Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کھیل کو سانس لینے دیجئے

کبھی ’’اسپورٹس مین اسپرٹ‘‘ (کھیل کی روح) کا لفظ بڑے احترام سے ادا کیا جاتا تھا۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت تھی، خصوصاً جنوبی ایشیا کے میدانوں میں۔ ماضی کی دہائیوں میں، جب ہمسایہ ریاستوں کےدرمیان کشیدگی اپنےعروج پرہوتی تھی، تب بھی کھیل نےایک نادروقار برقراررکھا۔ پاکستان اوربھارت،جنگوں،سفارتی تعطل اور دیرینہ سیاسی مخاصمت کے باوجود، ہاکی،کرکٹ اوردیگرکھیلوں میں ایک دوسرے کے مدمقابل آتے رہے۔ حالات کشیدہ ضرور ہوتےتھے، مگر یہ کشیدگی کھیل کے جذبے کو شاذ و نادر ہی آلودہ کرپاتی تھی۔ ٹیمیں ایک دوسرےکےملکوں کا سفر کرتیں، تماشائی جوش کے ساتھ مگر ضبط کے دائرے میں رہ کر مقابلے دیکھتے اور میدان ایک غیرجانبدارخطہ بن جاتا جہاں انسانیت خاموشی سے دشمنی پر غالب آ جاتی تھی۔
اس دور کو دیکھنے والے آج بھی ان چھوٹے مگر معنی خیز لمحات کو یاد کرتے ہیں جو کھیل کےاصل جذبے کی تعریف تھے۔ کسی فیلڈرکامخالف بلےبازکےجوتے کے تسمے باندھ دینا، سخت مقابلے کےبعد ایک مسکراہٹ کا تبادلہ، یا مخالف ٹیم کے شاندار شاٹ پر، جرسیاں کسی بھی ملک کی ہوں، تالیاں بجانا کمزوری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ اعتماد کی علامت تھا، اس یقین کااظہار کہ کھیل سیاست سے بڑا ہے۔
ایسا ہی ایک روشن لمحہ 22 دسمبر 1989ء کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کےدرمیان ایک روزہ میچ میں سامنے آیا۔ وقار یونس کی اِن سوئنگ گیند پر بھارتی بلے باز سری کانت کےخلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی گئی اور امپائرشکو ررانا نے انگلی اٹھا دی۔ سری کانت نے احتجاج کیا اور میدان چھوڑنے میں تامل کیا۔ اسی لمحے پاکستان کے کپتان عمران خان نے ایسا قدم اٹھایا جو آج کے معیار سے تقریباً ناقابلِ تصور ہے۔ انہوں نے امپائر کے فیصلے کےباوجودسری کانت کو کھیل جاری رکھنے کی دعوت دی۔ سری کانت نے دوبارہ اننگز شروع کی، مگر اگلی ہی گیند پر سلیم یوسف کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اسکور کارڈ میں یہ ایک معمولی آؤٹ درج ہوا،مگر تاریخ نےاسےغیرمعمولی ظرف اورفیاضی کے طور پر محفوظ کر لیا۔اب اس روایت کا موازنہ حالیہ مناظر سے کیجیے، جہاں ٹاس کے بعد مصافحہ تک سے گریز کیا گیا۔ جب ایک بھارتی کپتان نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا، تو یہ محض شخصی بے ادبی نہیں تھی بلکہ اس بات کااعلان تھاکہ ریاستی سیاست کھیل کے میدان میں باقاعدہ داخل ہوچکی ہے۔جو میدان کبھی طاقت کی کشمکش سے پناہ گاہ تھا، وہ اب اس کا تسلسل بنتا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی کھیل بظاہرفیڈریشنوں اورکونسلوں کے زیرِانتظام ہوتے ہیں جوخودکو غیر جانبدار اورضابطوں کاپابند قرار دیتی ہیں لیکن ان کی غیرجانب داری پر سوالات ہر متنازع فیصلے کے ساتھ بڑھتے جا رہےہیں۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ فروری 2022ء میں روس کے یوکرین پرحملےکےبعد،اکتوبر 2023ء میں روسی اولمپک کمیٹی کو معطل کردیاگیا۔ روس کو بطور ریاست مقابلوں، بشمول 2026ء سرمائی اولمپکس، میں شرکت سے روک دیاگیا، مالی معاونت بندکردی گئی اورکھلاڑیوں کواپنےقومی پرچم تلے کھیلنےکا حق بھی نہ دیا گیا۔ پیغام واضح تھا؛ ریاستی اقدامات کے کھیلوں پر اثرات ہوں گے، چاہے انفرادی کھلاڑی کا موقف کچھ بھی ہو۔
مگر غزہ میں تقریباً دو برس سے جاری تباہ کن تشدد کے بعد، اولمپک کمیٹی کا لہجہ مختلف نظر آیا۔ اس نے مؤقف اختیار کیا کہ کھلاڑیوں کو اپنی حکومتوں کے اقدامات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا،یہ اصول اچانک اُس وقت نمایاں ہوا جب اس کا اطلاق اسرائیلی کھلاڑیوں پر ہوا۔ اس تضاد نے دوہرے معیار اور جانبداری کے الزامات کو جنم دیا۔ ناقدین کے نزدیک اخلاقی اصول مغربی مفادات کے مطابق لچکدار دکھائی دیتے ہیں۔ اولمپک کمیٹی پیچیدگی اور ہر معاملے کے الگ جائزے کی بات کرتی ہے مگر بہت سے مبصرین کے نزدیک اس عدمِ تسلسل نے اس کی اخلاقی ساکھ کو مجروح کیا ہے۔
کرکٹ بھی اس رجحان سے محفوظ نہیں رہی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے متعدد مواقع پر مقامات اورفارمیٹ ایسےاندازمیں تبدیل کیےجو طاقتوربورڈز،خصوصاً بھارت، کے سیاسی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے محسوس ہوئے۔ 2025ء کی چیمپئنز ٹرافی، جس کی میزبانی پاکستان نے کی، میں بھارت نے سیکیورٹی اور سیاسی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان آنے سے انکار کیا۔ آئی سی سی نے ہائبرڈ ماڈل کے تحت بھارت کے میچز متحدہ عرب امارات منتقل کر دئیے۔ ایشیاء کپ کے کئی ایڈیشن بھی اسی نوعیت کی ہچکچاہٹ کے باعث منتقل یا ازسرِ نو ترتیب دیےگئے۔یہ تنازع 2026ء کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں مزیدگہرا ہو گیا، جس کی مشترکہ میزبانی بھارت اور سری لنکا نےکی۔ بنگلہ دیش نے اپنے گروپ میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی مگر آئی سی سی نےخطرے کے معتبر شواہد نہ ملنے پر اسے مسترد کر دیا۔ جب بنگلہ دیش نے سفرسے انکار کیا تو اسے اسکاٹ لینڈ سے بدل دیاگیا اور یوں وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔ کوئی جرمانہ عائدنہ ہوابلکہ مستقبل میں ایک اضافی ایونٹ کی میزبانی کا وعدہ کیا گیامگر سوال برقرار رہا؛ بھارت کےلیے غیرجانبدارمقامات کیوں اوربنگلہ دیش کےلیے اخراج کیوں؟
اس واقعے نےجدید کھیل میں طاقت، سیاست اوراصول کےنازک امتزاج کو بےنقاب کردیا۔ پاکستان کا ردِعمل نمایاں تھا۔ بنگلہ دیش سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اور دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے پاکستان نے کھیل کو اجارہ داری اور اخلاقی انتخابیت سے آزاد کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بعد ازاں اس نے ٹورنامنٹ کے استحکام کی خاطر شرکت قبول کی مگر اس ابتدائی حمایت کو بنگلہ دیش میں انصاف پر مبنی اقدام کے طور پر سراہا گیا۔
اپنی بہترین صورت میں کھیل تہذیبی قوت ہے۔ یہ فتح میں ضبط، شکست میں وقار، اور تقسیم کے باوجود احترام سکھاتا ہے۔ جب سیاست کھیل کے میدان کو اپنی کالونی بنا لیتی ہے تو کھیل نہ صرف اپنی معصومیت بلکہ اپنی ساکھ بھی کھو دیتا ہے۔ لاہور 1989ء کا سبق آج بھی زندہ ہے؛ ضابطے اہم ہیں، مگر جذبہ اس سےبھی زیادہ اہم ہے۔اگربین الاقوامی کھیل اپنی اخلاقی حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہےتو اسے اصولوں کا اطلاق یکساں طور پرکرنا ہوگا اور کھیل کو ایک بار پھر اثر و نفوذ سے آزاد فضا میں سانس لینے دینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں