وزیراعظم پاکستان شہباز شریف گذشتہ دنوں کراچی آئے تھے جہاں انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ کراچی کے معروف وممتاز تاجروں او ر صنعتکاروں سے بھی ملاقات کی اوران سے مسائل دریافت کئے۔ اس ملاقات میں پاکستان کے ایک معروف صنعتکار عارف حبیب اور وزیراعظم کے درمیان ایک دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ عارف حبیب نے وزیراعظم سے سوال کی صورت میں پوچھا کہ آپ سب سے ہاتھ ملانے کیلئے کوشاں ہیں‘ تو میرا آپ سے اڈیالہ جیل کے قیدی (واضح اشارہ جناب عمران خان کی طرف تھا) سے بھی ہاتھ ملائیں تاکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکے۔ دوسرا یہ کہ آپ بھارت کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات استوار کریں تاکہ باہمی تجارت کی کوئی صور ت نکل سکے تو اس صورت میں اس خطے میں امن کا قیام ممکن ہوسکے۔ وزیراعظم نے ان دونوں سوالوں کو بڑے تحمل سے سنا اور اس کا مکمل جواب دیا۔بلکہ میں اس کالم کے ذریعے کچھ ایسے حقائق پیش کرناچاہتاہوں جو پاکستان میں معقول سیاسی ومعاشی استحکام پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں اور سماج میں بھی مثبت تبدیلی بھی آسکتی ہے۔
جہاں تک عمران خان کے ساتھ مسلم لیگ(ن) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان خوشگوار تعلقات استوار کرنے کاتعلق ہے تو یہ وقت کی بہت اہم ضرورت ہے۔ ہرسیاسی جماعت کے باشعور کارکن چاہتے ہیں کہ عمران خان کو جیل سے نکال کر بلاروک ٹوک انہیں آزادی کے ساتھ سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق دیا جاناچاہیے ۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اس کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو۔بغیر اسٹیبلشمنٹ کے ایسا ممکن نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات کی نوعیت خاصی گہری ہے‘ جس میں طرفین کی جانب سے ’’انا‘‘ کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اس لئے اگر دونوں جانب سے ملک کے حالات کی سنگینی کا احساس ہو اور دونوں اپنااحتساب کرتے ہوئے ملک اور عوام کی بہتری اور بہبود کے لئے آگے قدم بڑھائیں تو یقینی طور پر مملکت خداداد میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ جوہر محب وطن پاکستانی کی دلی خواہش بھی ہے۔ چنانچہ عارف حبیب نے عمران خان سے متعلق سوال کرکے محب وطن پاکستانی ہونے کاثبوت دیاہے۔ وہ ایک قابل فہم صنعتکار ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی محنت اور ذہانت سے موجودہ مقام حاصل کیاہے۔ وہ ایک عرصہ بعید میں میرے ساتھ ریڈیو پاکستان سے اقتصادی اور سماجی صورتحال پر مکالمہ کیا کرتے تھے۔ تاہم اگر اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے مابین کسی قسم کی ملک کی خاطر مفاہمت ہوجاتی ہے تو اس صورت میں پاکستان اقتصادی اور سماجی ترقی کی طرف برق رفتاری سے رواں دواں ہوسکتاہے۔ بہرحال عمران خان دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی طرح محب وطن پاکستانی ہیں۔ انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبے میں اس وقت نمایاں کام انجام دیاتھا جب وہ سیاست میں نمایاں حیثیت کے حامل نہیں تھے۔ تاہم اب دیکھناہے کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف عمران خان کی رہائی کے معاملے میں اپناکردار کس طرح اداکرتے ہیں‘ ان کے بارے میں ایک باشعور پاکستانی اس حقیقت سے واقف ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہیں‘ بلکہ ان ہی کے ’’ کرم‘‘ سے انہیں دومرتبہ پاکستان کے وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہواہے۔ وہ یقینا عارف حبیب کے اس سوال پر غور کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرکے اس کا حل ضرور نکالیں گے۔ ان میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔
عارف حبیب کادوسرا سوال بھارت اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم کرنے سے متعلق تھا۔ یقینا بھارت کے ساتھ اگر اچھے تعلقات قائم ہوجائیں تو جنوبی ایشیا میں بہت حد تک امن قائم ہوسکتاہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی صورت میں اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگیوں میں بھی نمایاں تبدیلی آسکتی ہے ۔ لیکن بھارت کا موجودہ وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کے ساتھ خوشگوار سیاسی تعلقات قائم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ اس کا بھارت کے اندر مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں سے متعلق رویہ انتہائی نامناسب ہے۔ وہ اپنی پارٹی بی جے پی کے انتہا پسند رہنمائوں کے ساتھ ملکر بھارت کو ایک ہندو ملک بنانے پر تلا ہوا ہے جبکہ وہ مسلمانوں کو Infiltrators قرار دے کر انہیں آئندہ ہر قسم کے آئینی حقوق سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی انتخابی مہم میں پاکستان سے متعلق انتہائی ناگوار الفاظ استعمال کرتاہے تاکہ ہندو انتہا پسندوں کاووٹ حاصل کیاجاسکے۔ جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہورہاہے ۔ ہوسکتاہے کہ وہ آئندہ بھارت کا تیسری بار وزیراعظم بن جائے ۔ کیونکہ اس کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں زیادہ متحد نہیں ہیں ۔مزید برآں مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی ہے جس طرح بھارت کے آئین کی شق370کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کاحصہ بنالیاہے ‘ وہ پاکستان کو قابل قبول نہیں ہے ‘ بلکہ اس کا یہ قدم کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی بھی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس لئے بھارت کے ساتھ کن بنیادوں پر دوستی استوار ہوسکتی ہے ؟ جبکہ اس کا وزیراعظم پاکستان کے ساتھ دوستی کے لئے ذہنی طور پر تیارنہیں ہے۔ اس پس منظر میںعارف حبیب مجھ سے زیادہ پاک بھارت تعلقات کے بارے میں جانتے ہیں تاہم ان کی خواہش کااحترام کرناچاہیے۔