Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

افغان سرزمیں اور دہشت گردی

صاحبو،وطنِ عزیز میں معاشی بد حالی کامسئلہ اپنی جگہ شدت سے مو جو د مگر ایک بڑا مسئلہ جس سے نظر چرانا خود سے نظر چرانے کے مترادف ہے، تو وہ ہے دہشت گردی کا مسئلہ ۔ ہمارے سویلین کی شہادتوں کی خبریں جہاں آ ئے روز ملتی رہتی ہیں وہیں وطن کی حفاظت پہ ما مور فوجی جوا نوں اور افسروں کی جاں سوز خبریں دل کو چیرتی رہتی ہیں۔ اوپر سے افسوس نا ک امر یہ ہے کہ اس دہشت گردی کے لئے افغا نستان کی سرزمیں استعما ل ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر تمام شواہد موجود ہیں کہ بشام حملے کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی۔ ثبوت دئیے جانے کے باوجود اب تک افغان حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ افغان عبوری حکومت سے ٹی ٹی پی کی قیادت گرفتار کرنے کی درخواست کی ہے، افغانستان دہشت گردوں کے خلاف ٹرائل کرے یا انہیں ہمارے حوالے کرے۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کا صدیوں پرانا نسلی اور لسانی رشتہ بھی ہے مگر ادھر سے ٹھنڈی ہوا کے خوشگوار جھونکوں کے بجائے ہمیشہ گرم لو کے تھپیڑے ہی آتے رہے۔ افغان طالبان کی عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد قوی توقع تھی کہ یہ سلسلہ اب رک جائے گا اور شمال مغربی سرحدوں سے دوستی تعاون اور امن کا پیغام آئے گا مگر صد حیف کہ اس کے بجائے دہشت گردی کی نئی لہر آگئی جس کی ذمہ دار پاکستان دشمن دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی ہے اور اس کو کابل حکومت کی خاموش حمایت حاصل ہے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغانستان میں اپنے خفیہ ٹھکانوں سے پاکستان میں دراندازی کرتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں کو بھی اپنا نشانہ بناتے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا نسلی اور جغرافیائی لحاظ سے افغانستان سے ہمیشہ جڑا رہا ہے، البتہ سیاسی طور پر افغانستان سے الگ رہنے کی وجہ سے یہاں کئی چیزیں بدل چکی ہیں۔ خیبر پختون خوا میں تحریکِ طالبان اور القاعدہ سمیت 12 دہشت گرد تنظیمیں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی اہل کاروں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی صورت حال انتہائی نازک ہے، جہاں سرحد پار سے دہشت گرد آکر آباد ہوگئے ہیں اور ان سے قبائلی عوام کو دیگر اضلاع کی نسبت 100فیصد زیادہ خطرہ ہے۔ خیبر پختون خوا سے بھی بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی اپنے آبائی وطن واپسی ہوئی ہے، جب افغان شہری مہاجرین کی صُورت پاکستان میں داخل ہوئے تھے، تو انہیں ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی گئیں، لہٰذا بعض عناصر کی جانب سے ان کی واپسی کے عمل کو متنازع بنانا سخت افسوس ناک ہے۔ افغان باشندوں کو بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اب ان کے مُلک میں امن و استحکام ہے۔ اُن کے آبائی علاقے آباد کاری کے قابل ہوچکے ہیں۔ نیز، افغانستان میں رقبے کے اعتبار سے آبادی کا تناسب خاصا کم ہے، تو ایسے میں پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ واپس جا کر اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں۔خیبر پختونخوا میں مسلسل تیسری بار پاکستان تحریک انصاف برسر اقتدار آئی ہے۔ صوبہ بد ترین انتظامی و مالی مشکلات سے بھی دوچار رہا ہے۔ صوبے کے مخصوص حالات بھی یہاں کے مکینوں کے لیے مستقل آزمائش بنے ہوئے ہیں۔ افغان جہاد سے لے کر دہشت گردی کی لہر تک سے خیبر پختون خوا ہی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کے دور میں 405 ارب سے زائد کا قرضہ لیا گیا جبکہ ان کے دورسے قبل صوبے کا قرضہ 2 سو ارب روپے سے زائد تھا۔ موجودہ حکومت نے جو منصوبہ بندی کی ہے تو قرضوں کا حجم 1000 ارب سے زائد ہو جائے گا۔ دوران پریس کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑی پاکستان کی نہیں تھی، دہشت گردوں کی گاڑی افغانستان سے پاکستان سے آئی، حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی،خودکش حملہ آور چار ماہ قبل افغانستان سے پاکستان آیا، یہاں خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر ضرور سوالیہ نشان لگتا ہے۔ یعنی منصوبہ ساز مجرم اور اس کے مقامی ساتھی چار ماہ تک پاکستان میں مقیم رہے، لیکن ان کی موجودگی کا ریاستی انتظامیہ کو پتہ تک نہ چل سکا۔
عام طور پہ دہشت گردی کے ملکی اور عالمی نیٹ ورک جرائم پر مبنی معیشت پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے ریاستی انتظامی ادارے اگر دیانتداری اور جانفشانی سے متذکرہ جرائم کے نیٹ ورک توڑ دیں تو دہشت گردوں کی اقتصادی لائف لائن کاٹی جاسکتی ہے لیکن ہمارے یہاں اس کے برعکس دہشت گردی کی گونج میں پولیس نے خود کو جرائم کی بیخ کنی جیسی ذمہ داریوں سے مبرا کر لیا ہے۔ دوسری جانب پولیس نے اپنی اصل ذمے داریاں یعنی کرائم فائٹنگ اور فوجداری نظام عدل کی تکمیل کے لیے جرائم کی جامع تفتیش کے تقاضوں کو بھی فراموش کر رکھا ہے جس سے بالواسطہ طور پہ کریمنل جسٹس سسٹم کمزور ہوا، دوسری طرف اغواء، ڈکیتی اور اسمگلنگ پہ استوار دہشت گردوں کی معاشی سپلائی لائن بدستور کام کر رہی ہے اور محکمہ پولیس سمیت دیگر انتظامی ادارے اس کے خلاف پوری طرح متحرک نہیں۔ چنانچہ دہشت گردی کے اس قدر بڑے واقعات بارے ان سے کڑی جوابدہی قرین قیاس نہیں، ایسا سوچتے وقت ہمیں ان کی استعداد کار، میسر وسائل اور دائرہ عمل کی طرف دیکھنا ہوگا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں