Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

معاشی دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ

ایک خبر یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام اس بات پر خوش ہیں کہ سعودی عرب نے ہمارے ذمے قرض کے واجب الادا 3 ارب ڈالر تیسری بار رول اوور کر دیئے ہیں، کیونکہ ہم 3 ارب ڈالر کے اس ڈپازٹ کو ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں، دوسری خبر یہ ہے کہ بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر 657 ارب ڈالر سے 700 ارب ڈالر کے درمیان گھوم رہے ہیں جبکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر صرف 12 ارب ڈالر ہیں۔ ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ افغانستان نے وسط ایشیا کے ریل لنک کو استعمال کرتے ہوئے چین کے ساتھ مال گاڑیوں کے ذریعے تجارت شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے وہ مال تجارت جو سمندری روٹ کے ذریعے شنگھائی سے ڈیڑھ ماہ میں افغانستان پہنچتا تھا وہ اب 22 دنوں میں مزار شریف پہنچ جاتا ہے، اور خرچہ بھی کم پڑتا یے،یہ فریٹ ٹرین 55 بوگیوں پر مشتمل ہےاور براستہ قازقستان، ازبکستان افغانستان میں داخل ہوتی ہے جبکہ 2014 سے جاری سی پیک پراجیکٹس کے باوجود پاکستان ابھی تک چین تا پاکستان ریلوے لنک کی تعمیر و اپ گریڈیشن پر کام کا آغاز تک نہیں کر سکا۔
پاکستان دنیاسے اتناپیچھے کیوں رہ گیا؟ اور ہمارے ہمسایہ ممالک ہم سے اتنا آگے کیوں نکل گئے ہیں اس کی وجہ ہماری قومی نااتفاقی اور داخلی کشمکش ہےجو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، ملک میں جو بھی حکومت قائم ہوتی ہے اسے کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا اور روز اول سے ہی اسے عدم استحکام کا شکار کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نتیجہ اس رویئے کا یہ نکلا ہے کہ ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں ہم دنیا سے پیچھے تو تھے ہی اب اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی بہت پیچھے رہ گئےہیں اور یہ فرق اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر صرف 12 ارب ڈالر ہیں اور بھارت چند ماہ پہلے 700 ارب ڈالر کے فگر کو ٹچ کر کےاس وقت 667 ارب ڈالر پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے اپنی سوچ اور پالیسیاں فوری تبدیل نہ کیں تو یہ فرق اتنا بڑھ جائے گا کہ پھر خطے میں معاشی طاقت کا خوفناک عدم توازن جنم لے سکتا ہے جو خدانخواستہ ہماری قومی خودمختاری اور آزادی کوبھی ہڑپ کر سکتا ہے۔ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کا اب ایک ہی راستہ ہے کہ ہم کسی تاخیر کے بغیر اپنے لئے قومی یکجہتی کو ناگزیر کرلیں، موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہر صورت متحد ہونا ہوگا۔ ہماری قوم مختلف سیاسی نظریات، سماجی طبقات، اور ثقافتی پس منظر پر مشتمل ہے، لیکن ان تمام اختلافات کو پس پشت ڈال کر ہمیں ایک مشترکہ مقصد کے لیےکام کرنا ہوگا، اور وہ مقصد پاکستان کی ترقی ہے کیونکہ ترقی کی دوڑ میں ہم اتنا پیچھے رہ گئے ہیں کہ جس کا نتیجہ اتنا بھیانک نکل سکتا ہے کہ جس کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے۔ مستقبل بنیادوں پر ترقی کا تیز رفتار سفر طے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم رواداری، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیں تاکہ مختلف طبقوں کے درمیان ہم آہنگی قائم ہو سکے۔
سیاسی قیادت کو اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے کام کرنا ہوگا، اگر ہم اب بھی نہ سنبھلے تو پھر شاید دوبارہ یہ موقع ہی نہ ملے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے کسی ملک کو سیاسی استحکام کے بغیر پائیدار ترقی کا ثمر نہیں ملا، ہماری نوجوان نسل،جو ملک کا مستقبل ہے،ان کو تعلیم، تحقیق، اور جدید مہارتوں کے حصول کی طرف راغب کرنابھی اب لازم ہوگیا ہے، تاکہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مضبوط ادارے ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہوتے ہیں، اس لیے ریاستی اداروں جیسے عدلیہ، افواج، اور بیوروکریسی کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنا اور ان پر عوامی اعتماد بحال کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔جب تک ہم اپنے اداروں کو سیاسی کشمکش سے بالاتر نہیں کریں گے ہماری آپس کی لڑائیاں ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیں گی، اگر ادارے سیاست سے بالاتر ہوں تو سیاسی اختلافات ترقی کے سفر کو اتنا متاثر نہیں کرتے لیکن اگر ہم اپنے سیاسی مفادات کیلئے اداروں کو داخلی سیاسی خانہ جنگی میں گھسیٹ لیں تو پورا ملک رک جاتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ترقی کا سفر رک جاتا ہے اب وقت کم اور مقابلہ سخت والی صورتحال ہے، معیشت کی بحالی کے لیے تمام طبقات کو مل جل کر کام کرنا ہوگا، اور معیشت کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو طویل المدتی استحکام کو یقینی بنائیں، کیونکہ ایک مضبوط معیشت ہی سماجی ترقی کی ضامن ہے۔ہمیں اپنی ذات، فرقے، اور نسل سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا اور قومی مفاد کو اپنی پہلی ترجیح بنانا ہوگا،کیونکہ تقسیم شدہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔ تعلیم، صحت، اور روزگار کے شعبوں میں اصلاحات کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ عوام کو بہتر معیار زندگی فراہم کیا جا سکے اور سماجی انصاف کا نظام مضبوط ہو۔

یہ بھی پڑھیں