آبی جارحیت اور جنوبی ایشیا ء کا مستقبل
برصغیر کا المیہ اگست 1947ء میں یونین جیک کے اترنے کے ساتھ ختم نہیں ہوا وہ تو محض ایک نئے اور پُرآشوب دور میں داخل ہوا۔ پاکستان کے نقش عالم پر نمودار ہوتے ہی اس کے مشرقی افق پر بداعتمادی
برصغیر کا المیہ اگست 1947ء میں یونین جیک کے اترنے کے ساتھ ختم نہیں ہوا وہ تو محض ایک نئے اور پُرآشوب دور میں داخل ہوا۔ پاکستان کے نقش عالم پر نمودار ہوتے ہی اس کے مشرقی افق پر بداعتمادی
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بنگال کے مسلمانوں نے برصغیر میں نظری پاکستان کو عملی شکل دینے کی جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ 1906ء میں ڈھاکہ سے لے کر 1940ء کی قراردادِ لاہور اور
ماہِ مبارک رمضان قریب آتا ہےتو انسان خود بخود غور و فکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ مجھے اشفاق احمد صاحب کی ڈائری میں درج ایک دلکش مگر گہرا واقعہ یاد آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اُن کےدفتر
جوں جوں ماہِ مبارک رمضان قریب آتا ہے، انسان خود بخود غور و فکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ مجھے اشفاق احمد صاحب کی ڈائری میں درج ایک دلکش مگر گہرا واقعہ یاد آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ
جب پاکستان نے چند اسلامی ممالک کے ساتھ ڈیووس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لئے قائم کردہ امن بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر، امریکی صدر کی موجودگی میں، دستخط کئے تو مختلف حلقوں سے تنقید کی آوازیں بلند
کبھی ’’اسپورٹس مین اسپرٹ‘‘ (کھیل کی روح) کا لفظ بڑے احترام سے ادا کیا جاتا تھا۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت تھی، خصوصاً جنوبی ایشیا کے میدانوں میں۔ ماضی کی دہائیوں میں، جب ہمسایہ ریاستوں کےدرمیان
ریاست اپنے مثالی اخلاقی تصور میں ماں کی مانند ہوتی ہے،محافظ بھی، شفیق بھی، فیاض بھی اور باوقار نظم و ضبط کی حامل بھی۔ وہ تحفظ فراہم کرتی ہے، مواقع پیدا کرتی ہے، حدود متعین کرتی ہے اور جب اجتماعی
بھوک ایک گہرا اورجان لیوا بوجھ ہے۔ اس کےدباؤ تلے علم، دانش، عقل، فکر اور انسان کے تمام اعلیٰ اظہار ماند پڑجاتے ہیں بلکہ رفتہ رفتہ فنا ہوجاتے ہیں۔ بھوک محض خوراک کی عدم موجودگی کا نام نہیں؛ یہ وقار
انسانی معاشروں کے درمیان تنازعات کی تاریخ خود تہذیب جتنی قدیم ہے۔ عقیدے، سرزمین، طاقت اور زاوی نظر کے اختلافات نے بارہا اقوام اور برادریوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے تنازعات عموماً چند ہی
تاریخ انسانی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ریاستوں کے درمیان دشمنی اور تصادم بھی ہمیشہ مکمل طور پر بے اصول نہیں رہا۔ قدیم جنگوں سے لے کر جدید ریاستی تنازعات تک، ایک غیر تحریری ضابطہ اخلاق موجود رہا ہے