Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عزم استحکام کے مخالفین اور ایشوریا رائے

بھینگی آنکھوں والے ایک سادہ لوح شخص کو مذاق ہی مذاق میں اس کے یار دوستوں نے یہ یقین دلا دیا کہ اس کی آنکھیں بہت نشیلی ہیں اور بھارتی اداکارہ ایشوریا رائے سے ملتی ہیں، گھر واپسی پر اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ نیک بخت تم ذرا غور سے دیکھ کر بتا ئو کہ کیا واقعی میری آنکھیں ایشوریا رائے سے ملتی ہیں ؟ بیگم یہ سن کر سٹپٹا اٹھی اور بے ساختہ جواب دیا ’’سرتاج آپ کی تو ایک آنکھ دوسری سے نہیں ملتی، ایشوریا رائے سے کیا ملنی ہیں؟ آپریشن عزم استحکام کے مخالفین خاص طور پر پی ٹی آئی لیڈروں اور مولانا فضل الرحمن کی آج کل کی گفتگو بھی کچھ اسی قسم کی ہے کہ ان کی ایک بات دوسری سے نہیں ملتی،ایک طرف یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں نے ہمیں الیکشن نہیں لڑنے دیا لیکن دوسرے ہی لمحے میں یہ انہی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی شدت سے مخالف کر رہے ہوتے ہیں ۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس، انڈر ورلڈ، مافیاز اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ملکی مسائل کی جڑ ہے اور دوسری طرف آپریشن عزم استحکام کی مخالفت شروع کر دی جاتی ہے کہ جو دہشت گردوں کی معیشت یعنی اسی ریڑھ کی ہڈی پر وار کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان افغانستان اور پاکستان ایران بارڈرز پر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے دھندے ، ایرانی تیل ، ٹائروں ، منشیات اور ناجائز اسلحہ کی اسمگلنگ کا قلع قمع کیا جائے گا، افغانستان اور ایران کے ساتھ منشیات، اسلحہ، ایرانی تیل، کھاد، گندم ، آٹا ، چینی، گھی اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی اسمگلنگ میں ملوث مافیاز اس دھندے سے جو اربوں کھربوں روپے کما رہے ہیں، اس کا بڑا حصہ مقامی جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد تنظیموں کی جیب میں جاتا ہے، یہ مستقل آمدنی دہشت گردوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جب تک اسے نشانہ نہیں بنایا جاتا، دہشت گردی نیٹ ورکس کو مفلوج کرنا ممکن نہیں۔
آپریشن عزم استحکام سابقہ آپریشنوں سے اسی لئے مختلف ہے کہ اس کو دہشت گردوں کی اسی معیشت کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن چونکہ بڑے مگرمچھ بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں اس لئے ان سیاست دانوں نے بھی شور مچا دیا ہے جو ان مافیاز اور اسمگلرز کے بینیفشری ہیں، یہ مافیاز اور اسمگلرز ملک کو ایک سافٹ اسٹیٹ رکھنا چاہتے ہیں، یہ دہشت گردوں کو فنڈ بھی کرتے ہیں اور ان کی سہولت کاری بھی کرتے ہیں، اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔آپریشن عزم استحکام کیخلاف پروپیگنڈہ وہ قوتیں کر رہی ہیں جن کو براہ راست ان غیرقانونی ذرائع سے پیسہ آرہا ہے، یہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تو صرف اس معاملے پر مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی بے چین دکھائی دے رہے ہیں مگر آنے والے وقت میں اور بہت سے لوگ بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہونا شروع ہو جائیں گے، جن میں اسد قیصر اور ترکئی برادرز سمیت بہت سے پی ٹی آئی لیڈروں کا نام بھی آ رہا ہے، پچھلے سال جولائی میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے چھاپہ مار کر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکے گھر سے کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں برآمد کی تھیں، اس واقعے سے بھی اندازہ ہو جانا چاہئے کہ یہ لوگ کیوں آپریشن عزم استحکام کیخلاف بول رہے ہیں۔ایک اور دلچسپ موازنہ افغان سرحد پرسخت چیکنگ کی حالیہ مخالفت ہے ، ایک طرف یہی سیاسی لوگ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ سرحدوں پر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے لوگ موجود ہیں پھر اسمگلنگ کیوں جاری ہے؟ لیکن اب جبکہ افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں نے سختی شروع کی ہے اور پاکستان افغانستان سرحد پر غیر قانونی تجارت کے تمام سلسلے روک دیئے گئے ہیں تو انہی سیاسی لوگوں نے اسمگلرز کی ملی بھگت سے طوفان اٹھایا ہوا ہے اور ان سخت گیر پابندیوں کے خاتمے کیلئے کبھی چمن اور کبھی انگور اڈہ اور کبھی کسی دوسرے سرحدی مقام پر کرائے کے احتجاجی مظاہرین کے ذریعے دھرنے شروع کروا دیئے گئے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر پیسے دے کر مقامی لوگوں کو دھرنوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
مافیاز ، اسمگلرز اور انڈر ورلڈ کو خوف اس بات کا ہے کہ افغانستان کی سرحد پر آمد و رفت کو دستاویزی شکل دیدی گئی اور سب کچھ ریکارڈ پر آگیا تو ان کا سارا کالا دھندہ بند ہو جائے گا، جب اسمگلرز، انڈر ورلڈ اور مافیاز کی اپنے ان دھندوں سے انکم ختم ہو جائے گی تو ان کی طرف سے مقامی جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں پر جو بھاری سرمایہ کاری کی جاتی ہے اس کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔ دہشت گرد اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس مالیاتی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنے مسلح لوگوں کو پالنے کے قابل نہیں رہیں گے تو ان کی سرگرمیاں بھی محدود اور پھر ختم ہو جائیں گی، اس کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہو گا اور ان علاقوں میں صنعتی و کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی جہاں لاقانونیت اور دہشت گردی نے تمام کاروبار مفلوج کر کے رکھ دیئے ہیں، بین الاقوامی سرحدوں پر اسمگلنگ کے خاتمے سے قانون تجارت کا حجم بڑھے گا اور ملکی آمدنی میں اضافہ ہو گا اور اس کا بھی آخر کار فائدہ عوام کو ہی ہو گا کہ جب ڈائریکٹ ٹیکسز سے آمدنی بڑھے گی تو حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے اور آئی ایم ایف کی قسطیں دینے کیلئے بجلی، پیٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ان ڈائریکٹ ٹیکسز نہیں لگانے پڑیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کسی زمانے میں کہا کرتے تھے کہ اگر طالبان کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ پہاڑوں سے اتر کر اسلام آباد پر قبضہ کرلیں گے، لیکن آج جب اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے دہشت گردوں کی معیشت یعنی ان کی ریڑھ کی ہڈی پر وار کی تیاری ہے تو انہوں نے اس کی شدت سے مخالفت شروع کر رکھی ہے۔ ایک بار پھر ایشوریا رائے والا لطیفہ یاد آ رہا ہے، ہماری بہت سے بڑے بڑے لیڈروں کو یہ خوش فہمی ہے کہ ان کی سیاست کسی حسینہ عالم کی جھیل جیسی آنکھوں کی طرح انتہائی قابل تعریف ہے لیکن عملی صورت یہ ہے کہ وہ ہر ایشو کو الگ الگ اینگل سے دیکھتے ہیں، یعنی بھینگا پن بہت نمایاں ہے، نہ ان کی ایک بات دوسری سے ملتی ہے اور نہ ایک پوائنٹ آف ویو دوسرے سے میل کھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں