Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

کرپشن کاناسور اور گندم کا اسکینڈل

میں نے اپنے کئی کالموں میں لکھاتھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ جبکہ بعض عناصر نے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا بلکہ کہا کہ ترقی پذیر ملکوں میں ایسا ہی ہوتاہے۔ لیکن کرپشن نہ رکنے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت آہستہ آہستہ ڈوب رہی ہے۔اگر آئی ایم ایف اور دیگر مالی مدد کرنے والے ادارے پاکستان کوبروقت ’’امداد ‘‘ نہ دیں تو مملکت کا کاروبارچلنا دشوار ہوجائے گا ۔اس ناقابل تردید حقیقت کے باوجود کہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان اندر سے کھوکھلا ہوچکاہے‘ لیکن اس کے باوجود حکومت کرنے والے کرپشن کا ارتکاب کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی فکرنہیں ہے کہ کرپشن کرنے کی وجہ سے ملک بدنام ہورہاہے۔ قرضہ لے کر مملکت کا کاروبار چلایاجارہاہے۔ لیکن ایسا کب تک ہوتارہے گا۔ اس پس منظر میں گندم کااسکینڈل سامنے آیا ہے ۔ اس اسکینڈل میں سابق نگراں حکومت ملوث پائی جارہی ہے۔ جبکہ الزام براہ راست انوار الحق کاکڑ پر لگایا جارہا ہے ۔ جواس وقت نگراں وزیراعظم تھے۔ اور بعض مستند خبروں کے مطابق ان ہی کہنے پر گندم درآمد کی گئی تھی جس پر ایک بلین ڈالر خرچہ آیا ہے ۔چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ گندم کس ملک سے درآمد کی گئی ‘ کیا ٹی سی پی اس گندم کی درآمد میں شامل تھا؟ نیز اس وقت جبکہ یہ کالم لکھاجارہاہے ۔ موجودہ حکومت نے بھی گندم درآمد کی ہے حالانکہ بعض ذمہ دار افراد نے حکومت کو مشورہ دیاتھا کہ وہ گندم درآمد نہ کریں۔ کیونکہ اس وقت پاکستان کے پاس گندم کا وافر مقدارمیں اسٹاک موجود ہے۔ لیکن بقول صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر یہ سب کچھ مال بنانے کے لئے کیا گیاہے۔
چنانچہ گندم سے متعلق کھلے کرپشن کے خلاف کسان 10مارچ کو اپنا زبردست احتجاج ریکارڈ کرائیں گے‘ جس میں ان کی فیملی بھی شامل ہونگی۔ویسے بھی موجودہ حکومت جو مبینہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ اس کو اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہے کہ گندم کی غیر ضروری درآمد سے کسانوں پر کیا گزررہی ہے۔ ابھی تک کسانوں سے ان کی محنت سے پیدا کی ہوئی گندم نہیں خریدی جارہی ہے۔ اگر جلد کسانوں سے گندم نہیں خریدی گئی تو ممکن ہے کہ بارش ہونے کی صورت میں یہ گندم خراب ہوجائے اور کسانوں کو بھوک وافلاس کا سامنا کرنا پڑے۔اس المناک صورتحال کی ذمے دار حکومت ہوگی۔
اس پس منظر میں کسان اتحاد کے صدر نے ارباب حل وعقد سے پرزور مطالبہ کیاہے کہ گندم کی درآمدکے سلسلے میں شفاف تحقیقات کرائی جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس کے ایما پر یہ سب کچھ ہواہے۔؟ ہرچند کہ سابق نگراں وزیراعظم پر گندم درآمد کرنے کا الزام لگایاجارہاہے‘ لیکن وہ اس سلسلے میں انکار کررہے ہیں بلکہ حنیف عباسی کے ساتھ جب ان کا آمنا سامنا ہواتو کاکڑ صاحب نے کہا کہ اگر مجھے اس سلسلے میں ملوث کیا گیا تو میں حال ہی میں ہونے والے الیکشن سے متعلق دھاندلی کی پول کھول دوں گا ۔ اس طرح انہوں نے موجودہ حکومت کو ایک قسم کی چارج شیٹ پیش کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ انہیں ’’اکیلے‘‘ گندم امپورٹ کرنے کا ذمہ دار قرار نہ دیا جائے ۔ اس ضمن میں نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی کانام بھی آرہاہے کہ وہ بھی اس گندم کی درآمد میں شامل ہے۔
چنانچہ اس سلسلے میں تحقیقات ہورہی ہیں۔ لیکن اس کا نتیجہ بھی نہیں نکلے گا‘ کیونکہ گندم اسکینڈل میں بااثر افراد شامل ہیں جو کسی بھی طریقے سے گندم امپورٹ کے سلسلے میں ہونے والی شفاف تحقیقات کورکواسکتے ہیں۔ یا پھر اسکو ’’ سردخانے‘‘ میں ڈلواسکتے ہیں۔ پاکستان میں کبھی بھی شفاف انداز سے کسی بھی اہم مسئلہ پر تحقیقات نہیں ہوئی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کرپشن اور دھاندلی کرنے والے صاف بچ جاتے ہیں۔ اور پاکستان کے عوام منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔یہ اخلاقی زوال کا کتنا بڑا المیہ ہے۔
دوسری طرف گندم اسکینڈل اس وقت سامنے آیاہے جب سعودی عرب کا پچاس رکنی وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے آیا ہوا ہے اور پاکستان کے حکام سے ان کی بات چیت بھی چل رہی ہے۔ جب یہ معزز مہمان اخبارات میں اس قسم کے کرپشن کا مطالعہ کریں گے تو ان کے اذہان میں پاکستان کی حکومت اور بیورو کریسی سے متعلق کس قسم کی رائے قائم کریں گے۔ ؟ شاید یہ حکومت کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے‘ لیکن جوافراد پاکستان کی خارجہ پالیسی کاادراک رکھتے ہیں ان کو احساس ہے کہ اس طرح کے اسکینڈل سے پاکستان کامنفی امیج قائم ہوتاہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوناچاہیے ۔ آخر حکومت کرنے والے کب سیکھیں گے کہ کسی ملک کا اچھا امیج بیرونی سرمایہ کی آمد میں کتنا مدد گار ثابت ہوتاہے۔ بقول علامہ اقبال ؒ
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو

یہ بھی پڑھیں