Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بلوچستان میں دہشت گردی اور گونگے شیطان

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا لانگ مارچ جب کوہلو کے راستے ڈی جی خان اور تونسہ پہنچا تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اسی روٹ سے بلوچستان کے دہشت گرد 23 بے گناہ مسافروں کی لاشیں بھی بھجوائیں گے، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بی ایل اے اور بی ایل ایف کا ہی فرنٹ فیس یا نام نہاد سافٹ فیس ہونے کی حقیقت سے بے خبر ڈی جی خان اور تونسہ کے بہت سے سادہ لوح سرائیکی بلوچوں نے بھی اس لانگ مارچ کے لئے استقبالیہ کیمپ لگائے اور لانگ مارچ کے شرکا کے ہمراہ کئی روز تک دھرنے بھی دیئے، آج جب ایک بار پھر بلوچستان سے اسی خطے میں لاشیں آئی ہیں تو دہشت گردوں کے پولیٹیکل ونگ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور مہ رنگ بلوچ کا خیر مقدم کرنے والے اپنے کیئے پر ضرور پچھتا رہے ہوں گے، حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی قبیلہ ہوتا ہے، نہ کوئی قومیت اور نہ ہی کوئی ذات برادری، ان کا سب کچھ ان کا ناپاک ایجنڈہ ہوتا ہے، یعنی بیگناہوں کا خون بہا کر ٹیرر یعنی دہشت پھیلانا، اسی لئے انہیں دہشت گرد یا ٹیررسٹ کہا جاتا ہے، اپنے غیر ملکی آقائوں کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے یہ خود بھی ان کی پراکسی وار کا ایندھن بنتے ہیں اور اپنے اہل وطن اور اپنے گھر والوں کو بھی اس آگ کا ایندھن بناتے ہیں، ان کے بڑے اس کالے دھندے سے ڈالر کماتے اور عیاشیاں کرتے ہیں اور نچلے درجے کے گمراہ لوگوں کو قومیت ، رنگ ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر خونخواری پر لگا کر خود بھی اسی آگ میں جل مرنے کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
بلوچستان کے ان خون آشام گروہوں کی نمائندہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا استقبال کر کے اور اس کے دھرنوں میں شرکت کر کے ڈی جی خان اور تونسہ کے سرائیکی بلوچوں نے جس سادگی کا مظاہرہ کیا اس کے جواب میں انہیں ایک بار پھر لاشیں ہی ملی ہیں۔ بزرگ صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخش رحم اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا
ککر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا
ایک دور دراز خطے کے پسماندہ عوام کے کچھ لوگوں کی یہ سادہ لوحی تو کسی حد تک جسٹی فائی کی جا سکتی ہے لیکن حیرت ہوتی ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نام نہاد دانشوروں اور صرف نام کے روشن خیال میڈیا پر، کہ وہ بھی نیچاں دی اشنائی سے بار بار فیض پانے کے راستے پر چل پڑتے ہیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی اور مہ رنگ بلوچ کی ففتھ جنریشن وار میں رنگ بھرنے اور خون آشام چڑیلوں کو نیلم پریاں ثابت کرنے کے لئے انہوں نے کیا کیا جتن نہیں کئے؟ لیکن آج یہ تمام صحافی، اینکرز اور یوٹیوبرز گونگے شیطان بنے ہوئے ہیں نہ ان کی ’’نیلم پری‘‘کو بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی مذمت کی توفیق ہوئی ہے اور نہ ہی ان سہولت کاروں نے اپنے کیئے کی معافی مانگی ہے، بے شک جو شخص اس وقت چپ رہے جس وقت حق بات کہنا لازم ہو تو وہ گونگا شیطان ہے۔
انسانیت کے دشمنوں کو انسانی حقوق کے چیمپئن بنانے والے لکھاریوں اور میڈیا کے لیئے بلاشبہ یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ ان درندوں کیلئے سرگرم تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی کی امیج بلڈنگ کرتے رہے کہ جس کو بلوچستان کے علاقے موسی خیل میں 23 بے گناہ اور نہتے مسافروں اور ڈرائیوروں کو بسوں اور ٹرکوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے کے سانحہ کی جھوٹی مذمت کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔
اس سانحے نے ہر درد دل رکھنے والے انسان کو لرزا دیا لیکن نام نہاد روشن خیالوں کی زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں، اس گھنانے اور قبیح فعل کے ذمے داروں اور ان کے سہولت کاروں کی حمایت میں لکھنے اور بولنے والا میڈیا اب کیوں گونگا شیطان بنا ہوا ہے؟ یہ سوال اس لیئے بھی اہم ہے کہ جب سکیورٹی فورسز ان وحشی درندوں کیخلاف آپریشن کرتی ہیں تو آج کے یہ گونگے شیطان پھر انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کی آڑ لے کر ان دہشت گردوں کی حمایت میں سرگرم ہو جاتے ہیں، اور مختلف من گھڑت توجیہات پیش کر کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ تو اب کھلا راز ہے کہ بلوچستان کے خوارج کی مختلف دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے ، بی ایل ایف اور مجید بریگیڈ وغیرہ کا سافٹ فیس بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نام سے سرگرم ہے جس کی لیڈر مہ رنگ بلوچ کو انسانی حقوق کی علمبردار قرار دینے کیلئے مخصوص میڈیا گروپ مسلسل متحرک رہتا ہے لیکن آج جب بلوچستان میں 23 بے گناہ مسافروں کے خون کی ہولی کھیلی گئی ہے تو ان کو چپ کیوں لگی ہے؟ سوال یہ ہے کہ ان 23 بے گناہ مقتولین کے کوئی انسانی حقوق نہیں، یہ کسی کے بیٹے، باپ اور شوہر نہیں؟بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں جہاں جہاں بھی دہشت گردوں کی طرف سے بیگناہ پاکستانیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کی سرکوبی کرنا مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں اور ریاست و حکومت پاکستان کا قومی، ملی، اسلامی، آئینی اور انسانی فریضہ ہے، افواج پاکستان اور سکیورٹی ادارے جب اس عظیم فرض کی انجام دہی میں مصروف ہوتے ہیں تو ان کی اخلاقی سپورٹ کرنا تمام اہل وطن اور میڈیا کا بھی قومی، ملی، اسلامی، آئینی اور انسانی فریضہ ہے، لیکن افسوس ہوتا ہے میڈیا کے مخصوص طبقے کے طرزِ عمل پر کہ جو دہشت گردوں اور ان کے پولیٹیکل فرنٹ کی حمایت میں سرگرم رہتے ہیں اور محض ڈالروں کیلئے اپنے قومی، ملی، اسلامی، آئینی اور انسانی فریضے سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
مہ رنگ بلوچ اور اس کے ساتھی دہشت گردوں پر مشتمل بلوچستان کے گروہ خوارج کا یہ پرانا طریقہ واردات ہے کہ پہلے اپنے پولیٹیکل ونگ کے ذریعے انسانی حقوق کی آڑ لے کر جلسے جلوس ، پریس کانفرنسیں کرتے اور دھرنے دیتے ہیں اور پھر دہشت گردی کی وارداتیں کرکے اپنے غیر ملکی آقاں کی طرف سے دیئے گئے ٹارگٹ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سکیورٹی فورسز نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انہیں منہ توڑ جواب دیا اپنی خفت مٹانے کیلئے اس گروہ خوارج نے پرانی ویڈیوز ڈال کر اپنی کامیابی کے جھوٹے دعوے کرنے شروع کر دیئے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں