Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

گوادر میں محنت کشوں کا قتل

جمعرات کی شب کو دہشت گردوں نے گوادر فش ہاربر کے قریب حملہ کرکے سات محنت کشوں کو بڑی بے دردی سے قتل کردیا اور فرار ہوگئے ۔ قتل ہونے والے محنت کش نوجوانوں کاتعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا جو گوادر میں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ ہرچند کہ اس المناک اور افسوسناک واقعہ کی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن بعض بلوچی صحافیوں کا کہناہے کہ اس قسم کی واردات بی ایل اے کرتی ہے۔ اسی نے حال ہی میں ایران جانے والی ایک مسافر بس کو روک کر اس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو اتار کر بڑی بےرحمی سے قتل کردیاتھا۔ ابھی تک ان قاتلوں کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے۔ تمام تر سیکورٹی ہونے کے باوجود دہشت گرد منڈلاتے پھررہے ہیں، انہیں گرفتار کرنے والا بظاہر کوئی نظرنہیں آرہاہے، ان کی مذموم کارروائیوں سے صرف نگاہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں دہشت گردی کرنے کا حوصلہ مل رہاہے۔ یہ صورتحال گوادر کی مجموعی ترقی کے پس منظر میں انتہائی تشویشناک ہے۔ خصوصیت کے ساتھ اس صورت میں جبکہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہوچکاہے جس میں توقع کی جارہی ہے کہ بڑے پیمانے پر اکنامک زون میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔ چین اس سیکنڈ فیز کی تعمیر اور ترقی کی مد میں مزید رقم فراہم کرے گا۔ اس طرح سی پیک کی مد میں چین کی جانب سے ملنے والی کل رقم60بلین ڈالر ہوجائے گی جو کسی بھی ملک کی جانب سے پاکستان کے لئے اتنی بڑی مقدار میں براہ راست سرمایہ کاری ہورہی ہے۔
تاہم اگرگوادر سمیت ملک میں کسی بھی جگہ دہشت گردی جاری رہی تو یہ مذموم سلسلہ پاکستان کی معیشت اورسالمیت کے حوالے سے انتہائی نازک ثابت ہوسکتاہے۔ہرچند کہ افواج پاکستان نے اس دہشت گردی کو روکنے کے سلسلے میں انتہائی فعال اور متحرک کردار ادا کیاہے اور کر بھی رہے ہیں لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات رک نہیں پارہے ہیں ۔ پاکستان کا ازلی بھارت دشمن اس صورتحال سے پورا پورا فائدہ اٹھارہاہے بلکہ جب جون2024 میں عام انتخابات کا مرحلہ ختم ہوجائے گااور اگر نریندر مودی انتخابات جیت گیا تو وہ پاکستان کیلئے بے پناہ سیاسی ومعاشی مسائل پیدا کرسکتاہے۔ اس ضمن میں ہمیں بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا بیان نہیں بھولناچاہیے جس میں اس نے ایک بار پھر پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ آئندہ ان کی حکومت آزاد کشمیر پر حملہ کرکے بھارت کا حصہ بنالے گی جس طرح اس نے 5اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کاsemi autonomous status ختم کرکے اس کو بھارت کاحصہ بنالیا ہے۔ یعنی اس نے بھارتی آئین کی شق 370اور35-A کو ختم کرکے اس کی نیم آزاد حیثیت کوختم کردیاہےحالانکہ بھارت نے یہ قدم اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے خلاف اٹھایاہے جس کے مطابق کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع مسئلہ ہے۔ کشمیر کی زیادہ تر آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت کشمیر کو ہر لحاظ سے پاکستان کا حصہ بنناتھا لیکن بھارت نے اس مسلم اکثریت کے علاقے پر فوج کشی کرکے اس پر طاقت کے زور پر قبضہ کرلیا ہے جس کو نہ تو اقوام متحدہ نے قبول کیاہے اور نہ ہی پاکستان نے، گوادر میں ہونے والی دہشت گردی سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ دہشت گردوں کو نہ صرف بیرونی دشمن کی مددحاصل ہے بلکہ کچھ اندرونی عناصر بھی ان کی مذموم کارروائیوں میں ملوث ہیں جبکہ پاکستان کی سالمیت کےحوالے سےیہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ دراصل پاکستان میں اب تک دہشت گردی اس لئے ختم نہیں ہوسکی ہے کہ پاکستانی سیاستدان آپس میں دست وگریباں ہیں۔ سیاستدانوں کا ایک گروپ ارباب اختیار کے ساتھ بلکہ اپنے حریفوں کو زیرکرتاچاہتاہے تاکہ وہ اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں اور ان کا حریف طاقتور طبقے کے غصے کا شکار ہوکر ذلیل وخوار ہوتا رہے۔ یہ سوچ ملک کے استحکام کیلئے زہر قاتل ہے اس طرح نہ تو دہشت گردی پر قابو پایاجاسکے گا اور نہ ہی ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام پیدا ہوسکے گا۔
لاکھوں محب وطن پاکستانی پاکستان کی اس صورتحال سے بہت زیادہ پریشان اور فکرمند ہیں بلکہ مستقبل کے حوالے سے انتہائی ناامید نظر آرہے ہیں۔ پڑھا لکھا نوجوان طبقہ زیادہ متاثر ہو رہاہے ۔ وہ اپنا مستقبل سنوارنے کیلئے ہر قیمت پر باہر جاناچاہتاہے بلکہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی پاکستان چھوڑ کر باہرجاچکی ہے چنانچہ اگر پاکستان کا طاقتور طبقہ ملک میں بہتری اور استحکام چاہتاہے تو اس کو تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو بہتربناتےہوئے موجودہ حالات میں ہرصورت میں بہتر ی لانے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں دہشت گردی کامکمل خاتمہ بھی شامل ہے۔ذرا سوچیے!

یہ بھی پڑھیں