنے والا معاشرہ

اس سے قبل کئی مرتبہ راقم اپنی تحریروں میں اس بات کو اجاگر کر چکا ہے کہ میں اور آپ جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں وہ ایک جاگیردارانہ اور تنگ نظر قبائلی سوچ اور ذہنیت رکھنے والا معاشرہ
(گزشتہ سے پیوستہ) راقم بغیر کسی توقف اور تذبذب کے یہ لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہا کہ آج کی تاریخ تک ایران یہ جنگ جیت چکا ہےاس کی ایک حالیہ مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ گزشتہ
آج کل سب سے زیادہ پوچھاجانےوالا سوال یہ ہےکہ ایران کا مستقبل کیا ہے اور وہ کب تک مقابلہ کرنےکی سکت رکھتاہےکیونکہ اسکاسامنادنیا کی بڑی فوجی طاقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کےلئے ہم

اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ ماضی میں ہمارے ریاستی اداروں کی ناعاقبت اندیش قیادت نے وطن عزیز کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ ان کرداروں کو کیفر کردار
اس حقیقت کا اشتراک راقم اس سے قبل بھی اپنے قارئین کے ساتھ کرچکا ہے کہ الفاظ کو قلم کے ذریعہ سے کاغذ کے سپر د کرنے کے عمل میں راقم کا ارادہ یا کوئی ’’منصوبہ بندی‘‘ شامل نہیں ہوتی
گزشتہ روز پیشہ وارانہ امور میں مصروف تھا کہ اچانک اطلاع دی گئی کہ ہمارے دفتر کے ایک ملازم کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی ہے راقم نے فوری طور پر اسے قریب ہی ایک نجی ہسپتال میں لے گیا وہاں

ساڑھے سولہ ہزار مربع کلومیٹر پر محیط مغربی ایشیا میں واقع رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 17ویں اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے بڑے ملک ایران کی جغرافیائی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی سرحدیں دنیا کے سات اہم ممالک
عام طور پر مشہور ہے کہ شکست کو قوت میں بد لا جاسکتا ہے مگر اندازہ لگائیے کہ فتح کو اگر طاقت اور خوشحالی میں بدلا جائے تو وہ کسی قوم یا معاشرہ کو ترقی کی ان رفعتوں پر پہنچا
پیشہ ورانہ مصروفیات نے راقم کو کافی وقت گزر جانے کے بعد اپنے قارئین سے مخاطب ہونے کا موقع فراہم کیا مگر اس کے ساتھ ساتھ وقفہ کی ایک اور بہت اہم وجہ یہ بھی ہے کہ دراصل اب محسوس
اگر خود تعریفی کے زمرے میں نہ آئے تو عرض ہے کہ راقم صرف اسی صورت میں اپنے خیالات قلم کے سپرد کرنے کے قابل ہوتا ہے جب وہ کسی بھی مشاہدے اور تجربہ کے سبب کچھ محسوس کرے‘ بصورت