(گزشتہ سے پیوستہ)
عالمی اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے میڈیا اداروں ، صحافیوں ، اینکرز اور یوٹیوبرز کی طرف سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی بالواسطہ حمایت اور ان کے غیر انسانی وحشیانہ اقدامات کو مختلف توجیہات پیش کر کے ’’جائز‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں، یہ انتہائی منافع بخش خدمات کچھ لوگوں کے لئے پرکشش ہو سکتی ہیں لیکن سب کے لئے نہیں، اب جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور مہ رنگ بلوچ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے موقع پر گونگی شیطان بنے رہنے کی وجہ سے بری طرح ایکسپوز ہو چکیں ہیں، دونوں کی امیج بلڈنگ پر ’’تعینات‘‘اینکرز اور یوٹیوبرز پھر حرکت میں آ گئے ہیں اور بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایکسپوز ہونے والے گٹھ جوڑ کو مختلف تاویلیں دے کر دوبارہ سے کیموفلاج کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، اس طبقے نے لاپتہ افراد کے نام پر اپنا چورن کئی عشروں تک خوب بیچا، آج کل مہ رنگ کی ففتھ جنریشن وار میں رنگ بھرنے کی ان کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے، کڑوا سچ یہ ہے کہ جب آپ ڈالروں کی چمک سے متاثر ہو کر ایسی سروسز فراہم کرنے لگتے ہیں تو آپ ’’رنگساز‘‘ یا ’’رنگباز‘‘تو ہو سکتے ہیں صحافی اور قلم کار ہرگز نہیں۔
خود مہ رنگ بلوچ نے بھی اپنے بیانیہ کے پٹ جانے پر بوکھلاہٹ میں بے سروپا بیان بازی کی نئی کوشش کی ہے لیکن ان سے بات نہیں بن پا رہی اور صاف نظر آ رہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کیخلاف ملک گیر غم و غصے کی لہر اور شدید تنقید سے گھبرا کر مہ رنگ بلوچ کی طرف سے گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کی بہ امر مجبوری یہ ایکٹیویٹی کھسیانی بلی کھمبا نوچے سے زیادہ کچھ نہیں۔ مہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک محتاط سا پیرا لکھ کر اپنے آپ کو اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو معصوم ثابت کرنے اور اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، چور کی داڑھی میں تنکا والی کہاوت کے تحت مہ رنگ بلوچ اپنے اس ٹویٹ کی وجہ سے بھی پکڑی گئی ہیں، اپنے عدم تشدد کا پرچارک ہونے کے دعوے والے مختصر بیان میں بھی مہ رنگ بلوچ کو بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی مذمت میں ایک جملہ تک لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی، انتہائی احتیاط سے لکھے گئے وضاحتی بیان میں بھی مہ رنگ بلوچ کی تنقیدی توپوں کا رخ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی طرف ہی رہا، بی ایل اے اور بی ایل ایف کی اشاروں کنایوں میں بھی مذمت کی وہ جرات نہیں کر سکیں جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ دہشت گردوں کے لئے ان کی ہمدردیاں اور سپورٹ کتنی مستقل اور زوردار ہے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر اپنے ردعمل کے اظہار میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور مہ رنگ بلوچ اتنے دن خاموش کیوں رہیں؟
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سلگتے سوالات کی بھرمار ہے، لیکن نہ مہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب ہے اور نہ ہی ان صحافیوں، اینکرز اور یوٹیوبرز سے بات بن پا رہی ہے کہ جنہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور مہ رنگ بلوچ کے لئے غیر مرئی میڈیا سیل چلانے کا کنٹریکٹ سائن کیا گیا ہے،اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ مہ رنگ بلوچ کا اتنی تاخیر سے آنے والا وضاحتی بیان اپنے جھوٹے بیانیئے کی کاٹھ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر پھوٹ جانے کے باعث سامنے آیا دہشت گردی کے متاثرین سے ہمدردی کی وجہ سے نہیں، کیونکہ اگر انہیں دہشت گردی کے مظلوم متاثرین اور ان کے غمزدہ گھرانوں کا دکھ بانٹنا ہوتا تو یہ پھسپھسا سا ٹویٹ آنے میں اتنی دیر نہ لگتی۔ تاخیر سے ہی سہی یہ ’’تیر نیم کش‘‘چلانے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہ رنگ بلوچ کو احساس ہو گیا ہے کہ کروڑوں روپے کی بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے کئی ماہ تک چلائی گئی ان کی امیج بلڈنگ کی مہم 48گھنٹوں کے شدید عوامی ردعمل نے اڑا کر رکھ دی ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ لرزہ خیز واقعات کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے اور وہ یہ ہے کہ اس دوران بھارتی میڈیا پر پروپیگنڈے کا طوفان ایک بار پھر دیکھنے کو ملا، ایسی ہی خصوصی دلچسپی بھارتی اخبارات اور نیوز چینلز مہ رنگ بلوچ کے دھرنوں اور دیگر سرگرمیوں کی کوریج کے حوالے سے بھی دکھاتے ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘نے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور کو ناکام بنانے کے لئے جو پراکسی وار شروع کر رکھی ہے پاک فوج کی قربانیوں اور بلوچستان کے عوام کی حب الوطنی کی وجہ سے اسے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو رہی،اس لئے مایوس ہو کر بیگناہوں کے خون سے ہولی کھیل کر یہ گھنانا نیٹ ورک اپنی خفت مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، بلوچستان میں پچھلے کئی برسوں کے دوران پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی ویڈیوز اکھٹی کر کے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ بلوچستان میں حالات بہت بڑے پیمانے پر خراب ہوگئے ہیں، اس جھوٹی میڈیا مہم کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کا مقصد صوبے میں ترقیاتی عمل اور سرمایہ کاری کی رفتار میں رکاوٹ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں، جو ان دہشت گردوں اور ان کے بیرونی آقائوں کا اصل ایجنڈہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس غیر ملکی ایجنڈے کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ اس پروپیگنڈے کی بالواسطہ سپورٹ کرنے والوں کو بھی نکیل ڈالی جائے کیونکہ مسلسل ڈھیل ملتے رہنے کی وجہ سے یہ گونگے شیطان بلوچستان کے شیطانی نیٹ ورک کے گھنانے عزائم بے نقاب ہو جانے کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے۔