پاکستان کے عوام سینیٹر عبدالحسیب خان سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ صرف ایک معروف سیاستداں ہی نہیں بلکہ ایک انسان دوست اور صلح رحمی کرنے والے انسان بھی ہیں جن سے خلق خدا مستفید ہورہی ہے۔ انہوں نے قرآن کریم سے متعلق پہلے دو کتابیں انتہائی آسان سہل انداز میں تشریح کرکے ایک عام آدمی کو نئے انداز میں سوچنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا موقع فراہم کیاہے۔ عبدالحسیب خان نے قرآن کریم سے متعلق پہلے دو جو ترجمے تحریر کئے ہیں‘ ان میں ’’قرآن کا دعوتی اسلوب‘‘ اور دوسرا ’’ایمان اور بندگی‘‘ ۔ یہ دونوں ترجمے عام ترجموں سے ہٹ کر آسان زبان میں لکھے گئے ہیں اور انتہائی سہل‘ آسان اورقابل فہم زبان میں آیات کا ترجمہ اور تشریح پیش کی گئی ہے تاکہ قرآن کریم کے ابدی پیغام کو آسانی کے ساتھ سمجھاجاسکے۔
قرآن کریم کا موجودہ ترجمہ ماضی کی دونوں تراجم کی طرح انتہائی آسان اور سہل زبان میں پیش کیا گیاہے۔ جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ قرآن کریم کے اصل پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ قرآن کریم انسان کو تاریکی سے روشنی کی طرف بلاتاہے اور یہ ابدی پیغام بھی دیتا ہے کہ نیکی کی راہ اختیار کرکے اور خلق خدا کی بے لوث خدمت کرکے جنت میں جاسکتاہے۔ کیونکہ جنت نیک لوگوں کی قیام گاہ ہے۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اور اللہ کاوعدہ ہمیشہ سچا اور پوراہوتاہے۔
سینیٹر عبدالحسیب خان اس لحاظ سے قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے قرآن کریم کے اعلیٰ مقاصد کو آسان زبان میں پیش کرکے لاکھوں لوگوں کی بل واسطہ رہنمائی کی ہے اور ساتھ میں یہ پیغام بھی دیاہے کہ اگر مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرناچاہتے ہیں تو انہیں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھناچاہیے اور اس میں ان رازوں کو تلاش کرنے کی جستجو کرنی چاہیے جس کو پاکر ہم موجودہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔
دراصل مسلمانوں کے زوال کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم قرآن سے اپنا رشتہ برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں‘یہی وجہ ہے کہ ہم اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور صرف مادی ترقی کو زندگی کا بنیادی مقصد بنالیاہے۔ قرآن مادی ترقی کی نفی نہیں کرتاہے بلکہ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی اور انسانی اقدار کے فروغ پر زور دیتاہے‘ کیونکہ معاشرے میں خوشحالی اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب ہم خلق خدا کے حقوق کو ان تک پہنچا دیں جس کی کھلی ہدایت قرآن کریم نے کی ہے۔ یعنی ہر سطح پر انصاف کا بول بالا ہوناچاہیے۔
قرآن کریم کا موجودہ ترجمہ جس آسانی اور سہل انداز میں پیش کیاگیاہے‘ اس کا واحد مقصد یہی ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ا س کا مادری زبان میں ترجمہ کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ جب تک مسلمانوں کی اکثریت قرآن کریم کے پیغام کو اپنی مادری زبان میں سمجھنے کی کوشش نہیں کریگی ‘ اس وقت تک قرآن کا ابدی پیغام بھی فہم اورادراک کا حصہ نہیں بن سکتاہے۔ اس لئے قرآن کریم کا بنیادی مقصد انسان سازی ہے۔ یعنی وہ راستہ جس پر چل کر مسلمان ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جس کا عملی ثبوت ہمارے پیغمبرﷺ نے آج سے چودہ سوسال پہلے پیش کیاتھا اور آج بھی ہم ان کے نقش قدم پر چل کر انسانیت کے چراغ کو ابدی طور پرفروزاں رکھ سکتے ہیں۔
سینیٹر عبدالحسیب خان کا تعلق کارپوریٹ سیکٹر سے ہے‘ لیکن انہوں نے اس ’’مادی سیکٹر‘‘ میں رہتے ہوئے قرآن کریم اور اللہ کی مخلوق سے اپنا رشتہ نہیں توڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاست کے علاوہ سماجی حلقوں میں بہتری لانے کے لئے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بہت دکھ ہوتاہے کہ مسلمانوں نے’’ مادیت‘‘ کو اپنا نصب العین بنالیاہے حالانکہ صرف مادیت انسان کو اللہ کے قریب نہیں لاسکتی ہے‘ اور نہ ہی روحانیت کے قریب۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے مادیت کے تقاضوں کو نظرانداز کردیاجائے‘ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں مسلمانوں کو ’ ’ امت وسط‘‘ سے مخاطب کیا ہے یعنی مسلمان مادیت اور روحانیت دونوں کو ساتھ لیکر اس دنیا کو معاشی خوشحالی اور امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں ‘ تاکہ خود بھی جئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں۔ قرآن اور اسلام کے اس لازوال پیغام کو عبدالحسیب خان نے اپنی شب روز کی محنت سے ایک عام مسلمان کو قرآن کریم کے اعلیٰ مقاصد کے قریب لانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ اس کواپنی مادری زبان میں سمجھ کر معاشرے میں مساوات اور بھائی چارے کی فضا پیداکرکے زندگی کے سفر کو اپنے لئے اور دوسروں کیلئے آسان بناسکیں۔