(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کے بعد دوبارہ کال دی گئی،ناکہ بندی جہلم سے شروع ہو گئی تھی، پچاس ساٹھ میل پر ناکہ بندی کر رکھی تھی کہ کوئی آدمی جانے نہ پائے۔ اس کے باوجود لوگ پہنچے اور لوگوں کے جذبے کا حال یہ تھا کہ گوجرانوالہ کے چار پانچ ساتھیوں کو جہلم میں روک دیا گیا۔ قاری یوسف عثمانی، میرے چھوٹے بھائی قارن صاحب، امان اللہ قادری، طالب اعوان وغیرہ۔ جب انہیں روکا تو انہوں نے سوچا کہ جانا تو ضروری ہے۔ لیکن انہوں نے بٹھا دیا تھا کہ آپ نہیں جا سکتے۔ چنانچہ ایک بس پر باردانہ لدا ہوا تھا، خالی بوریاں تھیں، ان حضرات نے کنڈیکٹر سے بات کی کہ ہم آپ کو ڈبل کرایہ دیں گے آپ ہمیں باردانہ میں باندھ کر لے جائیں۔ انہوں نے کرایہ طے کر کے اپنے آپ کو بندھوایا اور بس کے اوپر چڑھ گئے ۔ باردانہ مرچوں کا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا سفر تھا، ہمارا تو برا حال ہوگیا ، لیکن بہرحال اسلام آباد پہنچ گئے۔ لوگ اس کیفیت میں بھی وہاں پہنچے۔ پھر جونیجو صاحب کے ساتھ جو تفصیلی مذاکرات ہوئے، مَیں بھی ان میں شریک تھا۔
اس ساری جدوجہد کے نتیجے میں ہمیں جو نتیجہ ملا وہ صدر ضیاء الحق کا صدارتی امتناعِ قادیانیت آرڈیننس تھا۔ جس کے مطابق یہ طے ہوا کہ قادیانی اسلام کے نام پر تبلیغ نہیں کر سکتے ، اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکیں گے، اور وہ اپنی عبادت گاہوں کا نقشہ تبدیل کریں گے کیونکہ شعائر کا امتیاز ضروری ہے۔ اور اس کو قابل تعزیر جرم قرار دے دیا، اس پر تین سال کی سزا مقرر ہوئی۔ ’’امتناع قادیانیت آرڈیننس‘‘ ہمارے نقطہ نظر میں یہ تھا کہ دستوری قانون کے تقاضے پورے ہوئے، صدر ضیاء الحق نے آرڈیننس کے طور پر اسے نافذ کر دیا اور بعد میں پارلیمنٹ نے بھی اسے منظور کر لیا۔ یہ ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت تھی، جس میں یہ حضرات تھے مولانا عبد القادر روپڑی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مفتی مختار احمد نعیمی، مولانا شریف جالندھری، مولانا تاج محمود (اسی دوران فوت ہوگئے تھے) اور مولانا ضیاء القاسمی رحمہم اللہ تعالیٰ تھے جنہوں نے زیادہ اہم رول ادا کیا۔
اس دوران کے لطیفوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سیالکوٹ میں ہمارے داخلے پر پابندی لگ گئی۔ اس زمانے میں تحریک یہ ہوتی تھی۔ مجسٹریٹ سیالکوٹ نے ہمارے داخلے پر پابندی لگا دی۔ ہم نے اعلان کر دیا کہ میں جاؤں گا اور پابندی قبول نہیں کرتا ۔ انہوں نے ناکہ بندی کر دی کہ نہیں جانے دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود ہم وہاں پہنچے، جلسہ کیا اور ہمارے خلاف مقدمہ کر دیا گیا اور دوچار تاریخوں کے بعد مجھے اشتہاری ملزم قرار دے دیا۔ تھانے کا اے ایس آئی میرے پاس آیا کہ آپ کے اشتہاری ملزم کا وارنٹ ہے۔ میں نے کہا میں تو آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں۔ آپ کا آرڈر آگیا ہے اب کیا کروں۔ اس نے کہا یہ نوٹس آپ کے دروازے پر لگانا ہے۔ میں نے کہا گوند مجھ سے لے لو۔ اشتہاری ملزم کے اعلان کا مطلب یہ تھا کہ ملزم کہیں بھی مل نہیں رہا، بھاگ گیا ہے ، فرار ہو گیا ہے، تاریخوں پر حاضر نہیں ہو رہا، اسے تلاش کیا جائے۔ اگر فلاں تاریخ تک نہ آیا تو یک طرفہ کاروائی کی جائے گی۔ وہ نوٹس میرے پاس لایا کہ اسے وصول کر لیں۔ میں نے کہا میں وصول نہیں کروں گا۔ اس نے کہا یہ آپ کے دروازے پر لگا دوں گا چنانچہ وہ میرے دروازے پر لگا کر چلا گیا۔ میں نے اتار کر کے ریکارڈ میں رکھ لیا۔ وہ میرے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔
اس کے ساتھ ایک واقعہ اور ہوا۔ جنرل ضیاء الحق نے گوجرانوالہ آنا تھا، کوئی دعوت تھی، تو ہم نے پیغام بھیجا کہ گوجرانوالہ ایکشن کمیٹی جنرل ضیاءالحق سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔ ہماری تحریک اور موومنٹ کا وفد جنرل ضیاء الحق سے براہ راست ملنا چاہتا ہے ۔ ہم نے یہ درخواست اسلام آباد بھیج دی، انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ البتہ یہ ہوا کہ غلام دستگیر خان نے مجھے جنرل ضیاء الحق نے ساتھ ذاتی طور پر کھانے میں شرکت کی دعوت دے دی کہ جنرل صاحب کے ساتھ کھانے میں آپ بھی شریک ہوں گے، آپ وہاں بات کر لیں۔ ہم نے آپس میں میٹنگ کی کہ ہم نے تو وفد کی ملاقات کا کہا تھا اور انہوں نے صرف مجھے کھانے کی دعوت بھجوا دی ہے، اس لیے ہمارا مشورہ ہوا کہ ہم نے نہیں جانا لیکن خاموشی کے ساتھ نہیں بلکہ اس طرح کیا کہ اگلے دن جنرل صاحب نے آنا تھا تو ہم نے مرکزی مسجد میں جلسہ رکھ لیا ۔ ہم نے یہ پالیسی طے کی کہ آخر میں مَیں کھڑا ہوا اور میں نے کہا دستگیر صاحب نے مجھے دعوت دی ہے ، کھانے کے لئے بلایا ہے، لیکن ہمارے وفد کو وقت نہیں دیا اس لئے میری طرف سے یہ انکاری اعلان ہے۔ یہ ہم نے دوسرا کام کیا۔ اس کے سیاسی طور پر اثرات ہوتے ہیں۔ اس تحریک میں ہم اس طرح کام کرتے رہے۔
ایک لطیفہ کی بات یہ ہوئی کہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اس محاذ پر بہت متحرک تھے ، بڑی گرم تقریریں کرتے تھے کہ قادیانیوں نے اسلم قریشی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، قادیانیوں نے یہ کر دیا وہ کر دیا۔ بڑی جذباتی تقریر کرتے تھے۔ فرماتے اگر ایسا نہ ہوا تو میرا خون معاف ہے، مجھے پھانسی پر لٹکا دو وغیرہ وغیرہ۔ ہم کہتے کہ مولانا ہمیں تو پتہ نہیں ہے کہ اسلم قریشی کہاں ہے۔ یقینی بات تو نہیں ہے کہ قادیانیوں نے اغوا کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہیں اور ہو۔ مولانا فرماتے کہ نہیں! انہوں نے اسے مار دیا ہے۔ سب سے زیادہ گرم تقریریں مولانا چنیوٹیؒ اور مولانا ضیاء القاسمیؒ کی ہوا کرتی تھیں۔ اسلم قریشی کا بیٹا صہیب قریشی ہمارے ساتھ ہوتا تھا اور اسلم قریشی کی والدہ بھی متحرک تھیں۔ ہم نے ایک ترانہ بنایا ہوا تھا جس طرح ایک پرانا ترانہ تھا: ؎ ’’بولی اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘‘۔ ہم بوڑھی والدہ کو سٹیج پر لے گئے کہ یہ اسلم قریشی کی ماں ہے، ہم نے تقریر کے جملے رٹوائےاور تقریریں کروائیں تو اس گرما گرمی کی فضا میں اس کے نتیجے میں ہمیں صدارتی آرڈیننس ملا۔
سب معاملات گزر گئے، آرڈیننس کے بعد تحریک ٹھنڈی پڑ گئی کہ ہمارا بہت بڑا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد اسلم قریشی بازیاب ہوگیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ میں اس دن مولانا چنیوٹیؒ کے پاس چنیوٹ میں ہی تھا۔ کسی نے آ کر بتایا کہ اسلم قریشی بازیاب ہو گیا ہے اور اسے ٹی وی پر دکھا رہے ہیں۔ تو مولانا کہنے لگے یہ کدھر سے نکل آیا۔ میں نے کہا اب آپ اپنی تیاری کریں، آپ کو اپنی تقریریں تو یاد ہیں نا!
اسلم قریشی واپس آیا تو اس نے بتایا کہ میں ایران چلا گیا تھا ، وہاں میں نے شادی کر لی تھی اور میں وہیں رہا ہوں، مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا۔ اسلم قریشی کہتا ہے میں جلسوں میں بھی شریک ہوتا رہا ہوں، نعرے بھی سنتا رہا ہوں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس کا بیٹا جو ہمارے ساتھ رو رو کر تقریر کرتا تھا، اس کو اس ساری صورتحال کا علم تھا۔ ہمارے ایک بزرگ نے مدینہ منورہ سے اپنا کشف بتایا تھا کہ اس کو ساہیوال کے کسی تہہ خانے میں رکھ کر جلا دیا گیا ہے۔
(جاری ہے)