انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایک بار پھر اسرائیل سے کہاہے کہ وہ فی الفور جنگ بند ی کردے اور رفح پرحملہ کرنے سے باز رہے۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے دوسری مرتبہ اسرائیل کو متنبہ کیاہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرے اور حماس کے ساتھ مذاکرات کاآغاز کرتے ہوئے حالات کو بہتربنانے کی کوشش کرے تاہم ایسا محسوس ہورہاہے کہ اسرائیل نہ تو جنگ بندی کرے گا اور نہ ہی وہ حماس کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے لئے تیارہوگا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے احکامات کو جس طرح اسرائیل فرعونیت کے ساتھ رد کررہاہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ اسرائیل تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حماس کے علاوہ دیگر مزاحمتی تنظیموں نے بھی یہ عہد کرلیاہے کہ وہ نہ تو یرغمالیوں کو رہا کریں گے اور نہ ہی یکطرفہ طور پر جنگ بندی کریں گے۔ اس وقت 36ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ اب بھی اسرائیل کی بمباری کاسلسلہ جاری ہے۔ اس کے جواب میں حماس نے اسرائیل کے دارالخلافہ تل ابیب پر راکٹوں کے ذریعے حملہ کیاہے اوراسرائیل کی قیادت کو یہ باور کرادیاہے کہ ظلم‘ تشدد اور بربریت کے خلاف فلسطینیوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔ حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کی وجہ سے اسرائیل کے دارالخلافہ میں خوف کی فضا چھا گئی ہے اور بااثر افراد وہاں سے نقل مکانی کررہے ہیں۔تاہم یہ بات اسرائیل کو نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ جس طرح جان بوجھ کر تیسری عالمی جنگ کی راہ ہموار کررہاہے ‘ وہ خود اس کے وجود کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ نیز مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک اپنے تحفظ اور بقا کے لئے اسرائیل کی جارحیت کی مزاحمت کرتے ہوئے حماس کے ساتھ شامل ہوجائیں گے۔
نیز اسرائیل کاوزیراعظم نیتن یاہو اس وقت اپنا ذہنی توازن کھوچکاہے‘ اس کا یہ خیال ہے کہ وہ غزہ میں بسنے والے فلسطینیوں کومکمل طور پر نیست ونابود کرکے وہاں اسرائیل کا تسلط مستحکم کرنے میں کامیاب ہوجائے گاتو اس کی یہ ایک بچکانہ سوچ ہے۔ وہ کبھی بھی اور کسی طرح بھی غزہ کو سیاسی طور پر اپنی تحویل میں نہیں لے سکتاہے۔ تاہم عرب ممالک گرچہ اس وقت خاموش ہیں لیکن وہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو بھانپ چکے ہیں اور جب اسرائیل جنگ بندی پرراضی نہیں ہورہاہے اس وقت عرب ممالک آگے بڑھ کر غزہ اور مغربی کنارے پربسنے والے مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنی چاہیے ایسا ممکن ہوتاہوا نظر آرہاہے کیونکہ عرب ممالک کو اب یہ احساس اور ادراک ہوچکاہے کہ اسرائیل فلسطین کے خلاف جنگ بندی نہ کرکے بعض عرب ممالک پر بھی حملہ کرسکتاہے چنانچہ اقوام متحدہ سمیت بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ عالمی کورٹ آف جسٹس کے احکامات کی اسرائیل پر پابندی کرائیں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے لئے تمام مناسب اقدامات اٹھانے سے گریز نہ کریں۔ اسرائیل کا جارحانہ رویہ اور اس کی جارحیت کا جنگی جنون نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپی دنیا کے امن کو بھی تہہ وبالا کردے گا۔ دنیا کے تمام امن پسند ممالک اور عوام نے ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت کو انسانیت کے خلاف اٹھائےجانے والاایک ایساقدم قراردیا ہےجس کی جتنی بھی مذمت ہوسکے کی جائے۔ اسرائیل کے جنگی جنون کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی جائے پاکستان نے بھی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے فیصلے کی مکمل حمایت کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اسرائیل پہ اپنا دبائو ڈال کرفلسطینیوں کی نسل کشی کوروکنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان نے کئی باراسرائیل کی غزہ پرجارحیت کی مذمت کی ہے اور ہر طرح سے غزہ کے مظلوم عوام کی مدد کرنے کا عہد کیاہے اور کربھی رہاہے۔
انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کےاس فیصلے کی روشنی میں امریکہ کو اپنا کردار ادا کرناچاہیے کیونکہ اسرائیل امریکہ کی حمایت سے غزہ پر مسلسل حملہ کررہاہے۔ اگر امریکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچاناچاہتاہے تو اس کو انسانی حقوق کے پس منظر میں آگے بڑھ کراسرائیل کو جارحیت کو روکنے میں اپنا عالمی کردار ادا کرناچاہیے۔ ورنہ اسرائیل کارویہ اس بات کی غمازی کررہاہے کہ وہ جنگ کے دائرے کو پھیلاکر تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہاہے جو خود اس کے لئے اور دیگر ممالک کے لئے تباہی کے باعث بن سکتی ہے۔ ذرا سوچیے۔