ایران کے محترم صدر جناب ابراہیم رئیسی تین دن کے سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے تھے‘ ان کا یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا‘ نیز ایران کے صدر پاکستان اور ایران کے مابین جوگزشتہ ماہ غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی‘ اس کو بھی باہم مل کر دور کرناچاہتے تھے۔ واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ ماہ پاکستان کے ایئراسپیس کو توڑتے ہوئے پاکستانی بلوچستان پر ایک جگہ پر میزائل حملہ کیاتھا۔ جہاں بقول ایرانی حکومت کے وہاں جیش عدل کے دہشت گردوں نے پناہ لے رکھی ہے‘ اور یہ عناصر وقفے وقفے سے ایران کے اندر حملہ کرتے رہتے ہیں۔ ایران کے میزائل حملے کے بعد پاکستان نے اس کا جواب دیا اور ایرانی بلوچستان کے اندر میزائل داغے جہاں بی ایل اے کے دہشت گرد پناہ گزین تھے۔ پاکستان کی جانب سے حملے کے بعد ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے یہاں تک کہ دونوں ملکوں نے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کرلیاتھا‘ لیکن چند گھنٹے کے بعد دونوں ملکوں کی قیادت نے اپنے تاریخی تعلقات کاجائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے باہمی سفارتی اور تاریخی تعلقات کو کسی بھی صورت متاثر ہونے نہیں دیں گے۔ چنانچہ ایرانی صدر رئیسی کی پاکستان آمد سے قبل ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات نارمل ہوگئے تھے۔ موجودہ صورتحال اس علاقے کے لئے انتہائی خوشگوار مثبت ثابت ہوئی ہے۔ نیز اُن ملکوں کو جو پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات میں بہتری نہیں دیکھنا چاہتے تھے‘ انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے اور ان کے ناپاک ارادوں پر پانی پھرگیاہے۔
تاہم ایرانی صدر کے دورے پاکستان سے جہاں ان دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمی دور ہوئی ہے (جوکہ ہونی بھی چاہیے تھی) ۔ اب ان دونوں ملکوں کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ جیسا کہ صدرمحترم جنا ب ابراہیم رئیسی نے کہاہے کہ 10بلین ڈالر سے زائد ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے امکانات موجود ہیں نیز انہوں نے کہا کہ ’’دنیا کی کوئی طاقت پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو خراب نہیں کرسکتی ہے۔‘‘ یہ تاریخی اور ثقافتی تعلقات آئندہ مزید فروغ پائیں گے۔
ایرانی صدر اور پاکستانی قیادت کے درمیان ایران پاکستان گیس پائپ لائن کابھی ذکرآیا ہے۔ اس پائپ لائن کی تعمیر کے اوراس سے متعلق معاہدہ موجودہ صدر جناب آصف علی زرداری اور ایرانی قیادت کے درمیان طے پایاتھا جس میں بھارت بھی شامل تھا‘ لیکن بعد میں بھارت نے اس معاہد ے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ حالانکہ بھارت کوبھی پاکستان کی طرح ایرانی گیس کی اشد ضرورت تھی‘ بھارت نے سیکورٹی خدشات کی بنا پر اور معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ پاکستان ہنوزاس معاہدے پر عملدرآمد نہیں کرسکا ہے ‘ اس کی وجہ امریکہ کا دبائو تھا‘اس وقت نوازشریف کی حکومت تھی جوامریکہ کو ناراض نہیںکرناچاہتے تھے۔
لیکن اب پاکستان کو انرجی کی سخت ضرورت ہے‘ اس پس منظر میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی اہمیت میں اضافہ ہوگیاہے۔ ایرانی صدر نے پاکستان کی قیادت سے کہاہے کہ وہ اس معاہدے پر ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی کوشش کرے تاکہ پاکستان کی انرجی ضروریات پوری ہوسکیں۔ ایرانی صدر کے ساتھ بات چیت میں penalty کاذکر نہیں آیا۔ تاہم اس معاہدے کے تحت اگر پاکستان نے اپنے طرف کی پائپ لائن بروقت تعمیر نہیں کی تو اسے اٹھارہ ارب ڈالر کاجرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ ایرانی صدر کے دورے پاکستان سے بعض ملکوں کو سخت تکلیف پہنچی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور دونوں ملکوں کی معیشت مزید کمزور ہوگی جوبعد میں دونوں ملکوں کے عوام کے لئے زہر قاتل ثابت ہوگی۔ لیکن دونوں طرف کی قیادت نے حالات کو بگڑنے سے پہلے ہی سنبھال لیا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اورپاکستان علاقائی حالات کا گہرا ادراک رکھتے ہیں اور ان کی قیادت نے کشیدگی کم کرکے تعلقات کو ازسرنو بحال کرکے سیاسی maturity کا ثبوت دیاہے۔
تاہم اب پاکستان اور ایران دونوں کوچاہیے کہ جس دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے انٹیلی جنس ‘شیئرنگ میں اضافہ کیاجائے تاکہ دونوں طرف سے دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کو روکتے ہوئے امن کے قیام کو ممکن بنایا جاسکے۔ ایرانی صدر محترم ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان ہر لحاظ سے کامیاب دورہ تھا‘ اس دورے سے ایک بار پھر ایران اور پاکستان کے درمیان عظیم تاریخی رشتوں کو بازیاب کرتے ہوئے موجودہ حالات میں مزید درستگی لاتے ہوئے امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہواہے۔ جس کے اثرات عوام کی زندگیوں پر پڑیں گے‘ جبکہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ سے ایک دوسرے کی معیشت مزید مضبوط ہوسکے گی۔ ایران پاکستان دوستی زندہ باد۔