جب ہم کالج میں پڑھتے تھے تو اخبار ات میں یہ خبریں نمایاں طور پر شائع ہوتی تھیں کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پاکستان کی سا لمیت پر یقین رکھتی ہے اور یہ کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کا تحفظ بھی امریکہ کی ذمہ داری ہے یقینا ان خبروں سے ہم جیسے نوجوانوں کو بہت خوشی ہوتی تھی کیونکہ اس زمانے میں 1960 ء تک امریکہ اور پاکستان کے درمیان انتہائی خوشگوار تعلقات تھے‘ بلکہ امریکہ نے پاکستان کو کئی موقعوں پر گندم کی امداد بھی فراہم کی تھی اس کے علاوہ پاکستان کے قیام کے ابتدائی دنوں میں پاکستان کی فوج کو جدید اسلحہ بھی امریکہ نے فراہم کیاتھا۔ بانی پاکستان قائداعظمؒ کے امریکی حکومت کے نام خطوط سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ انہیں اس بات کا کامل یقین تھا کہ امریکہ پاکستان کی عسکری اداروں کو جدید اسلحہ کی فراہمی سے دریغ نہیں کرے گا بلکہ ہوا بھی ایسا ۔ ہرچند کہ موجودہ سیاسی حالات کے پس منظر میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں وہ گرمجوشی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی اکثریت امریکہ کے ساتھ دوطرفہ بنیاد پر تعلقات کے خواہش مند ہیں۔ یہ دوسری بات کہ امریکہ نے بسا اوقات پاکستان کو کئی موقعوں پر ڈچ بھی کیاہے۔ خصوصیت کے ساتھ افغانستان اور بھارت کے مسئلے پر۔ لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ پاکستان کے لئے تمام تر اختلافات کے باوجود نرم گوشہ رکھتاہے۔
تاہم اب 2024 ء میں جب ہم اب آہستہ آہستہ پت جھڑ کے موسم کے قریب آرہے ہیں۔ ہماری سماعت میں یہ نعرہ چین کے ساتھ تعلقات کے پس منظر میں ذہن میں بازگشت کررہاہے‘ چین پاکستان کی سالمیت اور جغرافیائی خودمختاری کی ضمانت بن کر ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید گہرائی اور گیرائی پیداکرنے کا سبب بن سکتاہے۔ اس لحاظ سے چین کے پاکستان کی سالمیت کے حوالے سے خیالات نہ صرف حوصلہ افزا ہیں بلکہ ان خیالات سے یہ حقیقت ظاہر ہورہی ہے کہ چین پاکستان کی سا لمیت اور جغرافیائی وحدت کو اپنی خارجہ پالیسی کااہم ستون قرار دے رہاہے۔
تاہم میں نے امریکہ اور چین کے حوالے سے پاکستان کی سالمیت کا جو حوالہ دیاہے اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی حیثیت برقرار رکھنے کی تمام تر ذمہ داری پاکستان کے عوام پر عائد ہوتی ہے۔ اگر پاکستان کے عوام تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے اعلیٰ مقاصد کا احساس وادراک رکھتے ہیںتو پھریہی لوگ پاکستان کی سا لمیت کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اور ہونا بھی چاہیے۔ دنیا کے تما م چھوٹے بڑے ممالک اپنے عوام کی طاقت اور اتحاد پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان کا معاشی ‘ سماجی خیال رکھتے ہوئے انہیں وہی عزت دیتے ہیں جوان کا حق بنتاہے۔
لیکن پاکستان میں عوام کی اکثریت کے ساتھ موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں کا جورویہ اختیار کیاہوا ہے وہ ہر لحاظ سے عوام دوست نہیں تھا اور نا ہے۔ دس کروڑ سے زائد عوام خط افلاس کے نتیجے میں زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں‘ جبکہ پوے ملک میں پانچ کروڑ بھکاری ملک کے مختلف علاقوں میں بھیک مانگ کر گزارہ کررہے ہیں ظاہر ہے کہ اس معاشرتی اور سماجی پس منظر میں انسانی ترقی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ اس ضمن میں نا قابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان پر حکومت کرنے والوں نے نہ تو امریکہ کی ترقی اور تعلیمی اقدار سے کچھ سیکھا ہے یہی صورتحال چین کے ضمن میں بھی کہی جاسکتی ہے‘ شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ 1980ء سے چین جارہے ہیں‘ لیکن اس طویل عرصے میں انہوں نے چین کی ترقی سے کیا سبق حاصل کیاہے؟ کیا پاکستان میں چین کی طرح کرپشن کے خلافzero tolerance موجود ہے۔؟ میں سمجھتاہوں کہ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر سطح پر کرپشن نے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ لیاہے۔ نیز حکومت کرنے والوں کی جانب سے کرپشن کے ارتکاب سے اس کا براہ راست اثر عوام کی زندگیوں پر پڑرہا ہے‘ خصوصیت کے ساتھ نوجوانوں پر جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار کے حصول کے لئے بے سمت بھاگ رہے ہیں ۔ صرف اشرافیہ (بدمعاشیہ) کے بچے تعلیم سے فراغت کے بعد فوراً کسی نہ کسی جگہ حکومتی سفارش کے ذریعے روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
تاہم میں اس کالم کے ذریعے ارباب حل عقد کو یہ بتاناچاہتاہوں کہ جب تک ہم اپنے سیاسی ومعاشی نظام میں عوام کی بہتری کے پس منظر اور پیش منظر میں تبدیلیاں نہیں لائیں گے کچھ بھی نہیں ہوسکے گا۔امریکہ یا پھر چین ایک حد تک آپ کی مدد کرسکتے ہیں اور آپ کو باعزت زندہ رہنے کا حوصلہ تو دے سکتے ہیں لیکن یہ دونوں ممالک آپ کی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی آپ کو یہ امید رکھنی چاہیے۔ ترقی کے ساتھ سالمیت کی بھی اہم ذمہ دار آپ کو ہی پوری کرنی پڑیگی۔ نیز یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ امریکہ اور چین نے جو ترقی کی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ان کے عوام اور حکومت کا معاشرے سے گہراcommitment رہا ہے۔ موجودہ عہد میں چین ہمارا دوست ضرور ہے اور خیرخواہ بھی۔ اس کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کی حکومت عوام دوست طرز حکمرانی اختیار کرکے مملکت پاکستان کومضبوط بنائیں اور عوام کو ان کے وہ تمام معاشی ومعاشرتی حقوق مہیا کریں جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک کاطرہ امتیاز رہے ہیں۔ محض امریکہ اور یا پھر چین کی دوستی کا راگ الاپ کرہم ترقی اور خوشحالی کی اس منزل تک نہیں پہنچ سکتے ہیں جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناح نے دیکھاتھا اور عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے بعد پاکستان کے قیام کویقینی بنایاتھا۔ ذرا سوچیئے۔