Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

میاںنوازشریف کی تقریر اور حالات حاضرہ

یوم تکبیر 28مئی کے موقع پر میاں نواز شریف نے دوبارہ مسلم لیگ(ن) کے صدر کا عہدہ سنبھال لیاہے۔ ان کے چاہنے والوں نے اس پر امن تبدیلی کا زبردست خیرمقدم کیاہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اب مسلم لیگ (ن) میاں نوازشریف کی متحرک اور فعال قیادت میں عوامی امنگوں پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔ اس موقع پر میاں نوازشریف نے تقریربھی کی تھی۔ جو میرے خیال کے مطابق ان کے شایان شان نہیں تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے علاوہ عوام یہ سوچ رہے تھے کہ وہ پاکستان کو درپیش مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس کا حل بھی پیش کریں گے‘ نیز وہ یہ بھی بتائیںگے کہ پاکستان کے عوام کی بھلائی ‘ بہتری اور بہبود کیلئے کیا کرناچاہیے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی تقریر میں پاکستان کے عوام کو درپیش موجودہ مسائل کے حل کے ضمن میں کوئی انقلابی تصور ناپید تھا ‘انہوں نے ایک ایسی تقریر کی جس کی ان سے توقع نہیں تھی۔ عمران خان پر تنقید کرنا ان کا بحیثیت ایک بڑی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا حق بنتا ہے‘ کیونکہ اقتدار کی دوڑ میں ان کا مقابلہ عمران خان سے ہے‘ لیکن ایک ایسے موقع پر جب وہ چار سال کے بعد لندن سے واپس آئے ہیں‘ انہیں عمران خان کے خلاف اتنی سخت باتیںنہیں کرنی چاہیے تھیں۔ بلکہ وہ اپنی تقریر میں عوام کو ایک ایسا پیغام دیتے جس سے یہ تاثر قائم ہوتاکہ وہ سیاست میں ذاتی پسند یانہ پسند کے قائل نہیں ہیں‘ بلکہ وہ صرف پاکستان اور اس کے عوام کے مسائل جو سوہان روح بنے ہوئے ہیں ان کو اپنی صلاحیتوں اور تجربے کی روشنی میں حل کرکے ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے مخالف سے متعلق ایک روایتی تقریر کی جس سے سراسر فائدہ خود عمران خان کو ہواہے۔ پاکستان کے زمینی حقائق یہ بتارہے ہیں کہ جتنی عمران خان کے خلاف بعض حلقوں سے گفتگو کی جارہی ہے اس کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہورہاہے۔ بقول لاہور کے ایک دانشور کے اس وقت پاکستان کے 80فیصد عوام عمران خان کو پسند کرتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔
چنانچہ جس نے بھی میاں نوازشریف کو یہ مشورہ دیاتھا کہ وہ اس اہم موقع پر اپنی تقریر کا زیادہ حصہ عمران خان کے خلاف استعمال کریں۔ ایک غلط نامناسب مشورہ تھا۔ پاکستانی عوام پاکستان کے موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں میاں نوازشریف سے ایک ایسی توقع رکھتے ہیں کہ وہ مختلف الخیال سیاستدانوں کو باہم ملاکر پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور معاشی خوشحالی کی راہ ہموار کریں گے بلکہ وہ ایسا کرسکتے ہیں وہ تین مرتبہ اس ملک کے وزیراعظم رہے ہیں۔ علاقائی اور عالمی حالات سے بخوبی واقف ہیں‘ بلکہ اکثر پاکستانیوں کا خیال تھا کہ انہیں لندن سے بلایا بھی اسی لیے گیاتھا کہ وہ چوتھی بار پاکستان کے وزیراعظم بن کر اس ملک کو اقتصادی ترقی اور عوام کو سماجی خوشحالی سے ہمکنار کریں گے ۔ عوام کی یہ توقعات عبث یا بے بنیاد نہیں تھیں۔ لیکن انہوں نے اپنی تقریر میں عمران خان کوتنقید کا نشانہ بناکر تقریباً وہی طریقہ اختیار کیا جوایک روایتی سیاستدان اختیار کرتا ہے۔
اس ہی پس منظر میں ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف نے بھی اپنی تقریر میں وہی لب ولہجہ اختیار کیا جو میاں نوازشریف نے کیاتھا۔ان کو بھی ایسا نہیں کرناچاہیے تھا‘ کیونکہ وہ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور ان پر ملت کے مابین اتحاد پیداکرنے کے سلسلے میں خاصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘ لیکن وہ بھی اپنے عہدے کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھ سکے اور عمران خان کوتنقید کا ہدف بناکر یہ زعم خودخوش ہورہے تھے۔
چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نوازشریف جنہیں ملک چلانے کا گہرا تجربہ بھی ہے ان کی گفتگو میں بھی نرمی اور لچک پائی جاتی ہے۔ وہ اپنی تقریر سے ملک میں گہرے Polarisation کو ختم کرنے میں کامیاب ہوسکیںگے ۔ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوسکے گا ؟معاشرے میں سیاسی بنیادوں پر مزید تقسیم پیدا ہوگئی ہے جو مملکت کے استحکام کیلئے بدشگونی کا باعث بن سکتی ہے۔ عمران خان پاکستان کی سیاست میں حرف آخر نہیں ہیں‘ وہ یقینا عوام میں پاکستان کے اندر اور باہر بے حد مقبول ہیں‘ لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو سیاسی منظر نامے سے ہٹادیاجائے؟ یان کو اتنی ذہنی اذیت دی جائے کہ وہ آئندہ مملکت پاکستان کیلئے سودمند ثابت نہ ہوسکیں۔ میاں نوازشریف کو غیر جذباتی اندا ز میں پاکستان کے معروضی حالات کاگہرائی اور گیرائی سے جائزہ لیتے ہوئے اس میں اصلاحات لانے کیلئے غیر معمولی کوشش کرناچاہیے تاکہ پاکستان میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکے جو بعد میں معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکے۔ ہوسکتاہے کہ میاں صاحب کو میرا یہ کالم پسند نہ آئے‘ لیکن میں ان کا خیرخواہ ہوں اور ان سے توقع رکھتاہوں تاکہ وہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنا نے میں اپنا روایتی کردار اداکریں گے ۔ پاکستان کے عوام بھی ان سے اس ہی قسم کی توقعات رکھتے ہیں۔ بقول ایک شاعر
مجھ کو یقین ہے لوگوں کی بدلے گی سوچ
آج کے شاعر اور قلندر سوچ رہے ہیں

یہ بھی پڑھیں