(گزشتہ سےپیوستہ)
الحمدﷲ ہم نے چھ مقامات اور پڑھ لئے… اپنے عظیم رب کی سچی باتیں… بے شک موت نے آنا ہے، اس یقین کو دل میں بٹھائیں گے اور اس کی تیاری کریں گے تو ہم پکے اوراچھے مسلمان بن جائیں گے‘ یقین کریں ہم موت سے نہیں بھاگ سکتے… ہاںمگر اپنی موت کو اچھا اور مزیدار بنانے کی دعاء اور محنت کرسکتے ہیں‘ پھر دیر کس بات کی ‘ آج سے ہی دعاء اور تیاری شروع ہو جائےاﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
(۱) ترجمہ: اور جو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیںسمجھتے(البقرہ ۱۵۴)
(۲) ترجمہ: اور اگر تم اﷲ تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے گئے یا مر گئے تو اﷲ تعالیٰ کی مغفرت اوراُس کی رحمت اُس چیز(یعنی مال و اسباب) سے بہترہے جو لوگ جمع کرتے ہیں(ال عمران ۱۵۷)
(۳) ترجمہ: اور جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے راستے میں مارے گئے انہیں مردے نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق دیئے جاتے ہیں، اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو انہیں دیا ہے اُس پر خوش ہونے والے ہیں( ال عمران ۱۶۹،۱۷۰)
(۴) اور جو شخص اﷲ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے پھر اُس کو موت آپکڑے تو اُس کا ثواب اﷲتعالیٰ کے ذمے ہو چکا ( النساء ۱۰۰)
(۵)ترجمہ: اور جن لوگوں نے اﷲ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی، پھر وہ قتل کئے گئے یا مرگئے بے شک اﷲ تعالیٰ اُن کو اچھی روزی دے گا اوریقیناً اﷲ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے اور اُن کو ایسے مقام میںداخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بے شک اﷲ تعالیٰ جاننے والا، برُدبار ہے(الحج ۵۸،۵۹)
(۶) ترجمہ: اور جو اﷲ تعالیٰ کی راہ میںمارے گئے ہیں اﷲ تعالیٰ اُن کے اعمال ضائع نہیں فرمائے گا(بلکہ) جلدی انہیں راہ دکھلائے گا اور اُن کا حال درست کردے گا اور انہیںجنت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے (محمد ۴ تا ۶)
الحمدﷲہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اﷲ کریم نے ہمیںاپنی کتاب میں سے چھ مزید مقامات پڑھنے کی توفیق عطاء فرمادی‘ مزے لے لے کر قرآن پاک میں سے اُن کی تلاوت کریں پھر ترجمے کو پڑ ھیں اور سمجھیں اور ان آیات میںموت کو شکست دینے کا جو طریقہ لکھاہے اُسے اختیار کرلیں… جی ہاں جہاد اور ہجرت کا راستہ‘ بس نیت کر لیں اور راستہ پکڑ لیں پھر قتل ہوں یا عام موت آئے‘ منزل پر پہنچیں یا راستے میں کھپ جائیں‘ کوئی فتح ملے یا ظاہری شکست اُٹھائیں… کوئی نتیجہ نظر آئے یا بالکل نہ آئے‘ کوئی فرق نہیں، ذرہ برابر فرق نہیں‘ ہاں جس کی نیت جتنی اونچی اور جس کی محنت اور قربانی جتنی زیادہ اُس کو اُتنا زیادہ مقام ملتاہے۔
قرآن پاک نے ’’عذاب‘‘ کے مسئلے کو تفصیل سے بیان فرمایاہے صرف’’العذاب‘‘ کا لفظ دو سو چونسٹھ(۲۶۴) بار اور’’عذابا‘‘ کا لفظ اُنتالیس (۳۹) بار قرآن مجید میں آیا ہے جبکہ اسی لفظ کے دیگر صیغے بھی درجنوں بار استعمال ہوئے ہیں… قرآن پاک ’’عذاب‘‘ بھی بیان فرماتا ہے اور اُس کی اقسام بھی اور عذاب سے حفاظت اور بچاؤ کا طریقہ بھی… اﷲ تعالیٰ کا عذاب دنیا میں بھی آتاہے،اور مرنے کے بعد بھی اور اصل اور زیادہ سخت عذاب قیامت قائم ہونے کے بعد اُن لوگوں پر ہو گا جو اس عذاب کے مستحق ہوں گے‘ جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں وہ اکثر عذاب الٰہی سے بچ جاتے ہیں اور جو لوگ’’ عذاب الہٰی‘‘ سے بے فکرے ہوتے ہیںوہ اکثر اس عذاب میں پکڑے جاتے ہیں‘ اﷲ تعالیٰ کاعذاب کب آئے گا اور کس پر آئے گا اس کا علم اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اور کونسی چیز عذاب ہے اور کونسی چیز عذاب نہیں یہ بھی اﷲتعالیٰ ہی جانتا ہے‘ پانی میں ڈوب مرنا فرعون کے لئے اور کافروں، نافرمانوں کے لئے سخت عذاب ہے‘ جبکہ مجاہدین کیلئے حالت جہاد میںڈوب کر مرنا دُگنے اجر کا ذریعہ اوربڑی شہادت ہے‘ آگ میں جل مرنا کافروں اورنافرمانوں کے لئے عذاب ہے جبکہ اصحاب الاخدود کے واقعہ میںجو اہل ایمان جلائے گئے وہ سیدھے جنت کی ٹھنڈی ہواؤں میں داخل ہو گئے‘ہم سب مسلمانوں کو قرآن پاک کی اُن آیات میںغور کرنا چاہئے جو ’’عذاب‘‘ کوبیان فرماتی ہیں اور ہم سب کو اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے بے حد ڈرنا چاہئے اور اُن طریقوں کو اختیار کرنا چاہئے جو اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہیں۔
اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
(۱) ترجمہ: کیا تم اُس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے پس یکایک وہ زمین لرزنے لگے،کیا تم اُس سے بے خوف ہو گئے ہو جوآسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسا دے پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہے(المُلک ۱۶،۱۷)
(۲) ترجمہ: کیا بستیوں والے بے خوف ہو چکے ہیں کہ ہماری طرف سے اُن پر رات کو عذاب آئے جب وہ سورہے ہوں یا بستیوںوالے اس بات سے نڈر ہو چکے ہیں کہ اُن پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں،کیا وہ اﷲ تعالیٰ کی اچانک پکڑ سے بے فکر ہو گئے ہیں، پس اﷲ تعالیٰ کی اچانک پکڑ سے بے فکر نہیں ہوتے مگر نقصان اٹھانے والے(الاعراف ۹۷ تا ۹۹)
(۳) ترجمہ: اور اُن اچھی باتوں کی پیروی کرو جوتمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہیں اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو، کہیں کوئی نفس کہنے لگے ہائے افسوس اُس پر جو میں نے اﷲ کے حق میں کوتاہی کی اور میں توہنسی ہی کرتا رہ گیا یا کہنے لگے اگر اﷲتعالیٰ مجھے ہدایت کرتا تو میں پرہیز گاروں میں ہوتا یا کہنے لگے جس وقت عذاب کو دیکھے گا کہ کاش مجھے میسر ہوتا واپس لوٹنا تو میں نیکو کاروںمیں سے ہوجاؤں… ہاںتیرے پاس میری آیتیں آچکی تھیں پس تو نے انہیں جھٹلایا اور تو نے تکبر کیا ن آیات کی تلاوت کر کے ان کا ترجمہ توجہ سے پڑھیں تو ہر مسلمان اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔