Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سی پیک، مہ رنگ جادو اور قرآنی علاج

احمد منصور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے باخبر اور صاحب فکر صحافیوں میں ایک ابھرتاہوانام ہے، دفاعی اور پارلیمانی امور پر ان کی ایکس کلوسیو نیوز رپورٹس، ریسرچ آرٹیکلز،بلاگز اور ٹاک شوز مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی بکثرت نظر آتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے سی پیک ، بلوچستان اور چین کے ایشو پر ایک طویل تحقیقی مقالہ لکھاجومختلف میڈیاگروپس اور سوشل میڈیاپلیٹ فارمزپرشائع ہوا،اس منفرد مقالے نےسی پیک کو درپیش چیلنجز کے مستقل حل کیلئےقوانین فطرت سےہم آہنگ حکمت عملی اختیارکرنےکی طرف توجہ دلائی اور انتہائی دلنشین اندازمیں قرآن پاک کےحوالےبھی دیئے، یہ آرٹیکل ایسا ہےکہ سی پیک کی کامیابی کیلئے سرگرم تمام اسٹیک ہولڈرزخاص طور پرچین، سعودی عرب، ایران اور پاکستان کے ارباب اختیار کو بار بار پڑھنا چاہیے۔ قلم کہانی کے قارئین کیلئے یہ نادر تحریر ہم قسط وار شائع کر رہے ہیں تاکہ نہ صرف ریاست پاکستان بلکہ تمام دوست ممالک کے سی پیک سے متعلق پالیسی میکرز تک یہ پیغام پہنچے اور اس عظیم پراجیکٹ کےثمرات سے نہ صرف بلوچستان،خیبرپختونخوا سمیت پورا پاکستان بلکہ پورا خطہ اور پوراعالم جلدازجلد استفادہ کرسکے،جماعت اسلامی کے بانی عظیم اسلامی مفکر مولانا ابوالاعلی مودودی کا مشہور قول ہے کہ ’’سیلاب کا حقیقی مقابلہ اس کےسامنے بند باندھ کر نہیں کیاجاسکتا، سیلاب کےمقابلے میں جوابی سیلاب برپاکرناہی پائیداراورمستقل حل ہے۔‘‘ قانون فطرت یہ ہے کہ بند تو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے لیکن جوابی سیلاب میں کوئی شگاف پڑناممکن نہیں،اور نہ ہی مخالف سیلاب کسی بھی طرح جوابی سیلاب کو اپنے رنگ میں رنگ سکتا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سی پیک کیخلاف جاری پروپیگنڈے اور پراکسی وار کی مختلف جہتوں کےسیلاب کےحوالےسے جوابی سیلاب برپا کرکے صورتحال میں کیا کلیدی تبدیلی لائی جاسکتی ہے اس حوالے سے احمد منصور نے بڑی عرق ریزی کی ہے، بلوچستان کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ مہ رنگ بلوچ اور ان کی سرپرست دہشت گرد تنظیموں بی ایل ایف اور بی ایل اے کو بھارت سمیت چین کی دشمن عالمی طاقتوں کی جس بہت بڑی فنڈنگ کی سپورٹ حاصل ہےاس نےان کے بیانیہ کو بلوچ عوام کی بھاری اکثریت کے بیانیہ پر غالب کررکھا ہے۔ عام بلوچ لوگوں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اپنے بیانیہ کو سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر اجاگر کر سکیں یا اس حوالے سےکروڑوں روپےخرچ کرکےبڑی عوامی آگاہی مہم یاکوئی ’’ماس موومنٹ‘‘ شروع کرسکیں، عام بلوچ عوام کی اس کمزوری کی وجہ سے ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ایک کھلا میدان خالی مل گیا، یوں کوئی موثر مدمقابل نہ ہونے کی وجہ سے بی ایل ایف ، بی ایل اے اور بی وائی سی نے اپنا شیطانی جال دور دور تک پھیلا لیا، سی پیک دشمن عالمی استعمار اور بھارت کی طرف سے چونکہ بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی وائی سی پر مسلسل ڈالروں کی بارش ہوتی رہتی ہے اس لئے مالیاتی وسائل کی مہ رنگ بلوچ اور اس کے سرپرستوں کو کوئی کمی نہیں، اہم بات یہ ہے کہ اس بڑے مقابلے میں مہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو اس وقت تک فری ہینڈ ملا رہے گا جب تک پورے بلوچستان کے عوام کی اصل آواز کے جوابی بیانیہ کی نشر و اشاعت کیلئے ویسے ہی بھرپور فنڈزکا مستقل انتظام نہیں کیاجاتا، اس حوالے سے نہ صرف بلوچستان حکومت اور حکومت پاکستان بلکہ دوست عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ایران اور چین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور بلوچ عوام کو بحیثیت کمیونٹی اس فکری جنگ میں شامل کرنے کیلئے ناگزیر مالیاتی وسائل (ڈالروں)کی ایک ’’جوابی بارش‘‘کا پکا اور مستقل انتظام کرنا ہوگا۔
احمد منصورلکھتےہیں کہ محض ڈالروں کی جوابی بارش جوابی سیلاب برپا نہیں کر سکتی، اس لیے انہوں نے ایک پوری سوشل وارفیئر اسٹریٹجی دے کر ایک قابل قدر تحقیقی کام کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اب وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ بھارت چونکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کا بھی ازلی دشمن ہے اس لئے اس نے بلوچستان میں دہشت گردی کی آگ لگاکرچین کا یہ کلیدی راستہ مسلسل بلاک کررکھاہے،چین، ایران اورعرب ممالک اس عالمی کشمکش میں نہ صرف بلوچستان اور خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے فطری اتحادی ہیں، اس لیے پہلےمرحلے میں کوئٹہ، کراچی، گوادر، تربت، قلات اور سبی سمیت پورے صوبے میں گراس روٹ لیول پر موجود ورکنگ جرنلسٹوں، انجینئرز، اساتذہ، کاشتکاروں، کان کنوں ،ڈاکٹرز، ٹرانسپورٹرز، محنت کشوں اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کی ٹیموں کے چین، ایران اور عرب ممالک کے مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیاجانا اب وقت کی ضرورت بن چکا ہے، مہ رنگ بلوچ اور اس کی ٹیم اگر آئے روز یورپ کے دورے پرجاسکتی ہے تو بلوچستان کے میڈیا، اساتذہ ڈاکٹرز، انجینئرز، کاشتکاروں، ٹرانسپورٹرز، محنت کشوں اور منتخب بلدیاتی کے نمائندوں کے وفود کو چین ایران ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، کویت ، بحرین، قطر اور اومان کیوں نہیں بھجوایاجاسکتا، بلوچستان کے یہ حقیقی نمائندے جب تک اپنی آنکھوں سے دنیا کی ترقی و خوشحالی کو دیکھ کر واپس نہیں آئیں گے اور پھر اپنے ہم وطنوں کو گراس روٹ لیول پر اپنے انداز میں یہ سب کچھ نہیں بتائیں گے اس وقت تک بلوچستان کو اس خوشحال دنیا کا پل بنا کر دوطرفہ ثمرات کی بارش کا حقیقی شعور عظیم بلوچستان کے طول و عرض میں پیدا نہیں ہو گا، بلوچستان میں اس پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد اسے پہلے خیبرپختونخوا اور پھر گلگت بلتستان ، سندھ اور پنجاب تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ عوام میں جوابی آگہی کی مہم اور پھر اس حوالے سے جوابی بھرپور میڈیا وار ہی سی پیک دشمنوں کے برپا کیے ہوئے طوفانی سیلاب کا واحدحل ہے۔ قرآن پاک میں دریائے نیل سمیت دنیا کے سمندروں میں جوابی سیلاب کے اس ’’قانون فطرت‘‘ والی آیات مبارکہ ہم سب کیلئے ایک بڑا سبق ہیں، گوگل سرچ کر کے دریائے نیل ابیض اور دریائے نیل ازرق کے ملاپ کی ویڈیوز دیکھ کر اس حوالے سے ہر کوئی اپنا ایمان مزید پختہ کر سکتا ہے۔ جوابی سیلاب والا یہ ’’قرآنی علاج‘‘ہمارے عرب اور ایرانی دوستوں کی سمجھ میں تو فورا آجائے گا، اور چین والے جب دریائے نیل ابیض اور دریائے نیل ازرق کا حوالہ دیکھیں گے تو اس ’’قرآنی علاج‘‘ کی عظمت کے قائل ہو جائیں گے۔( جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں