Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

سیرۃالنبیﷺاور مزدوروں کے حقوق

ہماری آج کی نشست کا عنوان ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور مزدوروں کے حقوق‘‘ اس حوالے سے دو تین اصولی باتیں عرض کروں گا۔
پہلی بات یہ کہ مزدور کسے کہتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں اشیا اور صلاحیتوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو ہمارا نظام چلتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری ضروریات خود پوری نہیں کر سکتا، کوئی ضرورت کوئی بندہ پوری کرتا ہے، دوسری ضرورت کوئی اور پوری کرتا ہے۔ ایک آدمی کہے کہ میں گھر بھی خود بنا لوں گا، غلہ بھی خود اگا لوں گا، دروازے بھی خود بنا لوں گا، زمین سے پانی بھی خود نکال لوں گا، جانور بھی خود چرا لوں گا، تو یہ ممکن نہیں ہے۔ ایک آدھ کام خود کرے گا اور باقی کاموں میں دوسروں کی خدمت لے گا۔ انسان کی فطرت ہے کہ کسی کام میں، جو یہ جانتا ہے، دوسروں کا تعاون کرے گا اور دوسروں سے اپنے کاموں میں تعاون حاصل کرے گا۔ مثلاً ایک آدمی بکریاں چراتا ہے تو بکریاں چرانے کے کام میں تعاون کرے گا اور باقی کاموں میں تعاون لے گا۔ کسی سے غلہ لے گا، کسی سے کپڑے لے گا وغیرہ۔ تبادلہ اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر ہمارا سارا نظام چلتا ہے۔ اگر سارے لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں کہ ہم اپنا اپنا کام کریں تو کتنے دن تک گزارا کر لیں گے، چوبیس گھنٹے بھی اس کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا کہ ہمارا سارا نظام اس پر ہے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ تبادلے اور تعاون کی دو صورتیں ہیں:
ایک ہے چیزوں کا تبادلہ، مثلاً دودھ دے دیا، غلہ لے لیا۔ پرانے زمانے میں دکانداری زیادہ تر گندم اور مونجی پر چلتی تھی کہ دکان پر مونجی دے آئے اور دال لے آئے، باجرہ دے آئے اور مولیاں لے آئے، گندم دے آئے اور گڑ لے آئے۔ اب بھی دور دراز دیہات میں یہ چلتا ہے۔ کوئی چیز دے کر دوسری چیز لینے کو تجارت کہتے ہیں، اسی طرح پیسے دے کر چیز لینا بھی تجارت ہے کیونکہ پیسے بھی کسی چیز کے نمائندے ہیں۔
دوسری صورت یہ کہ اگر مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے اور میرے پاس اس کے عوض دینے کے لیے کوئی چیز یا پیسے نہیں ہیں تو میں کوئی خدمت و محنت کروں گا اور اس کے عوض میں وہ چیز لوں گا۔ یہ ہے مزدوری، جیسے گندم کی کٹائی کرتے ہیں اور معاوضہ میں گندم لیتے ہیں۔ اجرت پر کام کرنا مزدوری ہے اور ساری دنیا کا دارومدار اس پر ہے۔
دوسری بات یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سارے پیغمبر اپنے اپنے دور میں مزدور رہے ہیں۔ یہ حقیر پیشہ نہیں ہے، انبیاء کا پیشہ ہے۔ فرمایا، ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں، کوئی پیغمبر ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ موسٰی علیہ السلام نے دس سال حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرائیں اور پھر وہاں سے رشتہ بھی مل گیا تھا۔ انہوں نے جو آٹھ یا دس سال خدمت کی اور بکریاں چرائیں، یہ مزدوری تھی۔ اس کا مطلب یہ کہ ہر پیغمبر نے مزدوری کی۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ بکریاں چرانا بہت مشکل کام ہے اور بندوں کو چلانا اس سے بھی مشکل کام ہے۔ بھیڑیں چرانا آسان ہے کہ ایک بھیڑ کو جدھر لے جائیں باقی ساری اس کے پیچھے ہی آئیں گی، جبکہ بکریاں چر رہی ہوں تو ہر بکری علیحدہ رخ پر ہو گی۔ بیس بکریاں سنبھالنا مشکل ہوتا ہے اور سو بھیڑیں سنبھالنا آسان ہے۔ اللہ تعالٰی پیغمبروں کو پہلے بکریوں کی ٹریننگ کراتے ہیں تاکہ بندوں کو صحیح سنبھال سکیں کیونکہ بندوں کے مزاج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جب آپؐ نے یہ فرمایا کہ ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں تو ایک صحابی نے عرض کیا ’’وانت یارسول اللہ؟‘‘ یا رسول اللہ! آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں میں کئی سال مکہ میں فلاں قبیلے کے بکریاں چند پیسوں کے عوض چراتا رہا ہوں۔ گویا فرمایا یہ کوئی حقارت والا کام نہیں ہے، عزت والا کام ہے۔
حضورؐ نے پیغمبروں کا سردار ہو کر مزدوری کی اور حضرت داؤد علیہ السلام بادشاہ ہو کر مزدوری کرتے رہے ہیں۔ وہ زرہیں بناتے تھے اور زرہوں کی کمائی پر گھر کا خرچہ چلتا تھا، شاہی خزانے سے لینا ان کا حق تھا لیکن وہ اس سے نہیں لیتے تھے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ ہم نے بطور خاص ان کو ایک ہنر سکھایا تھا ’’علمنٰہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم‘‘ ہم نے داؤدؑ کو زرہیں بنانا سکھایا تھا۔ زرہیں بنا کر بیچتے تھے اور گھر کا خرچہ چلاتے تھے۔ یعنی بنی اسرائیل کے بڑے خلیفہ حضرت داؤدؑ مزدوری کرتے رہے، جبکہ مسلمانوں کے بڑے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ جب خلیفہ بنے تو دوسرے دن کپڑوں کی گٹھری سر پر اٹھائی اور بیچنے بازار چل دیے۔ آپؓ پھیری لگایا کرتے تھے، کپڑا بنتے بھی تھے اور بیچتے بھی تھے۔ راستے میں حضرت عمرؓ ملے۔ پوچھا، حضرت! کدھر جا رہے ہیں؟ فرمایا کام پر جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا، آپ کام پر جائیں گے تو پیچھے مقدمے کون سنے گا؟ کسی ملک کا سفیر آجائے تو وہ کس سے ملے گا؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا، اگر میں کام نہ کروں گا تو شام کو بچوں کو کیا کھلاؤں گا؟ حضرت عمرؓ نے کہا، میں اس کا حل نکالتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے بڑے بڑے صحابہؓ کو اکٹھا کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ اگر خلیفۃ المسلمین محنت و مزدوری کا کام کریں گے تو حکومت کے کام کون کرے گا اور اگر آپؓ حکومتی کاموں کے لیے یہاں بیٹھ جاتے ہیں تو وہ شام کو کھانا کہاں سے کھائیں گے؟ اس کا کوئی بندوبست ہونا چاہیے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت علیؓ نے مشورہ دیا کہ یہ جب ہمارا کام کریں گے، امت کا کام کریں گے، تو ہم امت کے خزانے بیت المال میں سے انہیں تنخواہ دے دیا کریں گے۔ اس کو ملازمت کہتے ہیں، اس سے حکمران کی تنخواہ طے ہو گئی۔
انبیاء بھی مزدوری کرتے رہے ہیں، خلفاء بھی مزدوری کرتے رہے ہیں اور ہندوستان کے مغل بادشاہوں میں بڑے بادشاہ اورنگزیب گزرے ہیں، پچاس سال انہوں نے حکومت کی ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، برما، افغانستان، اور چین کا مغربی حصہ ان کے زیرنگیں تھا اور موبائل فون کے بغیر اس سارے علاقے پر اورنگزیب نے حکومت کی ہے کہ جہاں اطلاع ملے وہاں خود جانا پڑتا تھا۔ اگرچہ شاہی خزانہ تھا، مغلوں کے پاس بہت بڑی دولت تھی، لیکن اورنگزیب خود دو کام کرتے تھے، ایک قرآن پاک لکھتے تھے اور اس کا معاوضہ لیتے تھے۔ میں نے اورنگزیب عالمگیر کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن کریم کا نسخہ لندن کے میوزیم میں دیکھا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں