Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جنہاں دےگھر دانے

بھوک ایک گہرا اورجان لیوا بوجھ ہے۔ اس کےدباؤ تلے علم، دانش، عقل، فکر اور انسان کے تمام اعلیٰ اظہار ماند پڑجاتے ہیں بلکہ رفتہ رفتہ فنا ہوجاتے ہیں۔ بھوک محض خوراک کی عدم موجودگی کا نام نہیں؛ یہ وقار کی سست موت ہے، انسانی صلاحیت کے خاموش زوال کا عمل ہےاور خواب دیکھنے، غور و فکر کرنے اور آگے بڑھنے کی انسانی سکت کی بے رحمانہ چوری ہے۔ جہاں بھوک بسیرا کرتی ہے، وہاں دلیل پسپا ہو جاتی ہے۔ جہاں پیٹ کی خالی گونج سنائی دیتی ہے، وہاں ذہن خاموش ہوجاتا ہے۔ بھوک سے نڈھال انسان فلسفہ نہیں سوچ سکتا، شاعری نہیں لکھ سکتا، نہ پڑھا سکتا ہے، نہ سیکھ سکتا ہے، نہ محبت کر سکتا ہے۔ اس کی جدوجہد حیوانی بقا کی جبلّت تک محدود ہو جاتی ہے۔ تمام اخلاقی مباحث، مذہبی خطبات اور سیاسی نظریات اس ایک سادہ مگر دردناک سوال کے سامنے بکھر جاتے ہیں:’’آج میں کیا کھاؤں گا؟‘‘
یہ نہیں کہ بھوکا انسان ان بلند مقاصد میں دل چسپی نہیں رکھتا،حقیقت یہ ہے کہ وہ کر ہی نہیں سکتا۔ بھوک ایک ایسے ظالم آمر میں بدل جاتی ہے جو ہر آمر سے زیادہ سفاک اور ہر نظریے سے زیادہ اندھا ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں بھوک عام ہو، وہاں کلاس روم ذہانت کی کمی سے نہیں بلکہ غذا کی قلت سےخالی ہوتے ہیں۔ باصلاحیت بچےجوڈاکٹر، انجینئر، مفکر یاشاعر بن سکتے تھے، مجبوراً مشقت پر لگ جاتے ہیں،کہیں مزدوری، کہیں کچرا چننا، کہیں پانی کےایک گھونٹ سے تڑپتے معدے کو بہلانا۔ بھوکا طالب علم الجبرا پر توجہ نہیں دے سکتا، بھوکی ماں لوری نہیں گاسکتی اور غذائی قلت کا شکار باپ دانائی بانٹنے کے قابل نہیں رہتا۔ جسم کمزور ہوتاہےمگر اس سےبڑھ کر روح مدھم پڑنےلگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارے عہد کےسب سےبڑے سانحات جنم لیتےہیں،صرف جنگوں میں نہیں بلکہ روٹی کی عدم موجودگی سے پیدا ہونے والی عقل اور تخیل کی خاموش، لاوارث اموات میں۔
قرآنِ مجید بارباراہلِ ایمان کو محتاجوں کی خبرگیری اوربھوکوں کوکھاناکھلانے کی تلقین کرتا ہے۔ سورۃ الانسان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور وہ اپنی محبت کے باوجود محتاج، یتیم اور قیدی کوکھانا کھلاتے ہیں (اورکہتے ہیں)؛ ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، نہ ہم تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔(القرآن 76:8)‘‘ یہ الٰہی ہدایت محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایمان کےتانے بانےسےجڑی ایک قطعی ذمہ داری ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا خیرات نہیں، فرض ہے۔
تاریخ اور ادب بھی اس سچ کی گہرائی کی گواہی دیتےہیں۔ وکٹر ہیوگو نے لے میزربل میں ایک ایسا ناقابلِ فراموش منظررقم کیاجہاں ایک شخص روٹی چرانےپرمجرم ٹھہرا،حالاں کہ درحقیقت مجرم وہ معاشرہ تھاجس نے اس کی بھوک کو اس حد تک پہنچنے دیا۔ بھوک اپنی ہولناک ناانصافی میں صرف بھوکے کو نہیں لوٹتی؛ یہ ہمیں سب کو مجرم ٹھہراتی ہے، کیونکہ یہ اُن تہذیبوں کی اخلاقی کھوکھلاہٹ عیاں کر دیتی ہےجو اسےبرداشت کرتی ہیں۔
آج کی دنیا میں بہت سےخطوں میں بھوک قلت کا نتیجہ نہیں بلکہ غفلت،لالچ اورعدم مساوات کا شاخسانہ ہے۔گودام بھرےپڑےہیں،دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہے، خوراک ٹنوں کےحساب سےضائع ہو رہی ہےجبکہ کہیں لوگ ایک نوالے کےلیےکوڑا کھنگالنے پر مجبور ہیں۔ المیہ یہ ہےکہ ہم سب کو کھلانے کے لیے کافی پیدا کرتے ہیں مگر ایسے نظام چنتے ہیں جو بہت سوں کو رسائی سے محروم رکھتےہیں۔ آج کی بھوک تقدیر کی لعنت کم اور ٹوٹی ہوئی حکمرانی اور ناکام رحم دلی کا نتیجہ زیادہ ہے۔
ایسے ہی میں پنجابی کی ایک قدیم کہاوت تلخ سچ بن کر گونجتی ہے؛
’’جنہاں دے گھر دانے،انہاں کملے وی سیانے‘‘ یعنی جن کے گھر اناج ہو، وہ پاگلوں میں بھی دانا سمجھے جاتے ہیں۔یہ یاد دہانی ہےکہ دولت اوروسائل اکثر اعتبارکاواحد پیمانہ بن جاتے ہیں۔ غریب کتناہی ذہین کیوں نہ ہو، نظراندازرہتا ہے؛ امیرحماقت میں بھی داد پاتاہےصرف اس لیےکہ اس کے پاس وہ ہے جو بھوکے کے پاس نہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بھوکوں کو نظرانداز کرنے کی سنگینی سےخبردارفرمایا ’’وہ مومن نہیں جس کا پیٹ بھرا ہواور اسکا پڑوسی بھوکا ہو۔‘‘(سُنن الکبریٰ، بیہقی) یہ حدیث سماجی بےحسی کے ساتھ جڑی روحانی ناکامی کو پوری شدت سے نمایاں کرتی ہے۔ گناہ صرف دولت جمع کرنے میں نہیں، بلکہ پڑوسی کے خالی پیالے سے منہ موڑ لینے میں ہے۔
اس کے اثرات فرد تک محدود نہیں رہتےقوموں تک پھیلتے ہیں۔ بھوکے شہریوں والا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اس کی عقل محدود، پیداوار گھٹی ہوئی اور تخلیق بجھی ہوئی ہوتی ہے۔ اختراع خالی پیٹ کےخلا میں نہیں بلکہ تحفظ اور امید کی سیرابی میں جنم لیتی ہے۔ جو قومیں بھوک کو نظر انداز کرتی ہیں، وہ ہتھیاروں، سرحدوں اور نعروں میں سرمایہ لگاتی ہیں مگر یہ بھول جاتی ہیں کہ اصل طاقت اسلحہ خانوں میں نہیں، سیراب ذہنوں میں ہوتی ہے۔ بھوک کا ایک گہرا روحانی پہلو بھی ہے۔ دنیا کے بڑے مذاہب سب بھوکوں کو کھانا کھلانےکاحکم دیتے ہیں۔ اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندومت سب کے نزدیک کسی کو کھانا کھلانا عبادت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’جہنم کی آگ سے بچو، چاہے کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کر کے۔‘‘(صحیح بخاری) خلوص سے کیا گیا یہ معمولی سا عمل بھی انسان کو ابدی سزا سے بچا سکتا ہے۔ قرآن اُن لوگوں کو سخت تنبیہ کرتا ہے جو اس ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں:’’کیا تم نے اُس شخص کو دیکھا جو جزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔” (القرآن 107:1)
پس، بھوک محض سماجی مسئلہ نہیں؛ یہ ایک روحانی بحران ہے۔ جب کسی مرد یا عورت کو بھوکا چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ صرف معاشی ناکامی نہیں اخلاقی شکست ہے۔
تو پھر کیا کیا جائے؟ جواب صرف خیرات میں نہیں، انصاف میں ہے۔ ہمیں ایسے نظام تعمیر کرنا ہوں گےجہاں خوراک حق ہو، رعایت نہیں۔ جہاں کسان کو لوٹا نہ جائے، غریب کو نظر انداز نہ کیا جائے اور بھوکے کو شرمندہ نہ کیا جائے۔ حکومتوں کو غذائی تحفظ کو قومی سلامتی جتنی ہی فوری ترجیح دینا ہوگی۔ سول سوسائٹی کو محض وقتی امداد تک محدود نہیں رہناچاہیے بلکہ بھوک کی جڑیں کاٹنےکےلیےاٹھ کھڑاہوناچاہیے۔تعلیم، روزگار اور صحت یہ سب مل کر ہی نسل در نسل غربت اور غذائی قلت کی زنجیریں توڑ سکتے ہیں۔
آئیے بھوک کو ذہنوں کے اس خاموش قتلِ عام کو جاری رکھنے نہ دیں۔ آئیے، صرف پیٹ نہیں روحیں بھی سیراب کریں اور یوں اپنی انسانیت کو غذا دیں۔

یہ بھی پڑھیں