وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے کامیاب دورہ چین کے بعد کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے وزیر لیو جیان چا نے پاکستان کا دورہ کیا اور اس دوران پاک چائنا پولیٹیکل پارٹیز فورم اور پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کنسلٹیٹو میکانزم کے تیسرے اجلاس میں شرکت کی، جس میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے سی پیک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔پاکستان کے دورے کے دوران طاقتور چینی وزیر لیو جیان چا نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کیں اور پاک چین معاشی و اسٹریٹجک تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران چینی وزیر نے پاکستان کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھنے والی سرگرمیوں اور سازشوں سے خبردار کیا اور تیز رفتار ترقی اور بھرپور سرمایہ کاری کے لئے دفاعی ، معاشی اور سیاسی استحکام کو شرط اولیں قرار دیا، دیرینہ دوست ملک کا مخلصانہ مشورہ تسلیم کیا گیا اور حکومت اور فوج نے اتفاق رائے سے ملک میں دہشت گردی کے مستقل قلع قمع کے لئے آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس مثبت پیش رفت کا ملکی معاشی و کاروباری منظر نامے پر بہت مثبت اثر ہوا اور صنعتی و کاروباری طبقے کا اعتماد بڑھا اور معاملات بہتر سمت میں چل پڑے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز نے ابھی اس خوشگوار صورتحال پر اطمینان کا سانس لیا تھا کہ اچانک امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے انتخابی و سیاسی عمل اور انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک متنازع قرارداد پیش کر کے استحکام و ترقی کی طرف بڑھتی ملکی معیشت پر ’’فارتی شبخون‘‘مار دیا گیا۔پاکستان کی ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے امریکی کانگریس کی اس قرارداد نمبر 901پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور سپر پاور کو آئینہ دکھا دیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے منتخب جمہوری سیٹ اپ کے حوالے سے غیر ضروری اعتراضات کرنے والی یہ قرارداد ایک ایسے ملک کی جانب سے سامنے آئی ہے جس نے 20ویں صدی میں دنیا کی کئی منتخب جمہوری حکومتوں کے تختے الٹائے، اور یہ ملک آج بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے سہولت کاری کر رہا ہے ، وزیر دفاع خواجہ آصف نے 2016 ء اور 2020ء کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بھی امریکہ کو آئینہ دکھایا اور کہا کہ 2016ء اور 2020ء کے صدارتی انتخابات کے دوران دونوں بڑی جماعتوں ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلیکن پارٹی نے ایک دوسرے پر غیر ملکی مداخلت سے الیکشن جیتنے اور دھاندلی کے الزامات لگائے۔
امریکی صدارتی انتخابات کے حوالے سے خود دونوں بڑی امریکی جماعتوں کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے بڑا دلچسپ سوال کیا اور استفسار کیا کہ کیوں نہ اقوام متحدہ سے امریکی صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کیلئے کہا جائے؟پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے اظہار خیال کرنے والی قرارداد 901 امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکن سینیٹر رچرڈ میک کارمک نے 30نومبر 2023ء کو پیش کی تھی، اس قرارداد کو 21مارچ 2024 کو ایوان کی کمیٹی برائے خارجہ امور کو بھیجا گیا، یہ قرارداد پچھلے چھ سات ماہ سے امریکی ایوان نمائندگان میں ’’طاق نسیاں‘‘ بنی پڑی تھی ، جونہی پاک چین تعلقات میں نئی گرمجوشی آئی ، قرارداد کی فائل پر جمی گرد کو جھاڑ پونچھ کر 24 جون 2024ء کو اسے ایوان میں ووٹنگ کے لیے پیش کر دیا گیا، قرارداد کی بھاری اکثریت سے منظوری بھی کسی پس پردہ قوت کے سرگرم ہونے کی نشاندہی کر رہی ہے کیونکہ یہ قرارداد 7کے مقابلے میں 368 ووٹوں سے منظور ہوئی ہے، پی ٹی آئی نے اس قرارداد کی منظوری کو فوراً ہی اپنے موقف کی فتح قرار دینا شروع کر دیا ، ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ یہی پی ٹی آئی اپنی حکومت کے خاتمے کی سازش کا الزام بھی امریکہ پر لگاتی ہے اور دوبارہ برسر اقتدار آنے کے لئے اسی امریکہ میں بڑے پیمانے پر لابنگ فرمیں بھی ہائر کئے ہوئے ہے ، یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ 7کے مقابلے میں 368 ارکان کانگریس کے ووٹوں کی بھاری اکثریت مینج کرنا پی ٹی آئی کی لابنگ کا نتیجہ ہے ۔ اگر پی ٹی آئی کی لابنگ اتنی ہی موثر ہوتی تو قرارداد کو ایوان میں منظوری کیلئے پیش ہونے کیلئے چھ سات ماہ کا طویل انتظار نہ کرنا پڑتا، قرار داد 901 کی ٹائمنگ صاف چغلی کھا رہی ہے کہ اس کا مقصد پاک چین تعلقات میں پیدا ہونے والی نئی گرمجوشی کے حوالے سے پاکستان پر دبائو بڑھانے کے سوا کچھ نہیں، پی ٹی آئی والوں کا اس حوالے سے پرجوش ہوئے پھرنا ’’پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘کے مترداف ہے، کچھ وقت گذرنے دیں یہ تلخ حقیقت پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کو خود سمجھ آ جائے گی کہ امریکی قرارداد کا اصل مقصد کیا تھا؟ الطاف حسین حالی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے