Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

ایک محب وطن پاکستانی کی کہانی

گذشتہ کئی کالموں میں ‘ میں نے پاکستان کے نا آسودہ حالات پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے یہ دعا بھی کی ہے کہ اللہ پاک اس ملک کو شادروآباد رکھے اور اس کے رہنمائوں میں پاکستان کی محبت کے ساتھ عوام کے دکھوں کا ازالہ کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کاحوصلہ عطا کرے ۔پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی خطہ حاصل کرنا نہیں تھا‘ بلکہ اس خطے میں مسلمانوں کے لئے ایک ویلفیئر اسٹیٹ کا قیام بھی اولین مقاصد میں سے ایک تھا تاہم ہم اس منزل کو نہیں حاصل کرسکے شائد اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور ارباب اقتدار نے کبھی بھی تحریک پاکستان کے مقاصد کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیگر ممالک کے مقابلے میں ترقی کرنے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ تاہم اس وقت پاکستان میں ایسے افراد بدرجہ اتم موجود ہیں جنہوں نے اس ملک کی تعمیر اور عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیںاٹھارکھی ہے ۔ ان ہی میں قادر جعفر بھی شامل ہیں‘ جوایک زمانے میں برطانیہ میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں‘ وہ احمد جعفر مرحوم کے صاحبزادے ہیں جن کا قائداعظم کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتاتھا اور وہ ممبئی سے اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہوئے تھے۔
عبدالقادر جعفر جب برطانیہ میں پاکستان کے سفیر تھے تو انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کی بے مثال خدمت کی تھی‘ خصوصیت کے ساتھ پاکستانی طالب علموں کو درپیش تعلیمی مسائل سے متعلق نیز ملازمتوں کے سلسلے میں پاکستانیوں کو جو مسائل درپیش تھے‘ انہوں نے نہ صرف حل کئے بلکہ آئندہ کے لئے بھی ان کے لئے مالی خوشحالی کے دروازے بھی کھول دیئے تھے۔
قادر جعفر کو پرویز مشرف نے اپنے دور صدارت میں برطانیہ میںتین سال کیلئے سفیر مقرر کیاتھا۔ پرویز مشرف ایک طویل عرصے سے انکے اور ان کے خاندان سے واقف تھے۔ خصوصیت کے ساتھ ان کے خاندان نے پاکستان کی اکانومی کو بہتربنانے کے سلسلے میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے تھے۔ اس ہی کی بنا پر ان کو برطانیہ میں سفیر مقرر کیا گیا۔ ان کی سفارت کے دوران برطانیہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔ نیز پہلی مرتبہ برطانیہ کے عوام کو سرکاری سطح پر پاکستانی آم متعارف کرائے گئے ‘ شاہی خاندان کو جب پاکستانی سفیر نے آموں کا تحفہ پیش کیاتو انہیں اس کا ذائقہ بہت پسند آیا‘ اس کے بعد برطانیہ میں پاکستان کے آموں کی پاکستان کے تناظر میں ایک شناخت بن گئی ہے۔
عبدالقادر جعفر نے اپنی سفارتی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد کراچی میں حب روڈ پر ایک بہترین تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے جو تقریباً مکمل ہوگیاہے۔ اس تعلیمی ادارے میں کراچی کے علاوہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں سے اچھے اساتذہ کو معقول تنخواہوں کے عوض یہاں ملازم رکھا گیاہے تاکہ طلبا جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوسکیں۔ تعلیم کے شعبے میں قادر جعفر کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ وہ آج بھی اس ادارے کو پاکستان کا ایک عظیم تعلیمی ادارہ بنانے میں دن رات مصروف ہیں۔ پاکستان کے اندر اور باہر سے انہیں اس تعلیمی ادارے کے سلسلے میں تعاون مل رہاہے۔
قادر جعفر نے غریبوں اور محتاجوں کی عزت نفس کے ساتھ کفالت کیلئے ایک ٹرسٹ بھی قائم کیاہے جس کی کارکردگی سے عوام کی اکثریت مطمئن ہیں۔قادر جعفر ہرچند کہ پاکستان کے سیاسی ومعاشی حالات سے مطمئن نہیں ہیں لیکن وہ آنے والے دنوں سے پرامید ہیں کیونکہ اب پاکستان میں سماجی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے اور عوام کے دکھوں کا ازالہ ہونے والا ہے ‘ ان کا یہ خیال بالکل صحیح ہے کہ عوام کو معاشی طور پرمطمئن رکھ کر ہی مملکت کومستحکم بنایاجاسکتاہے۔ اگر عوام حالات کے جبر کے سامنے مطمئن نہیں ہیں تو پھر مملکت بھی ناتواں اور کمزور رہے گی جس سے دشمن پورا پورا فائدہ اٹھائے گا۔
قادر جعفر انگلستان میں بحیثیت سفیر جب اپنا ٹرم پورا کرکے وطن واپس آرہے تھے تو ان کی لندن میں اعلیٰ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے پرویز مشرف نے انہیں امریکہ میں سفیر بنانے کا ارادہ ظاہر کیاجس کو قادر جعفر نے منظور نہیں کیا۔ انہوں نے مرحوم جنرل پرویز مشرف سے کہا کہ میں اب پاکستان کے عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں‘ غربت اور جہالت کیخلاف جنگ کرنا چاہتا ہوں‘ تاکہ نوجوان اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہوکر جدید عہد کے تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے آگے کی طرف بڑھیں ۔ ان کے خاندان اور ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتاہے کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے اپنے مشن میں کامیاب نظر آرہے ہیں۔ ان کیلئے پاکستان سب کچھ ہے‘ پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔یہی تصور ہر محب وطن پاکستانی کا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں