گندمی رنگ ،درازقد کہ ہزاروں کے مجمع میں سب سے نکلتا ہوا،رخساروں پر گوشت کم،ڈاڑھی گھنی، مونچھیں بڑی ،سامنے سے سر کے بال اڑے ہوئے۔یہ تھاسراپاسیدناعمرفاروقکا۔نہایت معمولی اور سادہ پہنا کرتے تھے،گلے میں قمیص ،سر پر عمامہ یا ٹوپی رکھتے، جوتاعربی وضع کا تسمہ دار ہوا کرتا ،عموما ًکپڑوں میں پیوند لگے ہوئے موٹے کپڑے پہنتے ،باریک کپڑے سے سخت نفرت تھی۔لباس کی طرح غذا بھی سادہ ہوا کرتی تھی ۔ عام طور پر گیہوں کی روٹی اور زیتون کا تیل کھایا کرتے تھے۔ قحط کے ایام میں جو کی روٹی پر قناعت کرتے ۔ کبھی کبھی گوشت ،ترکاری یا سرکہ بھی معمولی خوراک کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ کے دسترخوان پر ہوا کرتا ۔ طرزِ معاشرت نہایت سادہ اور غریبانہ تھی ۔ سفر،حضر، جلوت، خلوت، مکان اور بازار میں کوئی شخص آپ کو کسی علامت سے نہیں پہچان سکتا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ وقت اور امیر المومنین ہیں۔ قیصروکسریٰ کے ایلچی اورقاصدمسجد نبویؐ میں آکر ڈھونڈتے اور پوچھتے تھے کہ خلیفہ وقت کہاں ہیں؟حالانکہ آپ پھٹے پرانے پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنے وہیں بیٹھے ہوتے تھے۔
ایک مرتبہ تقریباًپچاس انصارومہاجرین کی اتفاق رائے سے قرار پایا کہ حق تعالیٰ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر قیصر وکسریٰ کے ممالک اور مشرق ومغرب کی حکومتیںفتح کر ادیں عرب وعجم کے قاصد آپ رضی اللہ عنہ کے حضور میں حاضر ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی بارہ پیوند لگی ہوئی کملی کو دیکھ کر کیا خیال کرتے ہوں گے۔ اس لئے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا جائے کہ وہ عمدہ کپڑے پہنیں اور اپنے دستر خوان کو وسیع فرمائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بات چیت کے لئے منتخب کیا گیا۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ ان کا مشورہ سن کر رو پڑے اور فرمایا ’’میرے آقا ئے نامدار سرور کائنات ﷺنے کبھی گیہوں کی روٹی کی صورت نہ دیکھی، کبھی ان کو دونوں وقت کا کھانا میسر نہ ہوا ،کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا۔ وہ ہمیشہ پھٹے پرانے کپڑے پہنتے تھے ۔ ان کا جبہ ایسا تھا جس کی سختی سے کئی دفعہ جسم مبارک چھل جاتا تھا۔ کبھی نرم بستر پر نہیں سوئے،حالانکہ آپ ﷺ سراپا رحمت تھے۔ مگر اس کے باوجود بھوک،بیداری،رکوع، سجود اور گریہ وزاری میں رات دن گزارتے تھے ۔ اس لئے عمرؓ نہ اچھا کھائے گا نہ اچھے کپڑے پہنے گا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں مسجد کے احترام اور نمازیوں کے آرام کی خاطر پرنالے کو اکھڑوا دیا۔ حضرت عباسؓ اتفاقاً اس وقت موجود نہیں تھے۔ حضرت عباسؓ باہر سے واپس آئے تو یہ دیکھ کر نہایت غصہ ہوئے اور فوراً قاضی شہر کے ہاں خلیفہ وقت پر دعویٰ دائر کر دیا اس پر حضرت سیدالانصارابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دنیا کے سب سے بڑے حکمران کے نام فرمان جاری کر دیا کہ آپ کے خلاف حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب نے مقدمہ دائر کیا ہے اور انصاف چاہا ہے آپ رضی اللہ عنہ حاضر ہو کر مقدمے کی پیروی کریں۔ کوئی معمولی حاکم یا بادشاہ ہوتا تو اس طلبی کو اپنی سخت توہین سمجھتا مگر عرب وعجم کا شہنشاہ نہایت سادگی کے ساتھ تاریخ مقررہ پر حضرت ابی بن کعب کے مکان پر حاضر ہو گیا ۔اندر آنے کی اجازت بہت دیر میں ملی کیونکہ حضرت ابی بن کعبؓ نہایت مصروف تھے۔ اتنی دیر حضرت امیر المومنین باہر کھڑے انتظار کرتے رہے۔مقدمہ پیش ہوا تو حضرت فاروق اعظم ؓخلیفہ وقت نے کچھ کہنا چاہا مگر فاضل منصف نے روک دیا اور فرمایا مدعی کا حق ہے کہ اپنا دعویٰ پہلے پیش کرے مہربانی فرما کر آپ خاموش رہیں۔ بات قاعدہ کی تھی امیر المومنین چپ ہو گئے اور مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔حضرت عباس ؓنے بیان دیا جناب میرے مکان کا پرنالہ شروع سے مسجد نبویؐ کی طرف تھا حضرت ابوبکر ؓکے عہد میں بھی اسی جگہ رہا مگر اب امیر المومنین نے اسے اکھاڑ کر پھینک دیا جس سے میر انقصان بھی ہوا اور مجھے بے حد تکلیف بھی پہنچی میری عرض ہے کہ مجھ سے انصاف کیا جائے۔حضرت ابی بن کعبؓ نے فرمایا بے شک آپ سے انصاف کیا جائے گا۔فرمایئے امیرالمومنین آپ صفائی میں کیا کہنا چاہتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پرنالہ میں نے ہی اکھڑوایا ہے اور میں ہی اس کا ذمہ دار ہوں۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ وجہ بتائیں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے محترم ابوالطفیل! پرنالے میں سے بعض اوقات پانی آتا تھا تو چھینٹے اڑ کر نمازیوں پرگرتے اور اس معاملے میں ،میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کوئی ناجائز بات نہیں کی۔ابی بن کعب بولے،ابوالفضل!(حضرت عباسؓ کی کنیت) آپ اس کے جواب میں کیا کہنا چاہتے ہیں۔حضرت عباسؓ ، بات یہ ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے خود اپنی چھڑی مبارک سے زمین پر نشانات قائم کیے اور میں نے انہی نشانات پر اپنا مکان بنایا جب مکان بن چکا تو یہ پرنالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم سے یہاں رکھوایا اور فرمایامیرے کندھوں پر کھڑے ہو جائو اور پرنالہ یہیں لگا دو ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کھڑے ہو گئے اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ سلم کے ارشاد مبارک کی تعمیل کرتے ہوئے حضورﷺ کے کندھے پر چڑھ کر یہ پرنالہ یہاں لگا دیا جہاں سے اب امیر المومنین نے اسے اکھاڑ دیا ہے۔ ابی بن کعبؓ نے حضرت عباسؓ سے اس واقعہ پر گواہ طلب کیئے ۔ حضرت عباسؓ باہر نکلے اور چند انصاریوں کو تلاش کرکے لائے،جنہوں نے اس واقعہ کی شہادت دی ۔گواہی ختم ہوتے ہی دنیا کا سب سے بڑا حکمران جو اب تک نگاہیں نیچی کرکے کھڑا تھا آگے بڑھا اور حضرت عباس ؓسے کہنے لگا،اے ابوالفضل!خدا کے لئے میر اقصور معاف فرمادیجئے،مجھے ہرگز علم نہ تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ نے خودپرنالہ یہاں لگوا یا تھا ورنہ بھول کر بھی مجھ سے یہ فعل سرزد نہ ہوتا۔ جو کچھ ہوالاعلمی میں ہوا اور اب اس کی تلافی اسی طرح ہو سکتی ہے کہ آپ میرے کندھوں پر چڑھ کر پرنالہ کو اپنی جگہ پرلگا دیں۔ تھوڑی دیر بعد لوگوں نے دیکھا کہ قیصروکسریٰ جیسے بادشاہوں کو شکست دینے والا جرنیل نہایت مسکینی کے ساتھ دیوار کے نیچے کھڑا ہے اور حضرت عباس ؓ ان کندھوں پر چڑھ کر پرنالہ اسی جگہ لگا رہے ہیں۔د
مغیرہ بن شعبہ کے عجمی غلام فیروز نے جس کی کنیت ابولولوتھی صبح کی نماز کے وقت جب آپ رضی اللہ عنہ امامت کرانے لگے تو گھات سے نکل کر خنجر کے چھ سات وار کئے اور آپ رضی اللہ عنہ وہیں گر گئے۔ تین دن بعدیکم محرم الحرام ۴۲ھ کودارفانی سے رحلت فرمائی۔