پاکستان میں 8 فروری سے متعلق ہونے والے عام انتخابات پر عوام میں سخت تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ان تحفظات کااظہار اخباری بیانات کے علاوہ ٹی وی ٹاک شوز میں ہوتارہتاہے۔ یوٹیوب میں توان انتخابات کے بارے میں کہاجارہاہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت نے ان انتخابات نتائج کو مسترد کردیا ہے۔ جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ موجودہ حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے مشہور وکیل اعتراز احسن نے کہاہے کہ 8فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی چیف الیکشن کمیشن کے ایما پر ہوئی ہے۔اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ چنانچہ 8فروری کے عام انتخابات سے متعلق عوام کے مختلف حلقوں کی جانب سے ہونے والی تنقید سے امریکہ نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈال دیاہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ 8فروری کو ہونے والے انتخابات سے متعلق حقائق سے امریکہ کوآگاہ کیاجائے۔ امریکہ نے یہ سوال اس لئے اٹھایاہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی باقاعدہ واشنگٹن میں امریکی حکام سے مل کران پر دبائو ڈالتے ہیں کہ امریکہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے پوچھے کہ پاکستانی عوام کو 8 فروری کے عام انتخابات پراعتماد کیوں نہیں ہے؟اور اس کا ازالہ کس طرح ہوسکتاہے؟
چنانچہ امریکی کانگریس نے اس سلسلے میں ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 8فروری کو ہونے والے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق حقائق سے امریکی حکومت کو مطلع کیا جائے ۔ امریکہ کے اس مطالبے کو موجودہ حکومت اور اس کے بعض وزرا امریکی مداخلت سے تعبیر کررہے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات سے دور رہناچاہیے۔ لیکن امریکہ کا پاکستان یا پھر کسی دوسرے ملک سے متعلق رویہ اکثر ایسا ہی دیکھنے میں آیاہے۔ ایک طرف امریکہ پاکستان کی دوستی اور اس کی سالمیت پر یقین رکھتاہے اور اس کا اکثر اظہار بھی کرتارہتاہے۔ نیز امریکہ اور پاکستان کی دوستی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں امریکہ اور پاکستان نے باہم مل کر افغانستان میں روس کی پیش قدمی کو روکاتھا۔ جس کی وجہ سے روس بحرہ عرب تک رسائی حاصل نہیں کرسکاتھا (گرم پانی تک)۔ اس وقت امریکہ پاکستان کو چین سے متعلق تعلقات پر ’’احتیاط‘‘ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہاہے۔ تودوسری طرف وہ پاکستان سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لائے۔ پاکستان کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے‘ لیکن بھارت پاکستان کو باہمی تعلقات کے فروغ میں وہ اہمیت نہیں دینا چاہتاہے جس کا امریکہ مشورہ دے رہاہے‘ بھارت جنوبی ایشیا میں اپنی بالا دستی قائم کرناچاہتاہے۔ جس کے حصول کیلئے وہ سرتوڑ کوشش کررہاہے۔
دوسری طرف بھارت ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلارہا ہے۔ اس مذموم ارادے میں اس نے افغانستان کو بھی اپنے ساتھ ملالیاہے تاکہ پاکستان کو سیاسی ومعاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار کیاجاسکے۔ دراصل پاکستان میں 8فروری کوہونے والے عام انتخابات سے متعلق امریکی قرارداد اس بات کی مظہر ہے کہ امریکہ بھی پاکستان کومستحکم ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتاہے۔ ہر چند کہ بھاری حمایت سے منظور ہونے والی یہ قرارداد حکومت پاکستان پر بائنڈنگbinding نہیں ہے۔ لیکن اس کے اثرات پاکستان کی آئندہ سیاست پرضر ور پڑسکتے ہیں۔ حقیقت میں8فروری کو انتخابات سے متعلق جوکچھ بھی ہوا ہے‘ اس کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے جس کا برملا اظہار اعتزاز احسن نے کیاہے۔ تاہم امریکی قرارداد سے موجودہ حکومت کی ساکھ پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ موجودہ حکومت پہلے ہی (اپنے ابتدائی 100دن کے اندر) عوام کے بنیادی معاشی وسماجی حالات میں بہتری نہیں لاسکی ہے۔ موجودہ وفاقی بجٹ اس بات کی غمازی کررہاہے کہ اس کو تشکیل دینے میں پاکستان کی وزارت خزانہ کا کوئی خاص کردار نہیں تھا‘ بلکہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جس نے پاکستانی عوام کو مزیدمعاشی دلدل میں دھکیل دیاہے اور ان کی پرچیزنگ پاور میں مزید کمی وقوع پذیر ہوئی ہے اور دوسری طرف پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے روزگار کے دروازے مسلسل بند ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں مایوسی کے ساتھ ساتھ بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہوا ہے۔
کیا پاکستان کے ارباب اختیار اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ 8فروری کوہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جو حکمت عملی تیار کی تھی ‘ وہ back fire کرگئی ہے؟اور پورے انتخابی عمل کو عوام کی نگاہوں میں متنازعہ بنادیاہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت اس دھاندلی زدہ انتخابات کو ذہنی طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ الیکشن کمیشن نے خود ہی 8فروری کے عام انتخابات کو اپنی ناقص حکمت عملی کے ذریعے متنازعہ بنادیاہے۔ اگر امریکہ جوہمارا اب بھی دوست ہے‘ اس سلسلے میں کوئی سوال اٹھارہا ہے تو اس میں برا ماننے کی کیا بات ہے۔ پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرناچاہیے بعد میں دوسروں کو برابھلا کہناچاہیے۔ ذرا سوچیئے