Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

معاشی طور پر غیر مستحکم حالات اور غیر ملکی سرمایہ کاری

اس وقت ملک کی اکانومی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ گیس‘بجلی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام اور خواص دونوں کو ہی بے حد پریشان کیا ہوا ہے۔ وہیں کارخانے بند ہورہے ہیں‘ تواس کے پیش منظر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کس طرح آئے گی؟ اگر ملک کے معاشی حالات ترقی پذیر ہوتے اور قوم کے مابین اتحاد ویکجہتی ہوتی تو یقینا غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد ہوسکتی تھی‘لیکن اس کے لئے بھی بے حد کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب ایسا ممکن نہیں ہے جب مقامی صنعتکار ‘ سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں تو غیر ممالک کیوں کر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے؟ ویسے بھی عام انتخابات کے بعد پاکستان کا بیرون ملک امیج انتہائی خراب ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ جیسا ملک جو پاکستان کے لئے ہمدردی رکھتاہے اس نے بھی پاکستان میں 8فروری کو ہونے والے انتخابات پر شدید تحفظات کااظہار کیا ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کا پاکستان کی طرف رویہ انتہائی تلخ ہے بلکہ اس نے توموجودہ معاشی حالات کی گراوٹ پہ افسوس کااظہار کرتے ہوئے بعض ایسی تفصیلات طلب کی ہیں جو پاکستان کی سیکورٹی کو متاثر کرنے کے زمرے میں آتی ہیں۔ مزید برآں مہنگائی کم ہوتے ہوئے نظرنہیں آرہی ہے۔ بلکہ رمضان کے مقدس مہینے میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے ۔ کیونکہ حکومت کا بیوپاریوں پہ کسی قسم کا کنٹرول نہیں ہے‘ مافیا من مانے انداز میں اشیائے خوردونوش فروخت کررہاہے۔ جبکہ خریدار کفِ افسوس مل رہاہے۔ ہر آدمی ان حالات میں غمزدہ اور پریشان ہے کیونکہ اصلاح واحوال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ حکومت کرنے والے صرف اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بیورو کریسی کو اس بات کی کوئی فکرنہیں ہے کہ ہم کس طرح ایسی حکمت عملی تیار کریں جس کی مدد سے مہنگائی کے عفریت کو کنٹرول کیاجاسکتاہے۔ مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ریٹیلرز ہیں جو مختلف علاقوں سے سستی اشیا لاتے ہیں اور شہر میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ ان پر تو کسی قسم کا ٹیکس ہے اور نہ ہی کسی قسم کا چیک اینڈ بیلنس اگر حکومت واقعی ان بیوپاریوں پر فکسڈ ٹیکس عائد کردیتی ہے ( جس کا اعلان بھی کیا گیاہے) تو اس طریقہ کار سے قومی خزانے کو بہت فائدہ پہنچ سکتاہے‘ نیز مہنگائی میں بتدریج کمی ہوسکتی ہے۔
تاہم کمزور معاشی صورتحال کو صرف مقامی سرمایہ کاروں کی مدد اور اعتماد سے بہتری کی طرف لایاجاسکتاہے۔ جب مقامی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی تجارتی اور معاشی پالیسیوں پراعتماد بڑھے گا تو وہ اپنا محفوظ سرمایہ نکال کر ملک کی خاطر سرمایہ کاری کریں گے۔ لیکن کیونکہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی معاشی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی کسی اچھی امید افزا معاشی پالیسیاں سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس لئے کوشش یہ کرنی چاہیے کہ موجودہ حالات کو سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی جانی چاہیے اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لے کر معاشی استحکام کی طرف مثبت سوچ کے ساتھ آگے کی طرف بڑھناچاہیے۔
نیز اس وقت معاشرے میں اور سیاست دانوں کے مابین جوتلخی اور بدگمانیاں پائی جارہی ہیں بلکہ ان میں بلکہ ان میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ بھی ہورہاہے ۔ جس کی وجہ سے عوا م میں Depression پھیل رہاہے۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے نیز یہ امید کرنا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو8ملین ڈالر کاقرضہ آسانی سے دے گا۔ ایک امید موہوم ہے۔ نیز آئی ایم ایف کا یہ سوال اپنی جگہ بجاہے کہ 1988ء سے آئی ایم ایف سے پاکستانی عوام کے نام پر حکومت نے جو قرضہ لیا ہے ‘ اس کا کس طرح استعمال ہواہے۔ اگر اس کا عوام کی بہتری کیلئے استعمال ہوتاتو آج پاکستانی عوام کی یہ دل برداشتہ صورتحال نہ ہوتی۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ جوقرصہ لیا گیاہے وہ اقتدار پر فائز افراد اورسیاستدانوں اوران کی مدد کرنے والوں نے خرچ کئے ہیں ۔ عوام کو کچھ نہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی اشرافیہ (بدمعاشیہ) کا ایک طبقہ دولت اور طاقت کے سہارے نہ صرف حکومت پر فائز ہوتاہے بلکہ کرپشن کرکے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے ملک کو مزید کمزور کرتاہے ۔ یہ حقیقت پر مبنی صورتحال کئی دہائیوں سے چلی آرہی ہے۔ لیکن اس کاازالہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اشرافیہ مال مفت دل بے رحم ہے‘ کے مصداق اس طریقہ کار کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیااس طرح پاکستان میں کیوں کر تبدیلی آئے گی اور کس طرح معاشی استحکام پیدا ہوسکے گا۔ کون مردمومن اسلامی شعار کو اپناتے ہوئے ملک میں کرپشن کی لعنت کو ختم کرے گا تاکہ جن اعلیٰ مقاصدکے تحت پاکستان معرض وجودمیں آیاہے اس کی تکمیل کرنے میں مزید کوتاہی نہ کی جائے ‘ ورنہ بھوکوں اور ننگوں کا یہ قافلہ ہرخشک وتر کو روندتے ہوئے اپنے حقوق کیلئے ایسی جنگ کا آغاز کرے گا جس کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ بقول احمد فراز
بزم جاناں میں تو سب اہل طلب جاتے ہیں
کبھی مقتل میں بھی دکھلائیں تماشا جاکر

یہ بھی پڑھیں