غزہ کی پٹی کے مسلمانوں کو اس بات کا احساس نہیں تھا کہ صیہونی جارحیت کے خلاف ان کی استقامت اور ان کے پختہ ایمان کے نتیجے میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے درجنوں افراد اسلام قبول کر لیں گے۔ اہل غزہ کے ایمان اور ثابت قدمی سے متاثر ہونے والوں میں امریکی خاتون ’’میلیسا گومز‘‘بھی شامل ہے۔ ’’میلیسا‘‘نے ’’الجزیرہ‘‘کو بتایا: ’’میں نے فلسطینی ماں کو اپنے بچوں کو تھیلوں میں اٹھائے ہوئے دیکھا، اور مرد اپنے بچوں کو اس وقت تسلی دینے کی کوشش کر رہے تھے جب وہ بموں میں گھرے ہوئے تھے۔‘‘ ایک منظر جس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ایک فلسطینی بچے کا ویڈیو کلپ تھا جو شدید جھلس گیا تھا، اس کے باوجود وہ اپنے والد کو تسلی دے رہا تھا اور اس کے لیے امید نہ ہارنے کی دعا کر رہا تھا اور ساتھ ہی خواتین کے مناظر دیکھے جو اپنے بچوں کو دفن کررہی تھیں۔ اور ثابت قدمی سے ’’الحمد للہ‘‘دہرا رہی تھیں۔میں نے غزہ کے لوگوں میں ایک مضبوط اور حقیقی ایمان دیکھا، جس نے مجھے اسلام لانے پر مجبور کیا۔دوسری طرف حماس کے بہادر ترجمان شیخ ابو عبیدہ نے اپنے تازہ ترین خطاب میں جو اہم نکات بیان کئے ہیں،ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔بسم اللہ الرحمن الرحیم ربنا افرِغ علینا صبرا وثبِت قدامنا وانصرنا عل القومِ الافِرِیناین ہمارے عظیم لوگو اے جہاد و رباط میں مصروف کار مجاہدو اور اے امت اسلامیہ کے حریت پسندو!معرکہ طوفان الاقصی جس کا آغاز 7اکتوبر کو صہیونی فوج کی غزہ ڈویژن کی تباہی سے ہوا کو جاری ہوئے 200 دن گزر گئے ہیںیہ معرکہ مسجد اقصیٰ کی حمایت اور اس کے تقدس کی پامالی اور تباہی کی کوششوں کا جواب تھا اور یہ صہیونی ناجائز ریاست کی تاریخ میں سب سے بڑا دھچکا اور حملہ تھا200 دن کی جنگ کے بعد بھی غبی اور بے وقوف صہیونی فوج اور دشمن دنیا کے سامنے اپنی تباہ شدہ ساکھ بحال کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔صہیونی دشمن ابھی تک غزہ کی ریت میں پھنسا ہوا ہے۔دشمن کو غزہ سے سوائے رسوائی اور شکست کے کچھ نہیں ملے گا۔
معرکہ کا آغاز ہوئے 200دن گزر چکے اور غزہ میں ہماری مزاحمت فلسطین کے پہاڑوں کی طرح مضبوط ہے۔ہم نے دشمن پر اپنے مجاہدین ہیروز کے حملوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دستاویز کیا(مجاہدین کے غیر اعلانیہ اور غیر نشر کردہ آپریشنز کی ایک بڑی تعداد کی جانب اشارہ) ہم اپنی ضربوں اور مزاحمت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ ہماری زمین کے کسی ایک انچ پر بھی قبضے کی جارحیت یا اس کی موجودگی باقی ہو گی صہیونی فوج اور حکومت دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ انہوں نے تمام فلسطینی مزاحمت کو ختم کر دیا ہے جو کہ بہت بڑا جھوٹ ہے،200 دنوں میں دشمن بڑے پیمانے پر قتل عام، تباہی اور قتل و غارت گردی کے علاوہ کوئی بھی کامیابی حاصل کرنے سے قاصر رہا۔ہم اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، خاص طور پر جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ اٹھانا، اور بے گھر فلسطینیوں کی ان کے گھروں کو واپسی ، صہیونی دشمن مذاکرات میں اپنے تمام وعدوں سے مکرنے کی کوشش کر رہا ہے اور مذاکرات کو طول دے کر وقت حاصل کرنا چاہتا ہے رون آراد کا منظر نامہ غزہ میں دشمن کے قیدیوں کے ساتھ دہرایا جانے والا منظرنامہ ہو سکتا ہے(رون اراد ایک اسرائیلی پائلٹ تھا جو 80کی دہائی میں لبنان پر بمباری کرنے گیا لیکن جہاز کریش ہوا اور رون کو لبنان میں گرفتار کر لیا گیااس کے بعد رون کا کچھ اتا پتہ آج تک نہ چل سکا)گیند اس شخص کے کورٹ میں ہے جو صہیونی دشمن کے عوام کے لیے فکر مند ہے، لیکن وقت محدود ہے اور مواقع کم ہیں۔
نام نہاد صہیونی فوجی دبائو ہمیں صرف اپنی پوزیشن،موقف پر مضبوط رہنے اور برقرار رکھنے اور اپنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ پر مجبور کرے گا اور انہیں نظرانداز نہیں کرنے دے گا۔ہم ہر اس عسکری اور عوامی کوشش کو سراہتے ہیں جو طوفان الاقصیٰ میں شامل ہوئی، خاص طور پر لبنان، یمن اور عراق میں لڑائی کے محاذوں پر ،مختلف محاذوں پر صہیونی افواج کا مزاحمتی کارروائی کے خلاف وحشیانہ اور جنونی پاگلوں کی طرح کا ردعمل ہماری مزاحمتی کارروائیوں کی اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے۔(جب جب مجاہدین کے ہاتھوں صہیونیوں کی بینڈ بجتی اور یہ اپنے فوجیوں کو مردار یا زخمی کرواتے تو پاگلوں کی طرح عوام پر بمباری کر کے اپنا غصہ نکالتے ہیں)
مزاحمت کا پہلا محاذ مغربی کنارے کا محاذ ہے، اور ہم اپنے آزاد اور قابل فخر مغربی کنارے کے ایک ایک انچ کو سلام پیش کرتے ہیں نابلس،جنین، اریحا، قلقیلیہ،طولکرم اور تمام مغربی کنارے کو سلام پیش کرتے ہیں ،ہم اردن کے عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مظاہروں کو تیز کریں۔(اس سے سمجھ آتا ہے کہ مظاہروں سے بھی فرق پڑتا ہے یہ لاحاصل نہیں ہوتے) وہ وقت گزر گیا جب صہیونی دشمن کسی بھی قسم کے احتساب سے بالاتر ہو کر اپنے جرائم کرتا تھا،قابض قیدیوں کے اہل خانہ کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ان کو بہت دیر سے احساس ہوگا کہ ان کی فاشسٹ حکومت نے ان کے قیدیوں کے خلاف ایک آفت اور سانحہ کا ارتکاب کیا ہے۔
ہم اپنی امت مسلمہ کے عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مزاحمت کی حمایت میں اپنے مظاہروں اور مہموں کو تیز کریں۔ فلسطینی مزاحمت ہمارے فلسطینی لوگوں کی قربانیوں کی وفادار رہے گی، اور ہم ان کے درد کا پرسا کریں گے اور امیدوں کو پورا کریں گے، حفظہ اللہ کے اختتامی کلمات بے شک یہ فتح یا شہادت تک جاری رہنے والا جہاد ہے۔