Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

ایران نے اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟

اسرائیل گزشتہ سات ماہ سے غزہ میں فلسطینیوں کو شہید کررہاہے جبکہ اسلامی دنیا خاص کر عرب ممالک اس وحشیانہ منظر کے سامنے خاموش تماشائی بنے کھڑے ہوئے ہیں۔ غالباً اس صدی میں فلسطینیوں کی اتنی بڑی نسل کشی نہیںہوئی ہے جواسرائیل نے کی ہے۔ حالانکہ اسرائیل کی غزہ کے فلسطینیوں پر کی جانے والی بربریت کوروکا جاسکتاتھا‘ خصوصیت کے ساتھ امریکہ اس ضمن میں انتہائی اہم کردار اداکرسکتاتھا ‘ لیکن ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔ بلکہ اس کے برعکس امریکہ نے دومرتبہ سیکورٹی کونسل میں جنگ بندی سے متعلق قرارداد کو ویٹو کرکے اسرائیل کی براہ راست بہت حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اپنی جارحیت برقرار رکھے۔ اس وقت جبکہ یہ کالم لکھاجارہاہے کہ اسرائیل مسلسل بمباری کرکے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام کررہاہے اسرائیل کے اس ظلم کے خلاف پوری دنیا میں اس کے خلاف مذمتی مظاہرے اور احتجاج ہور ہے ہیں‘ اسرائیل پوری دنیا میں isolate ہوکر رہ گیاہے ہرچند کہ امریکہ نے سیکورٹی کونسل میں تیسری مرتبہ ویٹو استعمال نہیں کیا بلکہ یہ عندیہ دیا کہ اسرائیل کو جنگ بندی کردینی چاہیے اور یہ بھی کہا کہ غزہ پہ اسرائیل کی جانب سے قبضہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا۔
لیکن اسرائیل نے اچانک شام میں ایرانی قونصلیٹ پرحملہ کرکے اس کو زمین بوس کردیا جس کے نتیجے میں ایران کے پانچ انقلابی رہنما شہید ہوئے جبکہ دوشامی افراد بھی اس حملہ میں لقمہ اجل بن گئے۔ اب اسرائیل نے براہ راست ایران کے سفارت خانے پر حملہ کرکے جہاں اس نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے وہیں اس نے ایران کو مشتعل کرکے اس کو اس جنگ میں گھسٹنے کی کوشش کی ہے۔
ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کے پاس دو آپشن تھے‘ پہلا یہ کہ وہ خاموش ہوجاتا اور اس کو نظرانداز کردیتا جیساکہ اس نے پہلے بھی کیا تھا‘ لیکن اس دفعہ ایران کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا‘ ایران کے عوام اسرائیل کی اس جارخیت کے سخت خلاف ہیں‘ انہوں نے اپنی حکومت پر دبائو ڈالا کہ اسرائیل کی جارحیت کا موثر جواب دیناچاہیے تاکہ اس کو احساس ہوسکے کہ ایران غزہ کی پٹی نہیں ہے جہاں وہ سات ماہ سے زمینی اور فضائی حملے کرکے نہتے فلسطینی عوام کو شہید کررہاہے۔ ایران ایک آزاد ملک ہے چنانچہ ایران نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اسرائیل کے اندر گھس کراس کے حملے کا جواب دے گا اور جواب دیا بھی گیا۔ اسرائیل کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایران اس کے حملے کا جواب دے گا۔ لیکن ایسا ہوا۔ اب اسرائیل دھمکی دے رہاہے کہ وہ ایران کو ایسا جواب دے گا کہ پورا تہران لرز اٹھے گا۔ اگر اسرائیل اس طرح کرنے کی جرات کرتاہے تو تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا آغاز ہوسکتاہے۔ اس صورت میں پوری دنیا تباہ ہوجائے گی۔ بلکہ بعض صورت میں ایٹم بم کا بھی استعمال ہوسکتاہے۔ اگر اس وقت کوئی طاقت اسرائیل کی جارحیت کو روک سکتی ہے تو وہ امریکہ ہے‘ ویسے بھی امریکی اخبارات پڑھ کر یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ امریکہ نہیں چاہتاہے کہ جنگ کا دائرہ پھیلے بلکہ وہ اب اسرائیل کو منع کررہاہے کہ وہ اپنی پالیسی پرنظرثانی کرے‘ ورنہ امریکہ اس کی پشت پناہی نہیں کرے گا۔ دیکھتے ہیں کہ اسرائیل پہ امریکہ کی اس تنبہہ کا کتنا اثر ہوتاہے۔؟ لیکن اگر اسرائیل نے ایران پرحملہ کیا تو ایران کی حمایت میں یمن کے علاوہ حزب اللہ بھی براہ راست اسرائیل کے خلاف جنگ میں شریک ہوجائے گا۔ اس طرح اسرائیل ہر طرح سے غیر محفو ظ ہوجائے گا ۔ وہ اپنے تحفظ کیلئے امریکہ پر انحصار کرے گا‘ لیکن امریکہ براہ راست اس جنگ میں نہیں کودے گا۔ ویسے بھی امریکہ اور نیٹو یوکرائن کی جنگ میں یوکرائن کی قیادت کی مدد کررہے ہیں‘ جس کو روس انتہائی ناپسندیدگی سے دیکھ رہاہے۔ چین بھی روس کی پالیسی کا زبردست ساتھ دے رہا ہے۔ جنگ پھیلنے کی صورت میں چین روس کا ساتھ دے گا۔
دوسری طرف شمالی کوریا کی قیاد ت نے اعلان کیاہے کہ وہ حماس کو جدید ہتھیار مہیا کرے گا۔ اس نے پہلے ہی لبنان میں حزب اللہ کو جدید ہتھیار دے رکھے ہیں۔ جس میں جدید میزائلوں کی کھیپ بھی شامل ہے۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں‘ اس کی قیادت کا یہ خیال ہے کہ اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت سے دستبرار ہوجائے تو دنیا تیسری جنگ کی طرف نہیں بڑھے گی‘ لیکن اگر ایسانہیں ہوا تو دنیا کا امن مکمل طور پر تباہ وبرباد ہوجائے گا۔
تاہم اگر اسرائیل شام میں تہران کے قونصلیٹ پر حملہ نہیں کرتاتو صورتحال اتنی تشویشناک نہ ہوتی جو آج ہے۔ اس کی ساری ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے جواس خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے فلسطینیوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑ رہاہے۔ لیکن کب تک۔؟ ایران نے جوابی کارروائی کرکے اسرائیل کو اس کی اوقات دکھادی ہے۔

یہ بھی پڑھیں