بھارتی لوک سبھا کے عام انتخابات 19اپریل سے یکم جون تک جاری رہے اور اب ختم ہوگئے ہیں۔ یہ بھارت کے طویل ترین انتخابات تھے جس میں بھارت کی ہندوانتہا پسند جماعت بی جے پی معمولی اکثریت کے ساتھ انتخابات جیت گئی ہے۔ اس کو کل293 سیٹیں ملیں ہیں جبکہ حزب اختلاف این ڈی اے (india) کو جس کی سربراہی راہول گاندھی کررہے تھے کل234 سیٹیں ملی ہیں۔ بی جے پی نے انتخابات سے قبل دعویٰ کیاتھا کہ اس کو400 سے زائد سیٹیں ملیں گی۔ اس طرح وہ اکثریت میں آکر لوک سبھا میں کچھ ایسے قوانین تشکیل دیں گے جو بھارت کے عوام کے لئے فائدے مند ثابت ہوں گے‘ جبکہ ان قوانین سے مسلمانوں ‘ عیسائیوں‘ سکھ اور دلتوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہونگے۔ لیکن اب عام انتخابات کے نتائج آنے کے بعد نریندر مودی کے تمام خواب منتشر ہوگئے ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج سے اقلیتوں کو بے پناہ فائدہ حاصل ہوسکے گا۔ خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کو جن کو مودی کی گزشتہ دس سالہ حکومت کے دوران ان کے آئینی حقوق سلب کرلئے تھے۔ معاشی اور سماجی طور پر ان کو کنارے سے لگادیاتھا۔ لیکن اب مودی کو اور اس کی حلیف جماعتوں کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل نہیں ہے‘ اس لئے وہ ایسے قوانین نہیں بناسکیں گے جو اقلیتوں کے مفادات کے خلاف ہوسکتے ہیں ۔ نیز گزشتہ دس سالوں کے دوران مودی نے جس طرح بھارت کو ایک ہندو ملک بنانے کی کوشش کی تھی اس میں بھی وہ اب کامیاب نہیں ہوسکے گا‘ کیونکہ حالیہ انتخابات نے بھارت کے باشعور عوام نے یہ فیصلہ دے دیاہے کہ بھارت میں انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘ بلکہ بھارت کا استحکام صرف اور صرف سیکولر ازم سے وابستہ اور پیوستہ ہے۔ بھارتی آئین بنانے والوں نے بھارت میں بسنے والے کروڑوں مختلف مذاہب ماننے والوں کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیاتھا کہ بھارت صرف سیکولر ازم کی بنیاد پر متحدرہ سکتاہے‘ بصورت دیگر مختلف الخیال مذہبی ولسانی اکائیاں اختلافات کی صورت میں بھارت کو توڑ بھی سکتی ہیں۔
تاہم بھارتی عوام نے نریندر مودی کی ہندوتا پالیسی کو نہ صرف مستردکردیاہے بلکہ حزب اختلاف کو ووٹ دیکر لوک سبھا میں آئندہ قانو ن سازی کے ضمن میں جمہوری طریقے کار کو عوام کی امنگوں سے ہمکنار کیاہے۔ اگر نریندر مودی کو لوک سبھا میں اکثریت مل جاتی تو وہ لوک سبھا میں ایسے قوانین بناتا جو بھارت کو مزیدانتہا پسندی کی طرف لے جاتے ۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوسکے گا۔ اس کا سارا کریڈٹ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو جاتاہے جنہوں نے غیر معمولی محنت کرکے بھارتی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ اگر یہ’’ چائے والا‘‘ بھاری اکثریت سے جیت گیا تو بھارت ٹوٹ سکتاہے جبکہ اس صورت میں بھارت کے اندر جاری ان تحریکوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ جو پہلے ہی نریندر مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں۔ مزید براں نریندر مودی کو اب پاکستان کے خلاف جارحیت کرنے کا کسی بھی قسم کا قانونی جواز حاصل نہیں ہوسکے گا۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں یہ واضح طور پر لکھاہے کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ ’ ’ آزاد کشمیر ‘‘ پرحملہ کرکے بھارت کا حصہ بنالیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ نریندر مودی نے اپنے انتخابی جلسوں میں پاکستان کے خلاف انتہائی رکیک حملے کئے تھے اور کہاتھا کہ مقبوضہ کشمیر کی طرح پاکستانی کشمیر کو طاقت کے ذریعے بھارت کاحصہ بنالیں گے۔ لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہوسکے گا۔ تاہم پاکستان کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ لوک سبھا میں معمولی اکثریت رکھنے کے باوجود نریندرمودی کی انتہا پسند سوچ سے پاکستان کو اور بھارت کے اندر بسنے والے مسلمانوں کو اس سے خیر کی امیدنہیں رکھنی چاہیے۔ نریندرمودی دومنہ والا سانپ ہے جو گزشتہ دس سالوں سے مسلمانوں کا خون چوس رہاہے اور ہر طرح سے انہیں ان کے آئینی حقوق سے محروم کر رہاہے۔ چنانچہ میرے خیال کے مطابق نریندر مودی اور اس کا انتہا پسند ہمنوا امیت شاہ اب سابقہ پالیسی پرضرور نظرثانی کریں گے اور اس حقیقت کو تسلیم کریں گے کہ انہیں عام انتخابات میں عوام نے آئینی وذہنی شکست دی ہے اوران کی پالیسیوں کو مسترد کردیاہے۔اس کا سدباب صرف اس طرح ہوسکتاہے کہ بھارت میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے ساتھ آئین کے مطابق رویہ اختیار کرناچاہیے اور جنوبی ایشیا میں امن کی خاطر پاکستان کے ساتھ اچھے روابطے استوار کئے جائیں تاکہ ان دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے نئے دورکاآغاز ہوسکے۔ اور جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کو یقینی بناکر جنگ کے امکانات کو ختم کیاجاسکے۔۔ ذرا سوچیئے